رونگٹے کھڑے کیوں ہوتے ہیں

6

رونگٹے کھڑے کیوں ہوتے ہیں

آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ خوف، غصے، خوشی اور بعض اوقات سردی کی شدت میں بازوئوں اورٹانگوں کی جلد پر موجود بال سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو رونگٹے کھڑے ہونا کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ معمول کی بات ہے لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوتا ہے۔اگر نہیں تو اس کے پس پردہ سائنس کے بارے میں جانیں گے اقصٰی نعیم کی اس تحریر میں۔

رونگٹوں کی سائنس

اس مقصد کے لئے قدرت نے جو نظام تشکیل دیا ہے‘ اس کے تحت ہر بال کے نیچے ایک پٹھا ہوتا ہے جسے ایریکٹرپائی لائے کہتے ہیں۔مذکورہ بالا کیفیات کی وجہ سے جسم میں ایڈرینالین نامی ہارمو ن خارج ہوتا ہے۔ اسے تنائو والا یعنی ’’سٹریس ہارمون‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زیادہ تر دبائو یا پریشانی کی حالت میں ہی نکلتا ہے ۔

جب شدید قسم کے جذبات محسوس ہوں تو یہ ہارمو ن متعلقہ غدود سے نکل کر جلد کے نیچے والے چھوٹے پٹھے(ایریکٹر پائی لائے) کو کھینچ دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہاں کی جلد بھی اٹھ جاتی ہے۔

اسی طرح آپ نے غور کیا ہوگا کہ جب سردی کی شدت بڑھ جائے توبھی یہی کیفیت ہوتی ہے ۔اس موقع پرفرد کا دماغ جسم کو سگنل کے ذریعے بتاتا ہے کہ اسے درجہ حرارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ جسم گرم ہو جائے اور سردی کی شدت میں کمی واقع ہو۔ انسانوں کے مقابلے میں جانوروں کی جلد پر بال چونکہ زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا سردی کے باعث کھڑے ہونے والے رونگٹے ان کے جسم پر بالوں کی ایک تہہ سی بنا دیتے ہیں جس سے وہ سردی سے محفوظ رہتے ہیں۔

رونگٹوں کا کھڑا ہونا جانوروں کے لئے ایک اور حوالے سے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ یہ انہیں طاقتور، خوفناک اور خطرناک دکھاتاہے۔ مثلاً جب کبھی کسی جانور کو دوسرے جانور سے خطرہ محسوس ہو تو اس کے بال فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ غصے میں دکھائی دیتا ہے۔ جب رونگٹے کھڑے ہونے کی وجہ ختم ہوجاتی ہے تو وہ اپنی جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں۔

goosebumps, adrenaline hormone, arrector pili muscles

3 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x