حمل اور سفری احتیاطیں

حمل اور سفری احتیاطیں

رحم میں پرورش پاتے بچے کے تحفظ کی خاطراکثرخواتین دوران حمل سفر سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم اگرسفرکرنا ضروری ہو تو کیا احتیاطیں ملحوظِ خاطررکھنی چاہئیں؟ اس سے قبل جانتے ہیں کہ خواتین سفر کریں بھی یا نہیں؟

تین سہہ ماہیاں

حمل کو دورانئے کے حساب سے تین سہ ماہیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے

٭پہلی سہ ماہی میں اکثرخواتین کو متلی اور تھکن کی شکایت رہتی ہے۔ نیزاس میں حمل کے گرنے یا رحم سے باہریعنی فیلوپین ٹیوب میں ہونے کے امکانا ت بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے اگراس سہ ماہی میں سفرکرنا چاہتی ہیں تو پہلے معائنہ کروا لیں۔

٭حاملہ خواتین کے لئے سفرکا موزوں عرصہ دوسری سہ ماہی یعنی 13 سے 27 واں ہفتہ ہے۔ اگرکسی پیچیدگی کا سامنا نہ ہوتو وہ کچھ احتیاطوں کے ساتھ سفرکرسکتی ہیں۔

٭تیسری سہ ماہی میں بچے کی قبل ازوقت پیدائش کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ اس دوران بچے کا سائز بھی کافی بڑھ چکا ہوتا ہے اورمتوقع خواتین کے لئے زیادہ دیرتک بیٹھ کر سفرکرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود سفرکرنا منع نہیں‘ تاہم ضروری ہے کہ اپنی معالج سے مشورہ  کرلیں۔

کب سفر نہ کریں

٭بازوؤں‘ ہاتھوں‘ ٹانگوں‘ تلوؤں اورآنکھو ں کے گرد سوجن ہوجائے تو یہ ہائی بلڈپریشر کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسی کیفیت میں بہتر ہے کہ سفرنہ کریں۔

٭پیٹ میں شدید مروڑپیدا ہوں اورخون آئے تو یہ حمل گرنے یا بچے کی قبل ازوقت پیدائش کی علامات ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ علامات آنول یعنی پلیسنٹا کے رحم سے الگ ہونے کی بھی ہوسکتی ہیں۔ ایسے میں سفرسے گریز کرنا چاہیے۔

٭بچے کی حرکت کے معمول میں غیرمعمولی تبدیلی خطرے کی علامت ہے۔ ایسے میں سفرسے گریزکریں اورفوری طورپر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

دورانِ سفراحتیاطیں

٭سفر کے لئے آرام دہ جوتوں اورکپڑوں کا انتخاب کریں۔

٭اگرحمل کی تیسری سہ ماہی میں سفرکررہی ہیں اورمتوقع تاریخ بھی قر یب ہے تو اس بات کو مد ِنظر رکھیں کہ جہاں آپ جا رہی ہیں‘ وہاں زچگی کی تمام سہولیات موجود ہیں یا نہیں۔ اپنا طبی ریکارڈ ہمیشہ پاس رکھیں۔

٭اگراپنی گاڑی پرسفرکر رہی ہیں تو اکیلے سفرنہ کریں۔ ہچکولے دار یا ناہموار سڑک پر گاڑی آہستہ چلائیں۔ طویل سفرکرنا ہو تو آرام کے لئے ضروررکیں۔

٭پبلک ٹرانسپورٹ پرسفر کرنا ہو تو کسی اچھی سروس کا انتخاب کریں۔

٭کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پاس رکھیں۔ دوران سفر پانی کا مناسب استعمال بھی لازمی کریں۔

٭تھوڑی دیرچلنے سے کمرپردباؤ کم ہوجاتا ہے اورٹانگوں کی اینٹھن بھی دورہوجاتی ہے۔ اس لئے ممکن ہوتو گاڑی روک کر یا پبلک ٹرانسپورٹ میں ہیں تو جب گاڑی رکے واک کرلیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

LEAVE YOUR COMMENTS