سائنس دانوں نے بچوں میں دل کے پیدائشی نقائص کی ایک اہم ممکنہ وجہ دریافت کی ہے۔ تحقیق میں خلیوں کے ایسے نظام کی نشاندہی ہوئی ہے جو دل کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین کے مطابق یہ نظام خلیوں کی سطح پر موجود ایک نہایت باریک ساخت میں کام کرتا ہے۔ یہ اردگرد سے آنے والے سگنلز وصول کرکے دل کی تشکیل کے لیے ضروری ہدایات پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔ بعض جینیاتی تبدیلیاں اس عمل میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
محققین نے جینیاتی معلومات کے ساتھ انسانی خلیوں، زیبرا فش اور چوہوں پر تجربات کیے۔ نتائج سے اس نظام اور دل کی درست تشکیل کے درمیان تعلق سامنے آیا۔ اس میں خرابی بعض جینیاتی بیماریوں میں دماغ، ہڈیوں اور دیگر اعضاء کی نشوونما کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
دل کی پیدائشی بیماری دنیا بھر میں تقریباً ہر 100 میں سے 2 نومولود بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ ہر سال تقریباً 23 سے 25 لاکھ بچے اس کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق یہ دریافت ایسے بچوں کی جلد شناخت اور بہتر علاج پر تحقیق میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم فی الحال اس بنیاد پر کوئی نیا علاج دستیاب نہیں۔ تحقیق پی ایل او ایس بائیالوجی میں شائع ہوئی۔