چھینک کیوں آتی ہے

اگرہم اپنے جسم میں کام کرنے والے مختلف نظاموں پرغورکریں توعقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پھر دل بے اختیارانہیں تشکیل دینے والےکی تعریف پرمجبورہوجاتا ہے۔ ایسا ہی ایک نظام چھینک سے متعلق بھی ہے۔ کیا آپ نے کبھی غورکیا کہ چھینک کیوں اورکیسے آتی ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

ہوا انسانی زندگی کے لیےاشد ضروری ہے مگراس میں انسانی صحت کے لیے نقصان دہ کچھ جراثیم اورذرات بھی ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں جب آکسیجن کے ساتھ شامل ہوکرناک میں داخل ہوتی ہیں توجسم ایک خودکار نظام کے تحت انہیں باہرنکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل چھینکنا کہلاتا ہے۔

چھینک کی سائنس

جب جراثیم یا کوئی اور بیرونی ذرہ ناک میں داخل ہوتا ہے تواس کے اندرونی حساس حصے میں ہلکی سی گدگدی ہوتی ہے۔ فوری طور پر اس سرگرمی کی اطلاع ایک پیغام کی صورت میں دماغ کے ایک خاص حصے میں دی جاتی ہے جسے مرکزِ چھینک  کہتے ہیں۔

یہ مرکز فوراً ایک خاص پیغام جسم کے تمام حصوں کو بھیجتا ہے جس میں دی گئی ہدایت کے مطابق معدے اورسینے کے پٹھوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً پھیپھڑے سکڑتے ہیں جس سے تیزہوا چھینک کی شکل میں باہرآتی ہے۔ اس طرح سانس لینے کے راستے میں کسی بھی جگہ موجود اس ذرے کو باہرپ ھینکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کوئی بھی ایسی چیزجوناک کو تنگ کرے،آپ کوچھینکنے پرمجبورکرسکتی ہے۔ مٹی کے ذرات اورخوشبو کے علاوہ کچھ لوگوں کو سورج کی تیزروشنی میں بھی چھینک آ سکتی ہے۔

Sneezing, science behind sneezing. simple science of sneezing

Vinkmag ad

Read Previous

کھجور سے روزہ افطار

Read Next

فضائی سفر سے خوف

Leave a Reply

Most Popular