قے کی سائنس

بعض اوقات کھانا کھانے کے بعد ہماری طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں کبھی لگتا ہے کہ سب کچھ منہ کے راستے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر معاملہ صرف احساس تک ہو تو اسے متلی کہتے ہیں۔ اگر وہ سچ مچ باہر نکل آئے تو اسے قے یا الٹی کہیں گے۔ اگر ایسابار بار ہو تو جسم میں پانی اورمعدنیات کی کمی ہوسکتی ہے۔ یہ اگرچہ ایک ناخوشگوارسی کیفیت ہے مگر ہمارے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

قے کیوں ہوتی ہے

جب جسم کو لگے کہ معدے میں موجود چیز اس کے لئے اچھی نہیں تو وہ اسے فوری طورپرباہرنکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے خطرے کا احساس ذہنی تناؤ کا سبب بننے والے ہارمونز کی زیادتی، خون میں نقصان دہ کیمیائی مادوں یا وائرس کی موجودگی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ معدے کی دیوراوں پر موجود کچھ خاص حسی خلیے سیروٹونن نامی کیمیائی مادے کے ذریعے عصبی نظام تک خطرے کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ وہاں سے یہ پیغام دماغ تک پہنچتا ہے اوردماغ جسم کو قے کے لئے تیار ہونے کا حکم دیتا ہے۔
ایسے میں سب سے پہلے فرد کی طبیعت خرا ب ہوتی ہے اوراسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ہونے لگا ہے۔ پھرمنہ میں لعاب زیادہ بننے لگتا ہے۔ یہ لعاب دانتوں کوقے میں موجود تیزاب سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے بعد معدے کا نچلا حصہ عارضی طورپربند ہوجاتا ہے تاکہ کوئی بھی چیز آنتوں میں نہ جائے۔ پھر سانس کے عمل میں مدد دینے والا پٹھہ ڈایافرام، چھاتی اور پیٹ کے پٹھے بیک وقت سکڑتے ہیں۔ اس سے معدے پردباؤ پڑتا ہے اوراس میں موجود مواد اوپرگلے کی طرف حرکت کرتا اور منہ کے ذریعے باہر نکل آتا ہے۔ اس عمل کے دوران سانس کی نالی کا داخلی راستہ بھی بند ہوتا ہے تاکہ کوئی چیز اس میں یا پھیپھڑوں میں نہ جاسکے۔ اس عمل کے باعث کچھ کیمیائی مادے بھی خارج ہوتے ہیں جو قے کے بعد متاثرہ شخص کو بہتر محسوس کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

گول گھومتے ہوئے قے کیوں آتی ہے

بعض افراد کو کچھ حرکات مثلاً گول گھومنے یا ناہموار سڑک پر سفر کے دوران ہچکولے کھانے پر بھی قے آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دماغ کو آنکھوں، کانوں اور دیگر اعضاء سے مختلف معلومات حاصل ہوتی ہیں تو وہ انہیں ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں پاتا۔ اس کا قے سے تعلق یہ ہے کہ دماغ ان پیغامات کو خطرے کی گھنٹی سمجھ کرمعدے کواپنے اندر موجود چیزیں خارج کرنے کا حکم دیتا ہے۔

دوسروں کی قے دیکھ کرقے کیوں آتی ہے

کچھ افراد جب کسی دوسرے کو اس حالت میں دیکھتے ہیں تو ان کی طبیعت بھی خراب ہونے لگتی ہے۔ ان میں سے بعض کوقے بھی ہوجاتی ہے۔ اس کی حقیقی وجہ تو معلوم نہیں تاہم اس کے پس منظر میں مختلف تھیوریز بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایسا مرر نیورانز کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وہ اعصاب ہیں جو دوسروں کے عمل میں نقل کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی جمائی لیتا ہے تو دوسرے شخص کو بھی جمائی آتی ہے۔

 الٹی کے بعد کیا کریں

٭منہ میں باقی رہ جانے والے تیزاب کا اثر ختم کرنے کے لئے پانی یا فلورائیڈ والے ماؤتھ واش سے کلی کریں۔
٭الکوحل یا میٹھی اورکیفین کی حامل اشیاء کھانے سے گریز کریں۔ ان کے بجائے نرم غذا کھائیں۔
٭تھوڑا آرام کریں۔
٭پانی میں او آرایس گھول کر پیئیں تاکہ قے میں ضائع ہونے والی معدنیات کی کمی پوری ہوسکے۔
vomiting, science behind vomiting, why do we vomit, why we vomit while travelling, why we vomit while moving in circle, ultian kion ati hain, safar main ya ghoomtay hoay ulti
Vinkmag ad

Read Previous

آم کے طبی فوائد

Read Next

گوشت انڈے اور دودھ سے ہمیں کیا ملتا ہے؟

Leave a Reply

Most Popular