تھائیرائیڈیکٹومی (Thyroidectomy) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں تھائی رائیڈ گلینڈ کو مکمل طور پر یا اس کا کچھ حصہ نکالا جاتا ہے۔ یہ غدود ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو جسم کے میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں، یعنی توانائی کے استعمال کی رفتار اور دل کی دھڑکن جیسے اہم افعال کو منظم کرتے ہیں۔
ماہرین یہ سرجری تھائی رائیڈ کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے کرتے ہیں، جن میں تھائی رائیڈ کینسر، گوئٹر (غیر سرطانی بڑھوتری) اور ہائپر تھائی رائیڈزم (زیادہ فعال تھائی رائیڈ) شامل ہیں۔
سرجری میں نکالے جانے والے حصے کا انحصار مریض کی حالت اور بیماری کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ جزوی تھائیرائیڈیکٹومی میں صرف ایک حصہ نکالا جاتا ہے اور اکثر صورتوں میں باقی غدود اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ مکمل تھائیرائیڈیکٹومی کی صورت میں پورا غدود نکال دیا جاتا ہے، جس کے بعد مریض کے لیے روزانہ تھائیرائیڈ ہارمون کی دوا لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
تھائیرائیڈیکٹومی درج ذیل صورتوں میں تجویز کی جا سکتی ہے:
٭ تھائی رائیڈ کینسر، جو اس سرجری کی سب سے عام وجہ ہے
٭ بڑا گوئٹر، جو سانس لینے یا نگلنے میں مشکل پیدا کر سکتا ہے اور بعض اوقات ہارمون کی زیادتی کا سبب بنتا ہے
٭ ہائپر تھائی رائیڈزم، جس میں غدود زیادہ تھائروکسین بناتا ہے اور اگر ادویات یا ریڈیوایکٹو آئیوڈین مؤثر نہ ہوں تو سرجری کی جاتی ہے
٭ مشکوک تھائی رائیڈ نوڈولز، جن میں بایوپسی کے باوجود واضح تشخیص ممکن نہ ہو سکے
خطرات
اگرچہ یہ سرجری عمومی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے، تاہم کچھ پیچیدگیاں ممکن ہیں:
٭ خون بہنا، جو بعض اوقات سانس کی نالی میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے
٭ انفیکشن
٭ پیرا تھائی رائیڈ گلینڈز کو نقصان، جس سے کیلشیم کی سطح کم ہو سکتی ہے
٭ آواز کی مستقل خرابی، جو اعصابی نقصان کی وجہ سے ہو سکتی ہے
سرجری کی تیاری
٭ بعض مریضوں کو سرجری سے پہلے ادویات دی جاتی ہیں، خاص طور پر ہائپر تھائیرائیڈزم میں تاکہ غدود کی سرگرمی اور خون بہنے کا خطرہ کم ہو
٭ سرجری سے پہلے کچھ وقت کے لیے کھانا پینا بند کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے
٭ مریض کو گھر واپسی کے لیے کسی کو ہمراہ لانے کا انتظام کرنے اور قیمتی اشیاء ساتھ نہ لانے کا مشورہ دیا جاتا ہے
سرجری سے پہلے
٭ مریض کو جنرل اینستھیزیا کے ذریعے بے ہوش کیا جاتا ہے
٭ سانس برقرار رکھنے کے لیے ونڈ پائپ میں ٹیوب ڈالی جاتی ہے
٭ دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور آکسیجن لیول کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے
سرجری کے دوران
سرجن گردن کے نچلے حصے میں کٹ لگاتا ہے، جو اکثر جلد کی قدرتی تہہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ نشان کم نمایاں ہو۔
٭ بیماری کے مطابق تھائیرائیڈ کا کچھ حصہ یا مکمل غدود نکالا جاتا ہے
٭ کینسر کی صورت میں قریبی لمف نوڈز بھی معائنہ یا نکالے جا سکتے ہیں
٭ یہ سرجری عموماً 1 سے 2 گھنٹے تک جاری رہتی ہے
سرجری کے طریقے
روایتی تھائیرائیڈیکٹومی: گردن میں کٹ لگا کر براہ راست رسائی، یہ سب سے عام طریقہ ہے
ٹرانس اورل تھائیرائیڈیکٹومی: منہ کے اندر سے رسائی
اینڈوسکوپک تھائیرائیڈیکٹومی: چھوٹے کٹس اور کیمرے کے ذریعے سرجری
سرجری کے بعد
٭ مریض کو ریکوری روم میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں اس کی حالت کی نگرانی کی جاتی ہے
٭ کچھ مریضوں میں زخم کے نیچے ڈرین لگایا جاتا ہے جو عموماً اگلے دن نکال دیا جاتا ہے
٭ گردن میں درد یا آواز کا بیٹھ جانا عموماً عارضی ہوتا ہے
٭ زیادہ تر مریض ایک دن میں گھر جا سکتے ہیں یا ایک رات ہسپتال میں رہتے ہیں
٭ نارمل سرگرمیاں بحال کی جا سکتی ہیں، تاہم 10 سے 14 دن تک سخت جسمانی کام سے پرہیز ضروری ہے
زخم کا نشان مدھم ہونے میں تقریباً ایک سال لگ سکتا ہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=general-surgeon