ہیموگلوبن نارمل ہونے کے باوجود جسم میں آئرن کی کمی ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق فریٹن ٹیسٹ جسم میں آئرن کے ذخیرے کا اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے۔
آئرن کی کمی سے تھکن، کمزوری، بال گرنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ علامات دیگر وجوہات سے بھی ہوسکتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر آئرن کی کمی کی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق فریٹن جسم میں آئرن کے ذخیرے کا اہم پیمانہ ہے۔ تاہم انفیکشن یا سوزش کی صورت میں اس کی سطح بڑھ سکتی ہے، اس لیے ٹیسٹ کے نتائج کی درست تشریح ضروری ہے۔
آئرن کی کمی کی عام وجوہات میں خوراک سے مناسب آئرن نہ ملنا، زیادہ خون بہنا اور آئرن کا مناسب جذب نہ ہونا شامل ہیں۔ وٹامن سی سے بھرپور غذائیں آئرن کے جذب میں مدد دیتی ہیں۔ کھانے کے ساتھ چائے یا کافی پینے سے یہ جذب کم ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بغیر طبی مشورے کے آئرن سپلیمنٹس نہیں لینے چاہئیں۔ آئرن کی کمی کی اصل وجہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔