سیپسس (Sepsis) ایک سنگین طبی کیفیت ہے جس میں جسم انفیکشن کے خلاف غلط انداز سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس میں انفیکشن سے لڑنے کا نظام خود جسم کے اعضاء کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ حالت بڑھ کر سیپٹک شاک میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کیفیت میں بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے جس سے پھیپھڑے، گردے، جگر اور دیگر اعضاء شدید متاثر ہوتے ہیں۔ یہ حالت جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
علامات
سیپسس کی علامات
٭ سیپسس کی علامات مختلف افراد میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہیں
٭ عام علامات میں ذہنی کیفیت میں تبدیلی، تیز اور سطحی سانس لینا، بغیر واضح وجہ کے پسینہ آنا، چکر آنا یا کمزوری محسوس ہونا اور کپکپی شامل ہیں
٭ علامات بعض اوقات بنیادی انفیکشن کے مطابق بھی ظاہر ہوتی ہیں، جیسے پیشاب میں جلن یا نمونیا میں کھانسی کا بڑھ جانا
٭ بچوں اور بڑوں میں علامات ظاہر ہونے کا انداز مختلف ہو سکتا ہے
سیپٹک شاک کی علامات
سیپسس اگر شدید ہو جائے تو سیپٹک شاک پیدا ہو سکتا ہے جو ایک ہنگامی حالت ہے۔ اس میں بلڈ پریشر شدید طور پر کم ہو جاتا ہے اور جان کو لاحق خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کی اہم علامات میں کھڑے نہ ہو سکنا، شدید غنودگی یا ہوش برقرار رکھنے میں مشکل اور ذہنی کیفیت میں شدید تبدیلی جیسے شدید الجھن شامل ہیں۔
اسباب
سیپسس کسی بھی قسم کے انفیکشن سے پیدا ہو سکتا ہے، خواہ وہ بیکٹیریا، وائرس یا فنگس ہو۔ زیادہ تر کیسز پھیپھڑوں کے انفیکشن جیسے نمونیا، گردے اور پیشاب کے نظام کے انفیکشن، نظامِ ہضم، خون، کیتھیٹر کی جگہ اور زخم یا جلنے کے انفیکشن سے منسلک ہوتے ہیں۔
خطرے کے عوامل
کچھ عوامل انفیکشن کے سیپسس میں تبدیل ہونے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ ان میں 65 سال سے زائد عمر، شیرخوار بچے، کمزور مدافعتی نظام والے افراد، ذیابیطس یا گردے کی بیماری جیسے دائمی امراض، طویل ہسپتال قیام، جسم میں لگائے گئے طبی آلات، حالیہ اینٹی بایوٹکس کا استعمال اور مدافعت کم کرنے والی ادویات شامل ہیں۔
پیچیدگیاں
سیپسس کے بڑھنے سے جسم کے اہم اعضاء کو خون کی مناسب فراہمی متاثر ہو جاتی ہے جس سے دماغ، دل اور گردے کی کارکردگی کمزور ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں خون غیر معمولی طور پر جمنے لگتا ہے جس سے چھوٹے لوتھڑے اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ زیادہ تر مریض ہلکے سیپسس سے صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم سیپٹک شاک میں شرح اموات 30 سے 40 فیصد تک ہوتی ہے۔ شدید سیپسس مستقبل میں انفیکشن کے خطرے کو بھی بڑھا دیتا ہے۔
ڈاکٹر سے رجوع کب کریں
کوئی بھی انفیکشن سیپسس میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اگر انفیکشن یا زخم بہتر نہ ہو رہا ہو تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔ الجھن، تیز سانس آنا یا شدید کمزوری جیسی علامات میں فوری ایمرجنسی علاج درکار ہوتا ہے۔
تشخیص
ڈاکٹر سیپسس کی تشخیص اور بنیادی انفیکشن کی نشاندہی کے لیے مختلف ٹیسٹ کرتے ہیں۔
خون کے ٹیسٹ
خون کے ٹیسٹ میں انفیکشن کی موجودگی، خون جمنے کے مسائل، جگر یا گردوں کی خرابی، آکسیجن کی کمی اور جسم میں نمکیات کا عدم توازن جانچا جاتا ہے۔
دیگر لیبارٹری ٹیسٹ
انفیکشن کے ذریعے کی نشاندہی کے لیے پیشاب، زخم کے مواد اور سانس کی نالی سے بلغم یا تھوک کے نمونے لیے جاتے ہیں۔
امیجنگ ٹیسٹ
اگر انفیکشن کا ذریعہ واضح نہ ہو تو ایکسرے، الٹراساؤنڈ، سی ٹی سکین اور ایم آر آئی جیسے ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ جسم کے اندرونی حصوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
علاج
سیپسس میں فوری اور جامع علاج مریض کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مریض کو عموماً آئی سی یو میں رکھا جاتا ہے تاکہ مسلسل نگرانی اور ہنگامی مدد فراہم کی جا سکے۔
ادویات
٭ اینٹی بایوٹکس فوری طور پر شروع کیے جاتے ہیں اور بعد میں ٹیسٹ کے مطابق مخصوص دوا دی جاتی ہے
٭ جلد وریدی سیال دیے جاتے ہیں تاکہ بلڈ پریشر برقرار رہے
٭ ویزوپریسرز اس وقت استعمال ہوتے ہیں جب سیال دینے کے باوجود بلڈ پریشر کم رہے
اضافی طور پر انسولین اور درد کم کرنے والی ادویات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں
معاون علاج
مریض کو آکسیجن دی جاتی ہے اور بعض صورتوں میں سانس لینے کے لیے مشین کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر گردے متاثر ہوں تو ڈائلیسز کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
سرجری
اگر جسم میں انفیکشن کا ذریعہ موجود ہو تو سرجری کے ذریعے پیپ، متاثرہ یا مردہ ٹشوز کو نکالا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔