پاخانے کا ڈی این اے ٹیسٹ (Stool DNA test) بڑی آنت کے کینسر کی ابتدائی علامات تلاش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سکریننگ کا ایک مؤثر طریقہ ہے جو کینسر اور ممکنہ خطرناک تبدیلیوں کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔
اس ٹیسٹ میں پاخانے کے نمونے کا تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ خلیوں کے جینیاتی مادے یعنی ڈی این اے میں تبدیلیاں دیکھی جا سکیں۔ اس کے ساتھ پاخانے میں چھپے ہوئے خون کی موجودگی کو بھی پرکھا جاتا ہے۔ اگر کسی غیر معمولی تبدیلی کا پتا چلے تو مزید تشخیصی ٹیسٹ، مثلاً کولونوسکوپی، کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
یہ ٹیسٹ ان افراد میں بڑی آنت کے کینسر کی سکریننگ کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں کوئی واضح علامات موجود نہیں ہوتیں۔ اس کا مقصد ان رسولیوں (پولپس) کی نشاندہی بھی ہے جو وقت کے ساتھ کینسر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
کینسر یا پولپس کی موجودگی میں غیر معمولی خلیے مسلسل پاخانے میں خارج ہوتے رہتے ہیں، جن میں ڈی این اے کی تبدیلیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں انتہائی کم مقدار میں ہوتی ہیں، اس لیے ان کی شناخت کے لیے حساس لیبارٹری ٹیسٹ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ ٹیسٹ بڑی آنت کے کینسر اور خطرناک پولپس کی مؤثر شناخت کر سکتا ہے۔ مثبت نتیجے کی صورت میں عام طور پر کولونوسکوپی کی جاتی ہے تاکہ اندرونی معائنہ کیا جا سکے۔
یہ ٹیسٹ عام طور پر درج ذیل افراد کے لیے تجویز نہیں کیا جاتا:
٭ جن میں بڑی آنت کے کینسر کی علامات موجود ہوں، جیسے مقعد سے خون آنا، پاخانے کے معمول میں تبدیلی، پیٹ کا درد یا آئرن کی کمی سے ہونے والا انیمیا
٭ جن کی پہلے بڑی آنت کے کینسر، پولپس یا سوزشی آنتوں کی بیماری کی ہسٹری ہو
٭ جن کی فیملی ہسٹری میں بڑی آنت کے کینسر یا پولپس ہو یا جینیاتی طور پر کینسر کا خطرہ زیادہ ہو
لمیٹیشنز
پاخانے کے ڈی این اے ٹیسٹ کی کچھ لمیٹیشنز بھی ہیں:
٭ بعض اوقات ٹیسٹ غلط طور پر کینسر کی موجودگی ظاہر کر دیتا ہے، جسے غلط مثبت نتیجہ کہا جاتا ہے
٭ بعض صورتوں میں یہ موجودہ کینسر کو بھی ظاہر نہیں کر پاتا، جسے غلط منفی نتیجہ کہا جاتا ہے
٭ مثبت نتیجے کی صورت میں مزید ٹیسٹ، خاص طور پر کولونوسکوپی، کی ضرورت پڑتی ہے
تیاری کیسے کریں
اس ٹیسٹ کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مریض معمول کے مطابق کھا پی سکتا ہے اور اپنی ادویات جاری رکھ سکتا ہے۔ آنتوں کو صاف کرنے یا کوئی خاص ڈائٹ اپنانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
طریقہ کار
ٹیسٹ کے دوران مریض کو پاخانے کا ایک نمونہ جمع کرنا ہوتا ہے۔ یہ نمونہ خصوصی کِٹ کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے جو ڈاکٹر یا لیبارٹری فراہم کرتی ہے۔
کِٹ میں ایک کنٹینر ہوتا ہے جو ٹوائلٹ کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ اس میں ایک محفوظ کرنے والا محلول بھی شامل ہوتا ہے جسے نمونے میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ صرف ایک ہی نمونے پر مشتمل ہوتا ہے، جو بعد میں لیبارٹری کو بھیجا جاتا ہے۔
نتائج
ٹیسٹ کے نتائج عام طور پر دو صورتوں میں آتے ہیں۔
منفی نتیجہ: اگر ڈی این اے میں تبدیلیاں یا خون کے آثار نہ ملیں تو نتیجہ منفی ہوتا ہے۔ اس صورت میں ڈاکٹر تین سال بعد دوبارہ ٹیسٹ کا مشورہ دے سکتے ہیں
مثبت نتیجہ: اگر ڈی این اے کی غیر معمولی تبدیلیاں یا خون کے آثار پائے جائیں تو نتیجہ مثبت ہوتا ہے
مثبت نتیجے کی صورت میں ڈاکٹر مزید تشخیصی ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں تاکہ بڑی آنت کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔ عام طور پر یہ عمل کولونوسکوپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist