Vinkmag ad

سیروٹونن سنڈروم: ایک سنگین ادویاتی ری ایکشن

A patient admitted in hospital with symptoms of serotonin syndrome

سیروٹونن سنڈروم (Serotonin syndrome) ایک سنگین ادویاتی ری ایکشن ہے جو جسم میں سیروٹونن کی غیر معمولی اور زیادہ مقدار کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ سیروٹونن ایک قدرتی کیمیکل ہے جو دماغ اور اعصابی نظام کے افعال کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی زیادتی ہلکی سے شدید اور بعض اوقات جان لیوا علامات پیدا کر سکتی ہے۔

یہ حالت عموماً اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سیروٹونن کو بڑھانے والی ادویات کی خوراک بڑھائی جائے یا نئی دوا شروع کی جائے۔ زیادہ تر کیسز میں مختلف ادویات کو ایک ساتھ استعمال کرنا اس کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ بعض منشیات اور غذائی سپلیمنٹس بھی اس خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

علامات

علامات عام طور پر نئی دوا شروع کرنے یا خوراک بڑھانے کے چند گھنٹوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔

٭ بے چینی یا اضطراب

٭ بے خوابی

٭ ذہنی الجھن

٭ دل کی تیز دھڑکن

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ آنکھوں کی پتلیوں کا پھیل جانا

٭ پٹھوں میں جھٹکے یا بے ربطی

٭ پٹھوں کی سختی

٭ زیادہ پسینہ آنا

٭ اسہال

٭ سر درد

٭ کپکپی

٭ رونگٹے کھڑے ہونا

شدید حالت میں علامات جان لیوا ہو سکتی ہیں

٭ تیز بخار

٭ شدید کپکپی

٭ دورے

٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن

٭ بے ہوشی

اسباب

یہ بیماری جسم میں سیروٹونن کی غیر معمولی زیادتی سے پیدا ہوتی ہے۔

دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے اعصابی خلیات سیروٹونن بناتے ہیں جو توجہ، رویے اور جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔ آنتوں میں بھی سیروٹونن بنتا ہے جو ہاضمہ، خون کی گردش اور سانس کے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔

زیادہ تر یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب ایک سے زیادہ سیروٹونن بڑھانے والی ادویات ایک ساتھ استعمال کی جائیں۔ بعض اوقات ایک ہی دوا کی زیادہ مقدار بھی وجہ بن سکتی ہے۔

نسخے والی ادویات، بغیر نسخے کی ادویات، منشیات اور کچھ سپلیمنٹس بھی اس سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

ممکنہ ادویات اور سپلیمنٹس

٭ مختلف اقسام کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات (موڈ بہتر کرنے والی ادویات)

٭ درد اور مائیگرین کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات

٭ اوپیئڈ قسم کی طاقتور درد کم کرنے والی ادویات

٭ موڈ اسٹیبلائز کرنے والی ادویات

٭ اینٹی بایوٹک ادویات

٭ متلی اور قے روکنے والی ادویات

٭ کھانسی اور نزلہ زکام کی کچھ ادویات

٭ منشیات

٭ ہربل یا قدرتی سپلیمنٹس

٭ اعصابی نظام پر اثر ڈالنے والی دیگر ادویات

خطرے کے عوامل

٭ سیروٹونن بڑھانے والی نئی دوا شروع کرنا یا خوراک میں اضافہ

٭ ایک سے زیادہ ایسی ادویات کا بیک وقت استعمال

٭ ہربل سپلیمنٹس کا استعمال

٭ منشیات کا استعمال

پیچیدگیاں

ہلکی حالت میں سیروٹونن کی سطح معمول پر آنے کے بعد مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔

اگر علاج نہ کیا جائے تو شدید حالت بے ہوشی اور موت کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر سے رجوع کب کریں

اگر نئی دوا شروع کرنے یا خوراک بڑھانے کے بعد ان علامات کا شبہ ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا ایمرجنسی جائیں۔ اگر علامات تیزی سے بگڑ رہی ہوں تو فوری طبی امداد ضروری ہے۔

تشخیص

اس بیماری کی کوئی واحد حتمی ٹیسٹ موجود نہیں۔ ڈاکٹر علامات اور طبی تاریخ کی بنیاد پر تشخیص کرتا ہے۔

دیگر وجوہات کو مسترد کرنے کے لیے اضافی ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں

٭ ادویات کی سطح کی جانچ

٭ انفیکشن کی جانچ

٭ جسمانی افعال کا معائنہ

٭ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ

٭ ایکس رے

٭ سی ٹی اسکین

٭ لمبر پنکچر

علاج

علاج علامات کی شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔

٭ ہلکی حالت میں دوا بند کرنا کافی ہو سکتا ہے

٭ درمیانی حالت میں ہسپتال میں نگرانی ضروری ہو سکتی ہے

٭ شدید حالت میں آئی سی یو میں علاج درکار ہوتا ہے

علاج میں شامل ہو سکتے ہیں

٭ بے چینی اور پٹھوں کی سختی کم کرنے والی ادویات

٭ سیروٹونن کے اثرات کم کرنے والی مخصوص ادویات

٭ آکسیجن اور نس کے ذریعے فلوئڈز

٭ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے والی ادویات

٭ شدید حالت میں سانس کی مشین اور پٹھوں کو آرام دینے والی ادویات

ہلکی صورت عموماً 24 سے 72 گھنٹوں میں بہتر ہو جاتی ہے، تاہم بعض ادویات کے اثرات دیرپا ہونے کی وجہ سے مکمل صحت یابی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

٭ ایک سے زیادہ سیروٹونن والی ادویات کا استعمال خطرہ بڑھاتا ہے، اس لیے تمام ادویات کی مکمل فہرست ڈاکٹر یا فارماسسٹ کو دیں

٭ کسی دوا کے بعد علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر کو آگاہ کریں

٭ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں

٭ نئی دوا شروع کرتے وقت موجودہ ادویات کی مکمل معلومات فراہم کریں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

بچھو کا ڈنک

Read Next

سیپسس: انفیکشن کے خلاف خطرناک ردعمل

Leave a Reply

Most Popular