Vinkmag ad

ٹی اے وی آر: اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر ایورٹک والو کی تبدیلی

Surgeons preparing for a transcatheter aortic valve replacement (TAVR) procedure in an operating room

ٹی اے وی آر (TAVR)، یعنی ٹرانس کیتھیٹر ایورٹک والو ری پلیسمنٹ میں دل کے تنگ اور ناکارہ ایورٹک والو کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ ایورٹک والو دل کے بائیں نچلے خانے اور جسم کی مرکزی شریان کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ جب یہ والو تنگ ہو جائے تو اسے ایورٹک والو سٹینوسس کہا جاتا ہے۔ اس کے باعث خون کا بہاؤ متاثر ہو جاتا ہے، اور جسم کو مناسب مقدار میں خون نہیں مل پاتا۔

اس پروسیجر میں اوپن ہارٹ سرجری کے مقابلے میں چھوٹے کٹ لگائے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ ان مریضوں کے لیے مؤثر متبادل ہے جن کی صحت اوپن ہارٹ سرجری کی اجازت نہیں دیتی۔ اس علاج سے سینے میں درد، سانس کی کمی اور دیگر علامات میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ اسے بعض اوقات ٹرانس کیتھیٹر ایورٹک والو امپلانٹیشن (ٹی اے وی آئی) بھی کہا جاتا ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

ٹی اے وی آر بنیادی طور پر ایورٹک والو سٹینوسس کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بیماری میں والو موٹا، سخت اور تنگ ہو جاتا ہے جس کے باعث خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ اس علاج کے بعد مریض عموماً کم مدت میں ہسپتال سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ٹی اے وی آر کی تجویز درج ذیل حالات میں دے سکتے ہیں:

٭ شدید ایورٹک والو سٹینوسس جس کے ساتھ سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری ہو

٭ ایسا پرانا بائیولوجیکل والو جو اپنی کارکردگی کھو چکا ہو

٭ دیگر بیماریوں مثلاً پھیپھڑوں یا گردوں کے مسائل کی وجہ سے اوپن ہارٹ سرجری خطرناک ہو سکتی ہو

خطرات

دل کی دیگر سرجریز کی طرح ٹی اے وی آر کے بھی کچھ ممکنہ خطرات ہوتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ خون بہنا

٭ خون کی نالیوں کو نقصان پہنچنا

٭ نئے والو کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا یا اس میں سے مواد رسنا

٭ سٹروک

٭ دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی اور پیس میکر کی ضرورت

٭ گردوں کے افعال متاثر ہونا

٭ دل کا دورہ

٭ انفیکشن

٭ موت

سٹڈیز کے مطابق سٹروک اور اموات کا خطرہ ٹی اے وی آر اور اوپن ہارٹ سرجری، دونوں میں تقریباً یکساں پایا گیا ہے۔

پروسیجر کی تیاری

ٹی اے وی آر سے پہلے آپ کی میڈیکل ٹیم آپ کو مکمل ہدایات فراہم کرتی ہے۔ کسی بھی ابہام کی صورت میں ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔

علاج سے پہلے اپنی تمام ادویات، بشمول بغیر نسخے کی دواؤں اور سپلیمنٹس کے بارے میں اپنی ٹیم کو ضرور بتائیں۔ کسی بھی دوا سے الرجی ہو تو اس کی بھی اطلاع دیں۔ ڈاکٹر آپ کو بتائیں گے کہ کون سی دوائیں کب بند کرنی یا جاری رکھنی ہیں، اور پروسیجر سے قبل کھانا پینا کب ختم کرنا ہے۔

ذاتی اشیاء

ہسپتال جاتے وقت یہ اشیاء ساتھ لائیں:

٭ عینک، سماعتی آلہ یا دانتوں کا مصنوعی سیٹ وغیرہ

٭ ذاتی صفائی کی اشیاء

٭ آرام دہ اور ڈھیلا لباس

٭ کتاب یا وقت گزاری کے لیے دیگر چیزیں

علاج کے دوران یہ اشیاء استعمال نہ کریں:

٭ کانٹیکٹ لینز

٭ زیورات

٭ نیل پالش

٭ عینک اور دانتوں کے مصنوعی سیٹ (پروسیجر کے دوران)

طریقہ کار

پہلے

مریض کے ہاتھ یا بازو میں آئی وی لائن لگائی جاتی ہے جس کے ذریعے ادویات دی جاتی ہیں۔ درد سے بچاؤ کے لیے لوکل یا جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مریض کو نیم بے ہوشی کی حالت میں رکھا جاتا ہے۔ علاج سے پہلے جسم کے متعلقہ حصے کے بال صاف کیے جا سکتے ہیں۔

دوران

ڈاکٹر ایک باریک کیتھیٹر کے ذریعے خراب ایورٹک والو کو تبدیل کرتا ہے۔ نیا والو عموماً جانور کے دل کے ٹشو سے تیار کیا جاتا ہے۔ کیتھیٹر کو ران یا سینے کی بڑی شریان کے ذریعے دل تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایکسرے یا جدید امیجنگ سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔

نیا والو کیتھیٹر کے ذریعے پرانے والو کی جگہ پر لگایا جاتا ہے۔ بعض اوقات بیلون کے ذریعے اسے پھیلایا جاتا ہے تاکہ یہ درست جگہ پر فِٹ ہو جائے۔ اس کے بعد کیتھیٹر نکال دیا جاتا ہے اور ٹیم مریض کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔

بعد میں

علاج کے بعد مریض کو عموماً ایک رات آئی سی یو میں رکھا جاتا ہے تاکہ مکمل نگرانی کی جا سکے۔ کچھ مریض اسی دن یا اگلے دن گھر جا سکتے ہیں۔ ڈسچارج سے پہلے مریض کو زخم کی دیکھ بھال اور انفیکشن کی علامات کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ اہم علامات میں شامل ہیں:

٭ بخار

٭ درد میں اضافہ

٭ سوجن

٭ زخم سے رطوبت یا پیپ آنا

ممکنہ ادویات میں شامل ہو سکتی ہیں:

٭ خون پتلا کرنے والی ادویات، جو خون کے کلاٹ بننے سے روکتی ہیں

٭ اینٹی بائیوٹکس، جو انفیکشن سے بچاؤ یا علاج کے لیے دی جاتی ہیں

ڈاکٹر باقاعدہ چیک اپ اور ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں تاکہ نئے والو کی کارکردگی کو جانچا جا سکے۔ درج ذیل علامات ظاہر ہونے پر فوری رابطہ ضروری ہے:

٭ چکر آنا یا بے ہوشی

٭ ٹخنوں کی سوجن

٭ شدید تھکن

٭ زخم میں انفیکشن کی علامات

مندرجہ ذیل علامات کی صورت میں بلا تاخیر طبی مدد حاصل کریں:

٭ سینے میں درد یا دباؤ

٭ سانس لینے میں شدید دشواری

٭ اچانک بے ہوشی

نتائج

ٹی اے وی آر زیادہ تر مریضوں میں علامات کو کم کرتا ہے اور زندگی کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے صحت مند طرز زندگی اپنانا ضروری ہے۔ مثلاً:

٭ اگر تمباکو نوشی کرتے ہیں تو اسے ترک کریں

٭ پھل، سبزیاں اور کم چکنائی والی غذا کھائیں

٭ باقاعدہ ورزش کریں، لیکن ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق

٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں

یہ طرزِ زندگی دل کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے اور مستقبل کے پیچیدگیوں کے خطرات کو کم کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

ٹیلی سٹروک: فالج کے مریضوں کے لیے ٹیلی میڈیسن

Leave a Reply

Most Popular