ماہرین صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ساڑھے 3 لاکھ افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ ایک لاکھ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج، دل کی شریانوں کی بیماری کے بعد پاکستان میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 91 لاکھ پاکستانی فالج کے اثرات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی میں ہر چار مردوں میں سے ایک اور ہر تین خواتین میں سے ایک کو فالج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ اعداد و شمار پاکستان سٹروک سوسائٹی اور فارم ایوو کی تقریب میں پیش کیے گئے۔ اس موقع پر دونوں اداروں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ انہوں نے لیڈرز ٹریک نیورولوجی 2.0 کے نام سے تربیتی پروگرام بھی شروع کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان سٹروک سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبد المالک نے کہا کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے ملک میں صرف 250 سے 260 نیورولوجسٹ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص، خصوصی فالج یونٹس اور مزید ماہر ڈاکٹروں کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔