گرمیوں میں کیا کھائیں

3

گرمیوں میں کیا کھائیں

ماحولیاتی تبدیلیوں اور کچھ دیگر عوامل کی وجہ سے ہر سال گرمیوں کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ اکثر لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ گرمیوں میں جسمانی درجہ حرارت بڑھ جانے کی وجہ سے ہمیں پسینہ زیادہ آتا ہے۔ ایسے میں اگر ہماری خوراک مصالحہ داراور چکنائی سے بھرپور ہو تو پسینہ پیدا کرنے والے غدود زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اس موسم کو پرسکون انداز میں گزارنے کے لئے دیگر احتیاطوں کے ساتھ موزوں غذاؤں کا انتخاب ضروری ہے۔ یہ جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اورصحت مند رکھتی ہیں۔

سادہ غذا کھائیں

موسم کی یہ شدت بھوک کو بھی متاثر کرتی ہے۔ باہر جائیں تو ریستورانوں میں باہر شدید گرمی کے باوجود اندرکا ماحول ٹھنڈا ہوتا ہے۔ گاہکوں کی سہولت کے علاوہ اس کا ایک سبب گرمی کی وجہ سے لوگوں کی بھوک متاثرہونے سے بچانا ہے۔

اس موسم میں نقصان دہ بیکٹیریا زیادہ فعال ہوتے۔ اس سے کئی طرح کی بیماریاں مثلاً ہیضہ، گیسٹروانٹرائٹس اور ڈائریا وغیرہ کی شکایت ہو جاتی ہے۔ اس لئے ریستوران کے انتخاب میں خاص خیال رکھا جائے کہ وہاں کھانے پینے کی اشیاء جراثیم سے پاک ہوں۔ گرمی کے موسم میں باہر سے کھانا کھانے سے حتیٰ المقدور پرہیز کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ وہ بہت سی جگہوں پرمحفوظ نہیں ہوتا۔

مفید غذائیں

کچھ غذائیں ایسی ہیں جو معدے کی اچھی کارکردگی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً دہی میں شامل فائدہ مند بیکٹیریامعدے کی درستگی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ توانائی کی بحالی اور طبیعت کو تروتازہ رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح پودینہ بھوک کوبڑھاتا اورمعدے کے افعال کو درست کرتاہے۔ اسے اچھی طرح سے دھو کر استعمال کرنا چاہئے ۔

کھانوں کی خوشبو ہی نہیں، رنگت بھی ہماری توجہ اپنی جانب کھینچتی ہے۔ سلاد کھانا بہت سے لوگوں کو مشکل لگتا ہے۔ اگراس میں مختلف رنگوں کے پھل اور سبزیاں ہوں تواس کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ پودینے کی طرح کی دوسری جڑی بوٹیاں مثلاً تلسی کے پتے وغیرہ بھی ہاضمے کے لئے اچھے رہتے ہیں۔ پیاز اور ٹماٹرکا سلاد بھی اس موسم میں ایک مفید سائیڈ ڈش ہے کیونکہ ان دونوں سبزیوں میں پانی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

ٹھنڈے اور گرم کھانے

ہمارے ہاں یہ تصورعام ہے کہ فلاں غذا یا پھل کی تاثیر ٹھنڈی یا گرم ہے۔ انہی تصورات کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد گرمیوں میں خشک میوہ جات استعمال نہیں کرتی۔ یونانی طب ایسے تصورات کو تسلیم کرتی ہے جبکہ ایلوپیتھی کی نظرمیں کوئی خوراک گرم یا سرد نہیں ہوتی۔  ہر موسم میں روزانہ مٹھی بھر خشک میوہ جات کھانے چاہئیں ۔ان میں چارسے پانچ بادام ،تین سے چار کاجو اور دو سے چار اخروٹ شامل ہیں۔

 کچھ چیزیں مثلاً دہی وغیرہ ہضم ہونے میں آسان جبکہ کچھ مثلاً پائے کی ڈِش ذرا دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ گرمی کے موسم میں ہلکی پھلکی غذاء کھائی جائے اور اُن غذائوں کو کم استعمال کیاجائے جنہیں ہضم کرنا وقت طلب ہو۔ اس موسم میں آئل کا استعمال کم اور سبزیوں کا زیادہ کر دیں۔

گوشت کا استعمال

 اس موسم میں بھی گوشت کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔ایک نارمل انسان کوروزانہ اپنے ٹوٹل وزن کی 0.8گرام پروٹین درکار ہوتی ہے۔اس کے لئے آپ اپنے ٹوٹل وزن کو 0.8گرام سے ضرب دے کر یہ مقدار نکال سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ چکن کے ایک پیس میں 25گرام اور انڈے میں چھ سے آٹھ گرام پروٹین موجود ہوتی ہے۔ یعنی روزانہ دو انڈے اورچکن کے دو پیس کھائے جا سکتے ہیں۔

دہی اور دودھ میں بھی پروٹین کی مناسب مقدار ہوتی ہے۔ اگرآپ ہلکے پھلکے کھانوں کی خواہش رکھتے ہوں تو گرِل کی ہوئی فش کھائیں۔ یہ جسم میں اچھا کولیسٹرول پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور جگر کی کارکردگی بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

باقاعدہ ورزش

اپنے وزن کو صحت مند طریقے سے کم کرنے کے لئے گرمیوں کو ایک بہترین موقع کے طور پر استعمال کیاجا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں ایک گھنٹے کی ورزش، سردیوں کی دو گھنٹے کی ورزش کے برابرہوتی ہےکیونکہ گرمیوں میں پسینہ زیادہ آتا ہے ۔ جتنی زیادہ ورزش کی جائے اتنا ہی میٹا بولزم تیز ہوتا ہے جو وزن گھٹانے کا سبب بنتا ہے۔

کولا مشروبات سے حتی الامکان پرہیز کرنا چاہیے۔مزید برآں

گرمیوں کی شدت کو کم کرنے کے لئے دیسی مشروبات ہی بہتر ہیں جو نہ صرف زیادہ صحت بخش بلکہ خوش ذائقہ بھی ہیں۔

Summer, diet, simple food, vegetables, meat, exercise

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x