بزرگوں کوگرنے سے بچائیں

2

بزرگوں کوگرنے سے بچائیں

زندگی ایک سفر ہے جس کا آغاز ناتوانی سے ہوتا ہے۔ جب اس کی شام ہوتی ہے تو ناتوانی کا دورپھر لوٹ آتا ہے۔ ایسے میں  فرد کی کمر ضعف کے سبب جھک جاتی ہے۔اس عمر میں اکثر لوگوں کو کئی طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہوجاتی ہیں ۔ان کے علاوہ انہیں جن مسائل کا زیادہ سامنا ہوتا ہے‘ ان میں سے ایک گرنا بھی ہے ۔ اگر خدانخواستہ فریکچرہو جائے تو بڑھاپے کی وجہ سے اس سے بحالی بھی تاخیر سے ہوتی ہے۔

گرنے کی وجوہات

جسمانی انحطاط

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم پہلے کی طرح مضبوط  نہیں رہتا۔ لہٰذا ذخیرہ شدہ اجزاء کی کمی کی وجہ سے انحطاط کا شکار ہوجاتا ہے۔ جسمانی طاقت میں کمی کے باعث ورزش یا متحرک رہنے کی صلاحیت بھی پہلے جیسی نہیں رہتی۔نتیجتاً ان کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔ یوں ان کے گرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ویسکولر نظام کے مسائل

بزرگوں کے گرنے کی ایک بڑی وجہ ان کے ’’ویسکولرسسٹم ‘‘ میں آنے والی تبدیلیاں بھی ہیں ۔اس نظام کا مقصد جسم کے ہر حصے میں خون پہنچانا ہوتا ہے ۔بزرگوں میں یہ انتظام کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب خون دماغ یا دیگر اعضاء تک جلدی نہیں پہنچ پاتا تو بستر سے اٹھتے یا بیٹھے وقت آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے یا چکر آتے ہیں۔ یہ بھی ان کے گرنے کا ایک بڑا سبب بنتا ہے ۔

ادویات کاکردار

بڑھاپے میں بیک وقت بہت سی بیماریون کا شکار ہونے کی وجہ سے لوگ مختلف ادویات استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نہ صرف سائیڈ افیکٹس ہوتے ہیں بلکہ کچھ آپس میں ’’ری ایکشن ‘‘بھی کر جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ بھی ان کے گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ہڈیوں کی کمزوری

بعض لوگ بڑھاپے میں بھی کافی صحت مند ہوتے ہیں جبکہ کچھ  کم عمرکے باوجود بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اس کا تعلق جوانی میں ان کے لائف سٹائل سے بھی ہے جس کے اہم اجزاء متوازن غذا اور جسمانی طور پر متحرک رہنا ہیں۔ ورزش میں تیز پیدل چلنا یا کوئی بھی ایسی سرگرمی شامل ہیں جس میں سانس تھوڑا سا پھولے اور پسینہ بھی آئے۔

ماحولیاتی وجوہات

بزرگوں کے گرنے کے زیادہ تر واقعات گھروں کے اندر پیش آتے ہیں ۔اگرصحن کا فرش پھسلنے والا ہو تو اس بات کے امکانات ہیں کہ اہل خانہ‘ خصوصاً بزرگ خواتین و حضرات پھسل کر گر جائیں اور انہیں چوٹ لگ جائے۔ گھر کے اندر وہ سب سے زیادہ غسل خانوں میں گرتے ہیں۔ ان میں سیٹ کے قریب ہینڈریل (دستی) ہونی چاہئے تاکہ اٹھتے وقت اسے پکڑا جا سکے۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر گھروں میں اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔

گھروں کے اندر بزرگوں کے گرجانے کا ایک بڑا سبب فرش پربچھے ڈھیلے ڈھالے قالین بھی ہیں ۔اکثر بزرگ کو حضرات رات کے وقت رفع حاجت کے لئے اٹھنا پڑتا ہے اور کچھ لوگ تہجد کے لئے بھی اٹھتے ہیں۔ایسے میں اگر روشنی کم ہو تو بزرگوں کا پائوں اس قالین سے الجھ جاتا ہے جس سے وہ گر جاتے ہیں۔ اسی طرح فرنیچر وغیرہ ایسی جگہوں پر نہیں ہونا چاہئے جہاں ان سے ٹکرانے کا احتمال ہو۔ گھروں کے اندر سیڑھیوں کے ساتھ ریلنگ اور سلائیڈ بھی ہونی چاہئے۔

علاج کے امکانات

 فریکچر ہو جائے تو آرتھو پیڈک سرجن  اس کی نوعیت اور شدت کااندازہ لگاتا ہے ۔ اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آپریشن کے بغیر مسئلے کا حل ممکن ہے یا اس کے لئے لازماً آپریشن کرایا جائے گا۔ مثلاً بعض اوقات کولہے کی تبدیلی کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ مریض کو جلد از جلد ڈاکٹر کے پاس لایا جائے ۔

بزرگ جب گرتے ہیں تو بعض اوقات انہیں سر پربھی چوٹ لگتی ہے۔نتیجتاً انہیں وقتی طور پر سر میں درد یا چکر آتے ہیں۔ اس کے بعد وہ بظاہر ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر معمول کے چیک اَپ کے علاوہ ان کے سر کا سی ٹی سکین بھی ضرور کرا لینا چاہئے ۔ کیونکہ سر ٹکرانے سے بعض اوقات دماغ کے باہر والے حصے میں خون رسنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ اگر سر کے اس حصے میں جمع ہوجائے تو ہیماٹوما  بن کر باقی دماغ کو دبانا شروع کر دیتاہے۔ یہ صورت حال شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔ جو بزرگ خون کو پتلاکرنے والی دوائوں پر ہوں یا انہیں سٹنٹ پڑا ہو‘ ان میں ہیماٹوما بننے کا امکان بڑ ھ جاتا ہے‘ اس لئے اسے سنجیدہ لینا چاہئے۔

elderly fall, reasons, medicines, weakness, treatment

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x