کام والی کی کام یاب بیٹی

1

کام والی کی کام یاب بیٹی

عالمی یوم خواتین کے تناظر میں اقوام متحدہ نے رواں سال کے لئے ’’خواتین قائدانہ کردار میں‘‘ کو مرکزی خیال طے کیا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے شفانیوز میں ان خواتین کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو کسی نہ کسی شعبہ زندگی میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔اس کا مقصد خواتین کوکامیاب خواتین کی جدوجہد، جرأت اورہمت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس ماہ گھروں میں کام کرنے والی کی بیٹی امبر منیر کی کہانی بیان کی جارہی ہے جو دبئی کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں منیجر آپریشنز کی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کی زندگی اور کیریئرکے بارے میں جانئے صباحت نسیم کے اس انٹرویو میں

آپ کی پیدائش کہاں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

میں کراچی میں پیدا ہوئی۔ کچھ عرصے بعد میرے والدین میں جدائی ہوئی اور میرے والد ہم بہن بھائیوں اورہماری ماں کو بے یارو مددگار چھوڑ کرچلے گئے ۔میری والدہ نے ہمیں پالنے کے لئے کھانے کے ڈبے سکولوں کی کینٹین اور دفتروں میں ڈیلیور کرنے کا کام کیا۔میں نے جب سے ہوش سنبھالاتب سے ہی گھر کے حالات بہت برے تھے۔ ہمارا گھر ایک کمرے پر مشتمل تھا جس میں بنیادی ضرورت کی اشیاء بھی مہیا نہیں تھیں ۔مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہو رہی کہ ہماری تو ابتدائی تعلیم بھی لوگوں کی خیرات اور زکوٰۃ لے کر مکمل ہوئی۔ میٹرک کے بعد میں نے گورنمنٹ کالج سے انٹر کیا۔ کچھ عرصہ مختلف چھوٹے درجے کی نوکریاں کیں اور پھر دبئی آگئی۔ یہاں میں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل کی۔

زندگی کے سفر میں آگے بڑھنے کے لئے آپ کی انسپائریشن کیا تھی؟

زندگی کے اس کٹھن سفر میں آگے بڑھنے کی طاقت اور قوت بخشنے والی ہستی میری والدہ تھیں۔ اتنے برے حالات میں بھی انہوں نے ہار نہیں مانی۔ اپنی والدہ کی محنت اور لگن کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ اگر وہ پڑھی لکھی ہوتیں تو ہم اتنی مشکل میں نہ ہوتے اور یہی ایک وجہ تھی کہ میں نے کام کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کی۔

میں ہمیشہ چاہتی تھی کہ جن مشکلات کا مجھے سامنا ہے، میرے بہن بھائیوں کو نہ ہو۔ انہیں بہتر اور پرسکون زندگی دینے کے لئے میں نے اپنی امی کے ساتھ مل کر دن رات محنت کی۔ ہمیں دو وقت کی روٹی کھلانے کے لئے انہوں نے ہر کام کیا، یہاں تک کہ لوگوں کے گھروں میں جھاڑو بھی لگائے۔ میرے بہن بھائی مجھ سے بہت چھوٹے تھے اور گھر کے بہتر مستقبل کی ساری ذمہ داری میرے ہی کندھوں پر تھی۔ لہٰذا میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ امی کا دست و بازو بنوں۔ میں چاہتی تھی کہ ہماری پرورش کے لئے جس تکلیف میں انہوں نے اپنی جوانی گزار دی، ان کا بڑھاپا ویسانہ ہو۔ میں خود کو اس قابل بنا لوں کہ جو سکون انہوں نے مجھے بچپن میں دیا، وہ میں انہیں بڑھاپے میں دے سکوں۔

پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟

میٹرک کے بعد پیشہ ورانہ زندگی کی ابتدا میں نے پرائمری سکول ٹیچنگ سے کی۔ مجھے گھر چلانے اور ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے پیسے کی اشد ضرورت تھی۔ میرے گھر میں بچوں کوپڑھانے کی گنجائش نہیں تھی لہٰذا میں لوگوں کے گھر جا کر ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ پھر اپنی ایک سہیلی کے مشورے پر میں نے کئی دفتروں میں کام کیا۔اس کے ساتھ ساتھ میں نے مختلف تصدیق شدہ ویب سائٹس پر اپنا پروفائل بنایا اوربیرون ملک نوکریوں کے لئے اپلائی کرتی رہی۔

ایک دن کینیڈا کی ایک کمپنی نے انٹرویو کے لئے مجھ سے رابطہ کیا۔ انہیں دبئی میں موجود دفتر کے لئے سٹاف کی ضرورت تھی اور وہاں میں منتخب ہوگئی۔ یہاں تک توسب ٹھیک ہو گیا مگر اب خوف اس بات کا تھا کہ اکیلے ملک سے باہر جاناکیسے ممکن ہوگا اور لوگ کیا کہیں گے۔ اس سے قبل مجھے اس بات کی تصدیق بھی کرنا تھی کہ واقعی وہاں ایسی کوئی کمپنی ہے بھی یا نہیں۔ میں نے اپنے کچھ جاننے والوں کی مدد سے اس کمپنی کا پتا لگایا تو معلوم ہوا کہ وہ حقیقی کمپنی تھی۔ میری والدہ نے اس سلسلے میں میرا مکمل ساتھ دیا۔انہوں نے پورے خاندان کے طعنوں کو نظر انداز کیا اور مجھے دبئی بھیجا تاکہ ہم سب کامستقبل پرسکون اور روشن ہوسکے۔ آج کل میں دبئی کی ایک کمپنی میں منیجر آپریشنز کے طور پراپنی خدمات سر انجام دے رہی ہوں۔

باہر جانے والے نوجوانوں کو آپ کیا مشورہ دیںگی؟

باہر جانے والے نوجوانوں کو میں یہی کہوں گی کہ پاکستان میں ایسی بہت سی جعلی کمپنیاں ہیں جو پیسے لیتی ہیں لیکن کام نہیں کرتیں۔ایسے کسی ادارے پر بھروسا نہ کریں اورنہ ہی اپنا وقت اور پیسہ ضائع کریں۔ تصدیق شدہ ویب سائٹس انٹر نیٹ پرموجود ہیں،وہاں سے اپلائی کیاکریں۔ مدد کے لئے کسی دوسرے شخص پر بھروسا کرنے کی بجائے اپنی مدد آپ کریں۔ جب آپ خود کسی مقام پر پہنچ جائیں تو ضرورت مندوں کی مددلازماً کریں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ باہر کا ماحول خراب ہے اورپاکستانی بچیاں وہاں کیسے اپنی حفاظت کریں گی، ان سے کہنا چاہوں گی کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی حدود خود مقرر کرنا ہوتی ہیں اوراپنے کام پر توجہ دینی ہے۔ جب تک آپ خودکسی دوسرے ملک میں آنہیں جاتے، تب تک سنی سنائی باتوں پر بالکل یقین نہ کریں۔

زندگی کا کوئی تکلیف دہ واقعہ جو آپ قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہیں؟

 زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤآئے اوراس سفر کی یادیں کافی تلخ ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعات شیئر کرنا چاہوں گی۔ ان میں سے پہلا واقعہ بچپن کا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہمارے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں تھے۔اس کی وجہ سے ہم گھر کا چند ماہ کا بالکل معمولی ساکرایہ بھی ادا نہ کرپائے جو صرف 3000روپے تھا۔ایک دن مالک مکان خاتون غصے میں ہمارے گھر آئیں اورمیری والدہ سے کہا کہ ا گر آپ کرایہ نہیں دے سکتیں تو مجھ سے کچھ پیسے لے کر خود بھی زہر کھا لیں اور اپنے بچوں کو بھی دے دیں۔ یہ بات میرے دل میں آج بھی پیوست ہے کہ اتنی معمولی رقم کے لئے کوئی اتنا خودغرض اور ظالم کیسے ہوسکتا ہے۔

اس دن میں نے یہ عہد کیا کہ مجھے لینے والا نہیں، دینے والا ہاتھ بننا ہے اوراتنا پیسہ کمانا ہے کہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے جیسے ضرورت مندوں کے لئے بھی باعث رحمت بن سکوں۔ اس کے علاوہ کئی عیدوں پر میں نے اور میری بہن نے دوسروں کی اترن پہن کر اپنی عید منائی۔ سکول کی کئی ایسی تقریبات آئیں جب ٹیلنٹ ہونے کے باوجود تقریب کے مطابق کپڑے یا جوتے نہ ہونے کے باعث میں نے ان میں حصہ نہیں لیا۔ میں جانتی تھی کہ اگر حصہ لوں گی تو امی کو پھر کسی سے ادھار لینا پڑے گا یا کسی کی منت کرنا پڑے گی جس کی اجازت مجھے میرا ضمیر نہیں دیتا تھا۔

آپ اپنی کامیابی کا کریڈٹ کس کو دینا چاہیں گی؟

شادی سے قبل ہر اچھے برے وقت میں میری والدہ اور بہن بھائی نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ شادی کے بعد میرے شوہر نے مجھے بھروسا دیا اور اتنی آزادی دی کہ میں اپنے خواب پورے کرسکوں۔ میں تمام میاں بیوی،بہن بھائیوں اوروالدین سے گزارش کروں گی کہ اپنے گھر والوں کو بھروسا دیں،ان پر ،ان کے خوابوں پر یقین کریں اورانہیں پورا کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔ تبھی نہ صرف آپ بہتراور روشن مستقبل کے حصول میں کامیاب ہوپائیں گے بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال گھرانہ بھی تشکیل دے پائیں گے۔ اگر ہر شخص اپنی جگہ یہ کوشش کرنا شروع کردے تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ہم بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

گھر کو صحت کا گہوارہ بنانے کے لئے کیا کرتی ہیں؟

میرے مطابق گھر کی خاتون کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر آپ صحت مند ہیں تو نہ صرف اپنے گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں بخوبی نبھا پائیں گی بلکہ اپنی پروفیشنل زندگی کو بھی بہتر انداز میں لے کر چل سکیں گی۔ اس لئے میں اپنی صحت کاخاص خیال رکھتی ہوں، باقاعدہ ورزش کرتی ہوں اوراہل خانہ کے لئے گھر میں صحت بخش کھانے بناتی ہوں۔ ہماری خواتین میں یہ سوچ بہت عام ہے کہ انہیں سب کو خوش رکھنا ہے۔ میں ایسی تمام خواتین سے کہوں گی کہ آپ تب ہی سب کو خوش رکھ پائیں گی جب آپ خود دل سے مسکرائیں گی۔ جب آپ کا ذہن مطمئن ہوگا تو خوشی اور دلی سکون آپ کے چہرے پر دکھائی دے گا۔ اپنے حسن اور شادابی برقرار رکھنے کے لئے اپنی صحت کو پہلے رکھیں۔

خواتین کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟

میں خواتین کو یہی پیغام دوں گی کہ خود پر یقین کریں۔ آپ زندگی میں بہت کچھ کرسکتی ہیں لہٰذاکبھی ہار مت مانیں۔ اپنے اندر چھپے ہوئے ہنر کونہ صرف تلاش کریں بلکہ اسے تراشیں کیونکہ دنیا میں کوئی چیزبے کار یا ناکارہ نہیں بنائی گئی۔ حالات کیسے بھی ہوں، چلتی جائیں اور کوشش کرتی رہیں، کامیابی آپ کا مقدر ہوگی۔

Amber Muneer, success story, interview with shifa, successful women

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x