سونگھنے کی حس ختم ہونا (Loss of smell) زندگی کے کئی اہم پہلوؤں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کیفیت میں کھانے کا ذائقہ پھیکا محسوس ہو سکتا ہے اور مختلف کھانوں کی پہچان بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ حس کا جزوی نقصان ہائپوسمیا جبکہ مکمل نقصان اینوسمیا کہلاتا ہے۔ یہ حالت وجہ کے مطابق عارضی بھی ہو سکتی ہے اور طویل مدت تک بھی برقرار رہ سکتی ہے۔
سونگھنے کی حس میں کمی خوراک میں دلچسپی کم کر دیتی ہے۔ اس سے وزن میں کمی، ناقص غذائیت اور بعض اوقات ذہنی دباؤ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ حس انسان کو خطرات سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ اس کا متاثر ہونا ان کیلئے مسائل کا مؤجب بن سکتا ہے۔
سونگھنے کا نظام
ناک اور گلے کے اوپری حصے میں موجود مخصوص خلیے مختلف خوشبوؤں کو پہچانتے ہیں۔ یہ خلیے معلومات دماغ تک منتقل کرتے ہیں جہاں خوشبو کی شناخت کی جاتی ہے۔ اس نظام کے کسی بھی حصے میں خرابی سونگھنے کی حس کو متاثر کر سکتی ہے۔
وجوہات
نزلہ زکام میں ناک بند ہونا سونگھنے کی حس میں عارضی کمی کی عام وجہ ہے۔ ناک کے اندر سوجن یا پولپس بھی اس مسئلے کا سبب بن سکتے ہیں۔ عمر بڑھنے، خاص طور پر 60 سال کے بعد یہ حس کمزور ہو سکتی ہے۔
ناک کی اندرونی بیماریاں
ناک کے اندر ہونے والی وہ حالتیں جو سونگھنے کی حس کو متاثر کرتی ہیں:
٭ ناک اور ہڈیوں کا انفیکشن (ایکیوٹ سائنوسائٹس)
٭ ناک اور ہڈیوں کا طویل مدتی انفیکشن (کرانک سائنوسائٹس)
٭ عام زکام
٭ کووڈ-19
٭ گردوغبار یا پولن سے ہونے والی الرجی (ہے فیور یا الرجک رائنائٹس)
٭ فلو وائرس کی بیماری (انفلوئنزا)
٭ ناک کی سوزش جو الرجی کے بغیر ہو (نان الرجک رائنائٹس)
٭ تمباکو نوشی
ناک میں رکاوٹیں
وہ حالتیں جو ناک کے راستے بند کر دیتی ہیں:
٭ ناک کے اندر نرم گلٹیاں یا سوجن (ناک کے پولپس)
٭ ناک کے اندر غیر معمولی بڑھوتری یا رسولی (ناک کی رسولیاں)
دماغ اور اعصاب کو نقصان
وہ عوامل جو دماغ یا سونگھنے والے اعصاب کو متاثر کر سکتے ہیں:
٭ بڑھتی عمر
٭ یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کی بیماری (الزائمر کی بیماری)
٭ زہریلے صنعتی کیمیکلز کے اثرات
٭ دماغ کی خون کی نالی کا پھول جانا (دماغی اینیورزم)
٭ دماغی آپریشن (دماغی سرجری)
٭ دماغ میں غیر معمولی گلٹی یا رسولی
٭ شوگر کی بیماری
٭ اعصابی نظام کی موروثی بیماری (ہنٹنگٹن کی بیماری)
٭ تھائی رائیڈ غدود کی کم کارکردگی (ہائپوتھائیرائڈزم)
٭ نایاب پیدائشی ہارمونی بیماری (کالمن سنڈروم)
٭ وٹامن بی-1 کی شدید کمی سے دماغی خرابی (کورساکوف سائیکوسس)
٭ یادداشت اور سوچ کی خرابی کی بیماری (لیوی باڈی ڈیمنشیا)
٭ کچھ دوائیں جیسے بلڈ پریشر کی ادویات، اینٹی بائیوٹکس، اینٹی ہسٹامائنز اور ناک کے سپرے
٭ اعصابی نظام کی بیماری (ملٹی پل اسکلروسیس)
٭ پارکنسن کی بیماری
٭ زنک یا وٹامن بی-12 کی کمی
٭ دماغ میں دباؤ بڑھنے کی حالت
٭ کینسر کے علاج میں شعاعوں کا استعمال (ریڈی ایشن تھیراپی)
٭ ناک کی سرجری (رائنو پلاسٹی)
٭ دماغی چوٹ
ڈاکٹر سے رابطہ
نزلہ، الرجی یا سائنوس انفیکشن کی وجہ سے ہونے والی سونگھنے کی حس کی کمی عموماً چند دنوں یا ہفتوں میں خود بہتر ہو جاتی ہے۔ اگر بہتری نہ آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ سنگین وجوہات کو خارج از امکان قرار دیا جا سکے۔
اگر وجہ بیکٹیریل انفیکشن ہو تو اینٹی بائیوٹکس سے علاج ممکن ہے۔ بعض صورتوں میں ناک کی رکاوٹ کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ کیسز میں سونگھنے کی حس مستقل طور پر متاثر رہ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔