• Home
  • آرٹیکل
  • دمہ، نمونیا اور کورونا: سانس کے مسائل ‘ کیسے بچیں

دمہ، نمونیا اور کورونا: سانس کے مسائل ‘ کیسے بچیں

4

دمہ، نمونیا اور کورونا: سانس کے مسائل ‘ کیسے بچیں

سانس کے مسائل اور بیماریوں پر مفید معلومات, شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد کے ماہر امراض سینہ(پلمونالوجسٹ) ڈاکٹرسید مرتضٰی ایچ کاظمی کے صباحت نسیم کو دیئے گئے اس انٹر ویو میں

یہ بتائیے کہ سانس زندگی کی بنیادکیوں ہے؟

سانس اور زندگی کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ ہمیں سانس لیتے وقت کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لہٰذا اکثراوقات ہمیں اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔ جس طرح دل کی دھڑکن زندگی کی علامت ہے ویسے ہی چلتی سانسیں بھی زندگی کی علامت ہیں۔

کیا کھانسی کو سانس کی کسی بیماری کی علامت سمجھنا چاہئے؟

 کھانسی کے ساتھ بلغم یا خون آنا، بخار ہونا اور وزن کا تیزی سے کم ہوناٹی بی کی بنیادی علامات ہیں۔ ٹی بی اور دمے میں فرق یہ ہے کہ دمے میں کھانسی دوروں کی صورت میں اور کسی ایسی چیز کا سامنا کرنے پر آتی ہے جس سے فرد کو الرجی ہوجبکہ ٹی بی کا مریض مخصوص صورت حال کے بغیر بھی سارا دن کھانستا رہتا ہے۔ بہت سی بیماریوں کی علامات آپس میں ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹرحضرات انہیں دیگر عوامل کے ساتھ ملا کر مرض کی تشخیص کرتے ہیں۔اس لئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ محض علامات کی بنیاد پر خود علاجی سے بچا جائے۔

دمہ کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟

سانس کی نالیوں میں سوزش کو دمہ کہا جا سکتا ہے۔اس کے باعث کھانسی، سانس لیتے ہوئے سیٹی کی آواز آنے اور سینے میں جکڑن جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ انتہائی صورت میں سانس لینے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں زیادہ تر مریضوں کو مستقل نوعیت کی کھانسی ہوتی ہے جو دوروں کی شکل میں آتی ہے۔ یہ شام اور رات کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے اور صبح کے وقت بھی اس کا دورہ پڑسکتا ہے۔ بعض اوقات معمولی چلنے پھرنے سے بھی سانس پھول جاتا ہے اور کبھی کبھار رات کے وقت سوتے میں کھانسی کی وجہ سے آنکھ کھل جاتی ہے۔ اس کا سبب سانس کی نالی میں سوزش کی وجہ سے سانس کا راستہ تنگ ہو جاناہے۔

دمے کے مرض کے لئے دمہ، دَم تک کا محاورہ استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کے مطابق اس میں کتنی حقیقت ہے؟

دمے کے کچھ مریضوں کو کسی خاص شے سے الرجی ہوتی ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں کو محض نومبر یا دسمبر میں(جب موسم تبدیل ہو رہاہو) الرجی کی وجہ سے دمے کی شکایت ہوتی ہے جبکہ بعض لوگ صرف گندم کی کٹائی اور تھریشر چلنے والے مہینوں (مئی یا جون ) میں اس کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگروہ گندم کی کٹائی کے علاقوں سے دور چلے جائیں تو مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوں گی۔ اسی طرح اگر ماحول میں پائی جانے والی کسی اور شے سے الرجی کے باعث دمے کا مسئلہ ہو تو اس چیز سے دور رہ کراسے باآسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کو یہ مسئلہ پورا سال رہتا ہے۔ دوا کے استعمال سے اسے کنٹرول کر لیا جاتا ہے تاہم یہ مکمل ختم نہیں ہوتا۔ یہ محاورہ شاید اسی قسم کے مریضوں کے بارے میں بولا جاتا ہے۔

دمے سے بچاؤ کے لئے کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس شے سے الرجی ہو‘ اس سے دور رہا جائے۔ مثال کے طور پر اگر پولن الرجی کی وجہ سے دمہ ہو تو اس موسم میں کھڑکیاں وغیرہ بند رکھی جائیں۔ اگر دھول مٹی سے الرجی ہو تو قالین اور درو دیوار کو صاف رکھا جائے اور گھر سے باہر جاتے ہوئے منہ اور ناک پر رومال رکھا جائے یا ماسک لگایا جائے۔ کچھ بچوں کو سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے کھانسی اور سانس لینے میں مسئلہ ہو تا ہے لہٰذا انہیں اس سے بچایا جائے۔

اس مرض کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

ڈاکٹر جب مریض کی ہسٹری لیتا اور اس کا معائنہ کرتا ہے تو دمے کی تشخیص زیادہ تر صورتوں میں وہیں ہو جاتی ہے۔ معائنے کے دوران جب سانس میں سیٹی کی آوازیں آتی ہیں تو ڈاکٹر مرض کا اندازہ لگا لیتا ہے لیکن اگر پھر بھی کوئی شک باقی ہو تو اسے دور کرنے کے لئے سپائرومیٹری  ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں مریض کو کہا جاتا ہے کہ وہ مشین میں ایک خاص طریقے سے سانس لے۔ اس کی مدد سے اس بات کا پتا لگایا جاسکتا ہے کہ پھیپھڑے کس حد تک کام کررہے ہیں اور ان میں سانس کی کون سی بیماری پائی جارہی ہے۔ مزیدبرآں اس ٹیسٹ کی مدد سے دمہ اور سی اوپی ڈی میں بھی فرق کیا جاسکتا ہے۔

یہ بتائیے کہ دمے کے علاج کے لئے کب انہیلر ضروری ہوجاتا ہے اور کب تک دواؤں سے کام چل جاتا ہے؟

ادویات سے دمے کا علاج بہت سال پہلے کیا جاتاتھا جبکہ جدید علاج میں اب صرف انہیلر ہی تجویز کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک غلط تصور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انہیلر کا استعمال غیرمحفوظ ہے۔ بہت سے مریض دوا تو لیتے رہتے ہیں مگراس ( انہیلر) کے متعلق یہ سوچتے ہیں کہ اگر یہ ایک مرتبہ لگ گیا تو اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جائے گا۔ انہیلر میں کوئی نشہ آور دوا نہیں ہوتی اس لئے مریض اس کے عادی نہیں ہوتے۔ مزیدبرآں کھانے والی دواؤں کے ضمنی اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس انہیلر ایک ایسا آلہ ہے جس سے دواسانس کے ذریعے براۂ راست پھیپھڑوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ اگرانہیلر ڈاکٹر کی تجویز کردہ مقدار کے مطابق اور درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ کم مضرضمنی اثرات کا حامل مؤثر طریقہ ہے۔

 بچوں میں دمے کی تشخیص کیسے کی جاسکتی ہے؟

بعض دفعہ بچوں کو نزلہ، زکام اور موسمی بیماریوں مثلاً بخار، گلا خراب اور بلغم جمع ہونے کی وجہ سے کھانسی ہوسکتی ہے۔ سانس میں خرخراہٹ کی آواز کی وجہ دمہ یا بلغم جمع ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچے کی حرکات کا جائزہ لیں۔ اگر چلنے پھرنے یا بھاگنے دوڑنے کی صورت میں اس کا سانس زیادہ پھول جاتا ہو، رات کوسانس لینے میں مشکل یا خرخراہٹ ہو تو یہ دمے کا امکان ہو سکتا ہے۔ ایسے میں معالج سے رجوع کریں۔

 دمے کے شکار بچوں کوکیا احتیاطیں کرنی چاہیئں؟

سگریٹ کا دھواں اور فضائی آلودگی بچوں میں دمے کو بڑھاتی ہے۔ اس لیے انہیں اس سے بچانے پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ گھروں میں بچھائے گئے قالین میں موجود گرد بھی دمہ کے بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے اس کا استعمال کم سے کم کریں اور ہو سکے تو بالکل نہ کریں۔ بچوں کو سردی یا بہار کے موسم میں‘ خاص طور پر صبح اورشام کے اوقات میں باہر جانے کی اجازت بالکل نہ دیں۔جن کھانوں سے بچے کو بلغم اور کھانسی ہوتی ہو، ان سے پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ باقی تمام کھانوں کا استعمال متوازن نداز میں کریں۔ اگر ادویات کے بغیر دمہ کنٹرول ہو تو ٹھیک ورنہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ان کا کورس جاری رکھنا چاہیے۔

دمے اور سی او پی ڈی کی علامات میں کافی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ان دونوں میں فرق کیسے معلوم کیا جائے گا؟

سی او پی ڈی تمباکو یا سگریٹ کے عادی لوگوں کو زیادہ ہوتا ہے جبکہ دمہ الرجی کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں ماحولیاتی آلودگی کا بڑا ہاتھ ہے۔ مثال کے طور پر کان کنی یا سیلیکا انڈسٹری سے وابستہ مزدور لوگوں کو دھول مٹی کا سامنا زیادہ رہتا ہے۔ جن لوگوں کو اس سے الرجی ہو وہ دمے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان دونوں امراض میں دوسرا بڑا فرق عمر کا ہے۔ عمومی تاثر کے برعکس سی او پی ڈی بڑی عمر کے افراد میں زیادہ ہے جبکہ دمہ کسی بھی عمرمیں ہو سکتا ہے۔

نیبولائزر اور سٹیم میں فرق کیا ہے اور یہ کب تجویز کیا جاتا ہے؟

نیبولائزر ایک مشین ہے جو دمے یا سانس کی تکالیف میں مبتلا افراد کے پھیپھڑوں میں براہِ راست اور فوری طور پر دوا پہنچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مائع ادویات کو بہت عمدہ طریقے سے بھاپ میں بدل دیتا ہے۔ یہ ایک مقرہ دبائو کے ساتھ مریض کو دی جاتی ہے جسے وہ ماسک یا ماؤتھ پیس کے ذریعہ سانس کی مدد سے اندر کھینچ لیتا ہے۔ نیبولائزنگ ان مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے جن کے پھیپھڑوںمیں انہیلر کے ذریعے دوا کھینچنے کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس سٹیم نزلہ زکام یا عام کھانسی میں تجویز کی جاتی ہے۔ یہ کوئی دوا نہیں بلکہ گلے یا سانس کی نالیوں کی سوجن کو کم کرنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔ سٹیم کوئی بھی شخص کسی بھی وقت لے سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کے نزدیک کورونا اصل میں ایک نمونیاہے۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟

نمونیا پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے جس کی تین بنیادی اقسام میں وائرل، بیکٹیریل اورفنگل نمونیا شامل ہیں۔ اس میں زیادہ عام قسم بیکٹیریا سے ہونے والا نمونیا ہے جس میں اینٹی بائیوٹیکس دی جاتی ہیں۔کورونا ایک وائرس ہے جس سے ہونے والی بیماری کو کووڈ19 کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کے تین مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں مائلڈ کووڈ انفیکشن ہوتا ہے۔ اس میں سانس یا پھیپھڑوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ دوسرا مرحلہ کووڈ نمونیا ہے جس میں یہ وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے اورنتیجتاً نمونیا ہوجاتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں کووڈ نیمونائٹس ہوتا ہے جس میں پھیپھڑوں کے ٹشو سوج جاتے ہیں اور مریض کو سانس لینے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ اس کے باعث مریض آئی سی یو تک بھی جاسکتا ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ کورونا وائرس نمونیا کا سبب بنتا ہے۔ تاہم اس کی شدت میں فرق ہوتا ہے اور بروقت اور صحیح علاج سے اس سے مکمل صحت یاب ہواجاسکتا ہے۔

کیاکورونا کو سانس کی بیماری کہا جا سکتا ہے؟

اس کا نام کورونا کراؤن یعنی تاج سے نکلا ہے۔ اگر آپ کی اس کی شکل پر غور کریں تو وہ تاج جیسی لگتی ہے۔ اس کی بیرونی نوکیں یعنی سپائیکس پھیپھڑوں کے ٹشوز میں داخل ہوکر ان میں سوزش کا باعث بنتی ہیں نتیجتاً مریض نمونیا کا شکار ہوجاتا ہے۔

کیا دودھ پلانے والی مائیں کورونا کی ویکسین لگوا سکتی ہیں؟

 جی ہاں نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سنٹر کی ہدایات کے مطابق دودھ پلانے والی ماؤں کو سائنو فارم، سائینو ویک اور کینسینو ویکسین لگائی جاسکتی ہیں۔

نمونیا کی ویکسین کن مریضوں کو اور کب تجویز کی جاتی ہے؟

نمونیا کی ویکسین ان تمام مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے جنہیں سانس کی خطرناک بیماری ہو اور ان کی قوت مدافعت کمزور ہو۔اس میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کورونا وائرس سے ہوتا ہے جبکہ ویکسین نمونیا کا باعث بننے والے بیکٹیریا سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے لگائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ڈاکٹر کی بتائی گئی دیگر احتیاطی تدابیر اور ادویات کا استعمال لازمی ہے۔

گہری سانس کا ذہنی تناؤ سے چھٹکارا حاصل کرنے سے کیا تعلق ہے؟

غصہ، خوف اور بدلہ لینے جیسے جذبات آپ کے جسم میں لڑائی یا بھاگ جانے کے ردعمل کو تیز کردیتے ہیں۔ اس کے باعث دماغ سے کشیدگی والے ہارمونز کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً نہ صرف دل کی دھڑکن بلکہ سانس بھی تیز ہوجاتی ہے۔ ایسی کیفیت میں جب آپ گہری سانس لیتے ہیں تو تازہ آکسیجن آپ کے دماغ کو سکون اور آرام کی حالت میں لوٹنے کا پیغام دیتی ہے۔ اس طرح دماغ جسم کو پرسکون کرنے والے ہارمونز کی پیداوار کو بڑھادیتا ہے۔

پریشانی کے عالم میں ہم زور سے سانس لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

انسانی خون تیزاب اور اساس سے مل کر بنتا ہے جن کی مقدار کا تعین پی ایچ سکیل پر کیا جاسکتا ہے۔ اگر خون میں ان کی مقدار میں معمولی سی بے ترتیبی بھی آجائے تو یہ صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک خاص کیفیت میں خون میں موجودکاربن ڈائی آکسائیڈ اپنی مخصوص سطح سے کم ہوجاتی ہے۔ اس کی عام وجوہات میں پھیپھڑوں کی بیماری،ذہنی تناؤاورآکسیجن کی کمی شامل ہیں۔ اس کے علاج کے لئے مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کاغذ کا لفافہ لے اور اسی کے اندر سانس لے اور باہر نکالے تاکہ خارج کی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوا میں ملنے کی بجائے واپس خون میں شامل ہوجائے۔ ایسا کرنے سے کچھ دیر میں مریض کی سانس لینے کی رفتار نارمل ہوجاتی ہے۔

ہم پھیپھڑوں کو صحت مند کیسے رکھیں؟

صحت مند پھیپھڑوں کے لئے آلودگی سے پاک تازہ ہوا بہت ضروری ہے۔ اس لئے صحت مند افراد بالعموم اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کو بالخصوص ہرے بھرے علاقوں میں صبح کے وقت واک یا ورزش کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ایک اور بات سمجھنے کی ہے کہ سانس لینے میں پھیپھڑے جتنے اہم ہیں اتنا ہی اہم کردارسینے کے پٹھوں کا بھی ہے جو ورزش اور صحت بخش طرززندگی سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر یہ کمزور ہوجائیں تو بھی ہمیں سانس لینے میں دقت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ترک کریں، متوازن غذا کھائیں اور صحت مند طرززندگی اپنائیں۔

Spirometry, Respiratory alkalosis, fight or flight, Pneumonitis, Chronic Obstructive Pulmonary Disease

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x