Vinkmag ad

سپائنل فیوژن: ریڑھ کی ہڈی جوڑنے کا عمل

A doctor examining a patient's back during a medical consultation to assess the spine before a spinal fusion surgery.

سپائنل فیوژن (Spinal fusion) میں ریڑھ کی ہڈی کے دو یا زیادہ مہرے آپس میں جوڑ دیے جاتے ہیں۔ سرجری کے دوران ہڈی یا ہڈی جیسا مصنوعی مواد دو مہروں کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ دھاتی پلیٹیں، پیچ یا راڈز ہڈیوں کو اپنی جگہ قائم رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ ہڈیاں آپس میں جڑ کر ایک مضبوط ہڈی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اس طرح ان کے درمیان حرکت ختم ہو جاتی ہے، اور نتیجتاً درد میں بھی کمی آتی ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

سپائنل فیوژن کا مقصد ریڑھ کی ہڈی کو زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانا، خرابی کو درست کرنا یا درد کم کرنا ہوتا ہے۔ یہ درج ذیل حالتوں میں مدد دے سکتا ہے:

٭ ریڑھ کی ہڈی کی ساختی خرابی، جیسے اس کا ایک طرف مڑ جانا

٭ ریڑھ کی کمزوری یا عدم استحکام کو دور کرنا

٭ متاثرہ ڈسک نکالنے کے بعد ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دینا

خطرات

اگرچہ سپائنل فیوژن عمومی طور پر محفوظ سرجری ہے، تاہم اس میں کچھ خطرات موجود ہوتے ہیں:

٭ انفیکشن

٭ زخم کا ٹھیک نہ ہونا یا سست رفتاری سے بھرنا

٭ خون بہنا

٭ خون کے کلاٹ بننا

٭ ریڑھ کے اردگرد اعصاب یا خون کی نالیوں کو نقصان

٭ ہڈی کے گرافٹ والی جگہ پر درد

٭ علامات کا دوبارہ ظاہر ہونا

پروسیجر کی تیاری

مریض کے متعلقہ جسمانی حصے کے بال صاف کیے جا سکتے ہیں اور جلد کو خصوصی صابن سے دھویا جاتا ہے۔ مریض  کے لیے اپنی تمام ادویات کے بارے میں طبی ٹیم کو آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بعض ادویات سرجری سے کچھ وقت پہلے بند کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔

سرجری کے دوران

سپائنل فیوژن میں مریض گہری نیند کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ سرجری کا طریقہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سی جگہ متاثر ہے، مسئلہ کیا ہے، اور مریض کی مجموعی صحت کیسی ہے۔

پروسیجر عام طور پر تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:

ریڑھ تک رسائی: سرجن گردن یا کمر میں ریڑھ کے اوپر یا اطراف سے، یا پیٹ یا گلے کے ذریعے چیرا لگا کر متاثرہ حصے تک پہنچتا ہے

ہڈی کا گرافٹ تیار کرنا: یہ گرافٹ مریض کی اپنی ہڈی (عام طور پر کولہے) یا بون بینک سے حاصل کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مصنوعی مواد بھی استعمال ہوتا ہے

فیوژن کا عمل: ہڈیوں کے درمیان گرافٹ رکھا جاتا ہے اور پلیٹس، پیچ یا راڈز سے انہیں مستحکم رکھا جاتا ہے تاکہ وہ جڑ سکیں

سرجری کے بعد

سرجری کے بعد عام طور پر مریض کو 2 سے 3 دن ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ درد کو ادویات کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ گھر جانے کے بعد اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی ٹیم سے رابطہ کریں:

٭ زخم کے اردگرد رنگ میں تبدیلی جیسے اس کا رنگ سرخی مائل، جامنی یا بھورا ہونا

٭ زخم میں درد یا سوجن

٭ زخم سے رطوبت کا اخراج

٭ کپکپی یا سردی لگنا

٭ 100.4 ڈگری فارن ہائیٹ (38 ڈگری سینٹی گریڈ) سے زیادہ بخار

ہڈیوں کو مکمل طور پر جڑنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ بعض اوقات مریض کو بریس پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ ریڑھ سیدھی رہے۔ فزیوتھراپی کے ذریعے مریض کو بیٹھنے، کھڑے ہونے اور چلنے کا درست طریقہ سکھایا جاتا ہے تاکہ ریڑھ پر دباؤ نہ پڑے۔

نتائج

سپائنل فیوژن عموماً ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو درست کرنے، ریڑھ کی ساخت بہتر بنانے اور استحکام بڑھانے میں مؤثر ہوتا ہے۔ تاہم کمر یا گردن میں غیر واضح درد کے نتائج ہمیشہ بہتر نہیں ہوتے۔ بعض اوقات نان سرجیکل طریقے بھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

اگرچہ یہ سرجری علامات میں کمی لا سکتی ہے، لیکن یہ مستقبل میں درد کو مکمل طور پر روک نہیں سکتی۔ آرتھرائٹس کمر درد کی ایک بڑی وجہ ہے اور سرجری اس کا علاج نہیں کرتی۔

ریڑھ کے جو حصے فکس ہو جاتے ہیں، ان پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے قریبی حصے جلد متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں مستقبل میں مزید سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic

Vinkmag ad

Read Previous

رائنوپلاسٹی: ناک کی سرجری

Read Next

پاخانے کا ڈی این اے ٹیسٹ

Leave a Reply

Most Popular