Vinkmag ad

ٹو واکنگ: بچوں کا پنجوں کے بل چلنا

Baby walking on toes, showing toe walking commonly seen in young children learning to walk

چلنا سیکھنے والے بچوں میں پنجوں کے بل چلنے کو ٹو واکنگ (Toe walking) کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ عادت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے، تاہم کچھ بچے تین سال کی عمر کے بعد بھی عادتاً پنجوں کے بل چلتے رہتے ہیں۔ اگر بچے کی نشوونما معمول کے مطابق ہو تو عموماً یہ تشویش کاباعث نہیں ہوتا، تاہم بعض اوقات ٹو واکنگ کا تعلق کسی سنگین طبی مسئلے سے بھی ہو سکتا ہے۔

علامات

بچے کا پنجوں کے بل چلتا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر بچہ دو سال کی عمر کے بعد بھی پنجوں کے بل چلتا ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ اگر ٹانگوں کے پٹھوں میں کھچاؤ، اکیلیز ٹینڈن میں سختی یا جسمانی حرکات میں ہم آہنگی کی کمی ہو تو اس سے پہلے ہی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اکیلیز ٹینڈن پاؤں کی ایڑی کے پچھلے حصے میں موجود ایک مضبوط ٹینڈن ہے، جو پنڈلی کے پٹھوں کو ایڑی کی ہڈی سے جوڑتا ہے۔ یہ چلنے، دوڑنے، چھلانگ لگانے اور پنجوں کے بل کھڑے ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وجوہات

عام طور پر ٹو واکنگ ایک عادت ہوتی ہے جو چلنا سیکھنے کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ بہت کم صورتوں میں اس کی وجہ کوئی بنیادی طبی مسئلہ ہوتا ہے۔ اس کی طبی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:

اکیلیز ٹینڈن کا چھوٹا ہونا: اگر یہ بہت چھوٹا ہو تو ایڑی زمین کو نہیں چھو پاتی

سیریبرل پالسی: یہ کیفیات کا ایک مجموعہ ہے جو جسمانی حرکت اور پوسچر کو متاثر کرتا ہے

مسکولر ڈسٹروفی: اس جینیاتی بیماری میں پٹھے وقت کے ساتھ کمزور پڑتے جاتے ہیں۔ اگر بچہ پہلے معمول کے مطابق چلتا تھا اور بعد میں پنجوں کے بل چلنے لگا ہو تو اس بیماری کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر: آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر والے بعض بچوں میں پنجوں کے بل چلنا بھی دیکھا جاتا ہے۔ تاہم صرف پنجوں کے بل چلنا آٹزم کی تشخیص کے لیے کافی نہیں ہوتا

خطرے کے عوامل

عادتاً پنجوں کے بل چلنے کو آئیڈیوپیتھک ٹو واکنگ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بعض خاندانوں میں ایک سے زیادہ افراد میں دیکھا جاتا ہے۔

پیچیدگیاں

مسلسل پنجوں کے بل چلنے سے پاؤں کی ساخت میں مستقل تبدیلیاں آ سکتی ہیں اور بچے کے گرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے بچے کو سماجی سطح پر منفی رویوں کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

تشخیص

جسمانی معائنے کے دوران ڈاکٹر بچے کے چلنے کے انداز کا مشاہدہ کرتا ہے۔ بعض اوقات الیکٹرومایوگرافی (ای ایم جی) بھی کی جاتی ہے۔

ای ایم جی کے دوران الیکٹروڈ والی ایک باریک سوئی ٹانگ کے پٹھے میں داخل کی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے متاثرہ عصب یا پٹھے کی برقی سرگرمی کی پیمائش کی جاتی ہے۔

اگر سیریبرل پالسی یا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر جیسی کسی کیفیت کا شبہ ہو تو اعصابی معائنہ یا بچے کی نشوونما میں تاخیر جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔

علاج

اگر بچہ عادتاً پنجوں کے بل چلتا ہے تو عموماً علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ عادت وقت کے ساتھ ختم ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی جسمانی مسئلہ ٹو واکنگ کی وجہ ہو تو علاج میں یہ طریقے شامل ہو سکتے ہیں:

٭ فزیو تھراپی

٭ لیگ بریسز یا سپلنٹس

٭ سیریل کاسٹنگ، یعنی گھٹنے سے نیچے یکے بعد دیگرے کاسٹ لگانا

٭ بوٹاکس پٹھوں میں بوٹاکس کے انجیکشن لگانا

٭ اگر دیگر علاج مؤثر نہ ہوں تو ٹانگ کے نچلے حصے کے پچھلے پٹھوں یا ٹینڈنز کو لمبا کرنے کے لیے سرجری

اگر ٹو واکنگ کا تعلق سیریبرل پالسی، آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر یا کسی دوسرے مسئلے سے ہو تو علاج میں اسے بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا پنجوں کے بل چلنا فیملیز میں بھی ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ عادتاً یا آئیڈیوپیتھک ٹو واکنگ بعض خاندانوں میں ایک سے زیادہ افراد میں دیکھی جاتی ہے۔

اگر بچہ پہلے معمول کے مطابق چلتا تھا اور بعد میں پنجوں کے بل چلنے لگا ہو تو کیا یہ اہم ہے؟

پہلے معمول کے مطابق چلنے کے بعد ٹو واکنگ شروع ہونا بعض بنیادی طبی مسائل، مثلاً مسکولر ڈسٹروفی کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے۔

ٹو واکنگ کی تشخیص کے لیے ای ایم جی کیوں کیا جاتا ہے؟

ای ایم جی متاثرہ نرو یا پٹھے کی برقی سرگرمی کی پیمائش کرتا ہے۔ بعض بچوں میں یہ ٹو واکنگ کی وجہ جانچنے میں مدد دیتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=peads-neurologist

Vinkmag ad

Read Previous

پالتو جانور ساتھ سلانے والوں میں بے خوابی کی شرح زیادہ

Read Next

آسٹریلیا میں نایاب کیس، سٹیج فور سکن کینسر غیر متوقع طور پر ختم

Leave a Reply

Most Popular