پسینے کی سائنس

پسینے کی سائنس

پسینہ ایک قدرتی جسمانی ردعمل ہے جس کے ذریعے جسم کا اندرونی درجہ حرارت متوازن رہتا ہے۔ یہ معمول کے مطابق آئے تواعضاء اورپٹھوں میں خون کی گردش بڑھانے، موڈ بہترکرنے اورتوانائی کی فراہمی میں بھی مدد یتا ہے۔ اس کے باعث پیاس لگتی ہے اورپانی کی طلب بڑھتی ہے۔ اگر پانی زیادہ پیا جائے توگردوں میں پتھری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف پسینے کا معمول سے زیادہ آنا بعض افراد کے لئے باعث شرمندگی ہوتا ہے اورروزمرہ کے کاموں کو بھی متاثرکرتا ہے۔

معمول کے مطابق پسینہ آنے کے فوائد اورغیرمعمولی صورتوں میں نقصان اپنی جگہ مگر یہ بنتا اورپھرجلد پر ظاہر کیسے ہوتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

پسینہ کیسے بنتا ہے

ہماری جلد میں دو طرح کے پسینے کے غدود ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک ایکرائن اوردوسرا ایپوکرائن کہلاتا ہے۔

ایکرائن غدود

یہ غدود جسم کے زیادہ ترحصوں پرہوتے ہیں اورجلد کی سطح پر کھلتے ہیں۔ ان سے نکلنے والا بے بو پسینہ عموماً پانی اورنمکیات پرمشتمل ہوتا ہے۔ یہ جلد کی سطح سے بخارات بن کراڑجاتا ہے۔ نتیجتاً ہمیں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔

ایپوکرائن غدود

یہ غدود کھوپڑی ، بغل اور پیٹ اورران کے درمیانی حصے میں پائے جاتے اورہیرفولیکل (جہاں سے بال پیدا ہوتا ہے) میں کھلتے ہیں۔ ان سے نکلنے والا پسینہ پانی اورنمک کے علاوہ چربی اورپروٹین کا حامل بھی ہوتا ہے جو بخارات بن کراڑنہیں پاتا۔ پھرجب جلد پر موجود بیکٹیریا ان مادوں کی توڑپھوڑکرتے ہیں توبو پیدا ہوتی ہے۔

            پسینہ آتا کیسے ہے؟

ہماری جلد کی تین تہہ ہوتی ہیں۔ ان میں سے پہلی ظاہری طورپردکھائی دیتی اور حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ دوسری کے اندر کچھ ایسے خلیے ہوتے ہیں جو اندرونی یا بیرونی عوامل سے ملنے والے پیغامات کے مطابق ردعمل دیتے ہیں۔ مثلاً ماحول یا جسم کا اندرونی درجہ حرارت بڑھنے سے ان خلیوں کو پیغام ملتا ہے۔ پھر یہ پسینے کے غدود میں تحریک پیدا کرتے ہیں اوران سے پسینہ خارج ہوتا ہے۔

Science behind sweating, sweat glands, apocrine and eccrine glands

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

LEAVE YOUR COMMENTS