مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ ویکسین لگوانے سے ہچکچاہٹ دنیا سے خسرے کے مکمل خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک میں اس رجحان میں اضافے پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ ویکسین کی دستیابی سے پہلے 1960 کی دہائی میں خسرہ ہر سال تقریباً 20 لاکھ بچوں کی جان لیتا تھا۔ ویکسین کے استعمال کے بعد اس بیماری سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی آئی۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2024 میں خسرے سے تقریباً 95 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچے تھے۔ بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کم از کم 95 فیصد آبادی کی ویکسینیشن ضروری ہے۔ تاہم 2025 میں دنیا بھر میں بچوں کو خسرے کی پہلی ویکسین لگانے کی شرح 84 فیصد رہی۔
بل گیٹس نے کہا کہ کم آمدنی والے ممالک میں صحت اور ویکسینیشن پروگرام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ عالمی صحت کے لیے مالی امداد برقرار رکھی جائے۔