سپیچ اینڈ لینگوئج تھیراپی

50

اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت تمام جانوروں میں پائی جاتی ہے جس کے لئے وہ مختلف آوازوں اور اشاروں کی مدد لیتے ہیں ۔ انسانوں میں عقل و فہم کے علاوہ زبان و بیاں اور اظہارکی بے مثل قوت وہ خوبی ہے جو انہیں اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کرتی ہے۔ان کے حلق اورمنہ سے نکلنے والی آوازیں جب خاص انداز اور ترتیب سے برآمد ہوتی ہیں تو وہ محض ’’غوں غاں‘‘ نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر خاص معنی اور مفہوم رکھتی ہیں۔بعض اوقات کچھ نفسیاتی یا جسمانی وجوہات کی بنا پر لوگوں کو روانی سے بولنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرکچھ بچے دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں یا بولتے ہوئے ہکلاتے ‘ تتلاتے یا اٹکتے ہیں۔ اسی طرح فالج یا کسی دماغی چوٹ کے نتیجے میں بعض اوقات بڑوں میں بھی بولنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے ۔ان مسائل کو حل کرنے میں نفسیاتی اور دماغی واعصابی امراض کے معالجین کے ساتھ ساتھ ایک اور شعبے کے ماہرین کی بھی ضرورت پڑتی ہے جسے’’سپیچ اینڈ لینگوئج تھیراپی‘‘کہا جاتا ہے۔ سپیچ کا تعلق منہ سے نکلنے والی آوازوں سے ہے اور جب وہ معنی دینے لگیں تولینگوئج بن جاتی ہیں ۔ چونکہ دونوں کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں‘ اس لئے اس شعبے کے نام میں دونوں الفاظ کو سمویا گیا ہے۔ اب اس شعبے میں بول چال اور بولنے کے لئے درکارسمجھنے کی صلاحیت کے علاوہ نگلنے سے متعلق مسائل کابھی علاج کیا جاتا ہے۔مزید براں لڑکوں کی پتلی اور لڑکیوں کی موٹی آواز جیسے مسائل کا علاج بھی اسی شعبے میں کیا جاتا ہے۔
ابتدائی دور میں اس کے معالجین باقاعدہ سرٹیفائیڈنہ تھے‘ اس لئے کہ اس وقت کسی ایسے ادارے کا وجود ہی نہ تھا جوانہیں سرٹیفکیٹ جاری کرسکتا۔تاہم جن معالجین کا تعلق تعلیم‘ طب یا فن تقریرکے شعبہ جات سے ہوتا‘ وہ پیشہ ور جبکہ باقی لوگ اتائی تصور کئے جاتے تھے۔یوںاس زمانے میں بھی پیشہ ور اوراتائی کی تفریق موجود تھی۔پیشہ تدریس میں ایک مشہور نام بوسٹن(امریکہ) سے تعلق رکھنے والے علیجاہ کورلے (1608-87ء)کا ہے جوسکول میں اپنے طلبہ کوہکلانے کی عادت سے چھٹکارا دلانے کی مشقیں کرواتے تھے۔اس حوالے سے ان کے پاس ایک ہی نسخہ تھا اور وہ یہ کہ الفاظ کو ذرا کھینچ کراور لمبا کر کے پڑھنے کی کوشش کروائی جائے۔سپیچ تھیراپی کے شعبے میں پیش رفتوں کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
پہلا دور 20ویں صدی کے آغاز سے جنگ عظیم دوم کے خاتمے تک کا ہے۔اس دورکے اولین ماہرین میںالیگزینڈر میلوائیل بیل(1819-1905) اور ان کے فرزند الیگزینڈر گراہم بیل کا نام آتا ہے جو فن خطابت سے تعلق رکھتے تھے ۔ انہوںنے بولنے کے تناظر میں سمجھنے اورآواز نکالنے کے عمل میں دقتوں کو دور کرنے کے نئے طریقے دریافت کئے۔میلوائیل نے 1872ء میں وزیبل سپیچ (Visible speech) کے نام سے ایک طریقہ دریافت کیا جس میں آواز نکالنے کے عمل میں گلے‘ زبان اور ہونٹوں کی پوزیشن کے لئے مخصوص اشارات متعین کئے گئے ۔ انفرادی کاوشوں سے بات آگے بڑھی اور امریکہ میں 1910ء میں سکول کی سطح پر سپیچ تھیراپی کی تربیت کا آغاز ہوا۔1925ء میں آشا(American Speech-language Hearing Association) کے نام سے ایک الگ تنظیم قائم ہوئی لہٰذا اس سال کو اس شعبے کا نقطہ آغاز مانا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں آشا کی طرز پر اے اے ایس سی (American Academy of Speech Correction) کے نام سے ایک گروپ بناجس کے بیشتر افراد کا تعلق یونیورسٹیوں کے ان شعبہ جات سے تھا جو کسی نہ کسی طور زباندانی سے تعلق رکھتے تھے۔
جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والے اس دور (1945-65ء) میں ابلاغ سے متعلق امراض میں بولنے سے متعلق نفسیاتی عمل کو بہتر کرنے کے لئے نئے زاویہ نظراور طریقے پیش کئے گئے۔ تیسرے دور(1965-75ء) میں ماہرین نے سپیچ اور لینگوئج کے امراض کو الگ کر کے دیکھنا شروع کیاجس کی وجہ سے ابلاغ سے متعلق امراض کی تشخیص اور علاج میں نمایاں مدد ملی۔ چوتھادور(1975-2000ء)پریگ میٹکس انقلاب (Pragmatics revolution ) کہلاتا ہے۔ ’’پریگ میٹکس‘‘ لسانیات کی وہ شاخ ہے جو خیال کے لفظی یا علامتی اظہارات اور اظہار کنندہ کے باہمی تعلق سے بحث کرتی ہے ۔اس دور میں زبان دانی ‘ کلچراور روز مرہ زندگی کے تناظر جیسے عوامل کو سپیچ اینڈ لینگوئج تھیراپی کے علاج میں خصوصی اہمیت دی جانے لگی۔1975ء سے قبل امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں معذوریوں کے حامل بچوں کوسکولوں میں داخلے کی اجازت نہ تھی۔ اس سال ایک خصوصی قانون کے ذریعے انہیں بھی تعلیم کا حق ملا جس سے سپیچ تھیراپی کے ماہرین کی مانگ میں اضافہ ہوا اور اس شعبے کو ترقی ملی۔
1960ء کی دہائی میںپاکستان کے کئی ہسپتالوں میں فزیو تھیراپی کے شعبہ جات قائم کئے گئے لیکن ان میں شدید قسم کی معذوریوں مثلاً ریڑھ کی ہڈی کے زخم اور فالج وغیرہ کے مریضوں کے لئے فزیوتھیراپی کا انتظام نہ تھا۔پاکستان کے سابق صدر ضیاء الحق کی بیٹی زین ضیاء دماغی فالج کا شکار تھی جسے دیگر علاج کے ساتھ ساتھ سپیچ تھیراپی کی بھی ضرورت تھی۔ صدر پاکستان ہدایت اور ان کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے یہاں 1981ء میں این آئی آر ایم (National Institute of Rehabilitaion Medicine) اور اے ایف آئی آر ایم(National Armed Forces Institute of Rehabilitaion Medicine) کے نام سے دو ادارے وجود میں آ گئے۔اس کے بعد سے متعددسرکاری اور نجی شعبے کے اداروں میں اس کی باقاعدہ تعلیم وتربیت کا سلسلہ جاری ہے جس سے بولنے ‘نگلنے اورآواز سے متعلق مسائل کے شکار لوگوں کے علاج میں نمایاں مدد ملی ہے ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of