Vinkmag ad

ریٹینا کی بیماریاں

Ophthalmologist examining a patient’s eye using specialized equipment to diagnose retinal

ریٹینا کی بیماریاں (Retinal diseases)  آنکھ کے پچھلے اندرونی حصے میں موجود باریک جھلی، یعنی ریٹینا کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہ جھلی آنکھ کے اندرونی پچھلے دیوار پر موجود ہوتی ہے اور دیکھنے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ریٹینا کی بیماریاں مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہیں، مگر زیادہ تر بینائی سے متعلق علامات پیدا کرتی ہیں۔

اقسام

ریٹینا کی عام بیماریاں اور حالتیں درج ذیل ہیں:

ریٹینا میں دراڑ

یہ اس وقت بنتی ہے جب آنکھ کا جیلی نما مادہ ریٹینا کو کھینچتا ہے۔ اس سے اس کی باریک جھلی میں شگاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اچانک فلوٹرز بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ فلوٹرز آنکھ کے سامنے نظر آنے والے چھوٹے دھبے، نقطے یا جالے ہوتے ہیں جو تیرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ دراصل آنکھ کے اندر موجود جیلی نما مادے (وِٹریئس) میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے بنتے ہیں اور روشنی کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

ریٹینا کا الگ ہونا

اس حالت میں ریٹینا کے نیچے سیال جمع ہو جاتا ہے جس کے باعث ریٹینا اپنی جگہ سے ہٹنے لگتا ہے اور بینائی تیزی سے متاثر ہو سکتی ہے

ذیابیطسی ریٹینوپیتھی

یہ ذیابیطس کی پیچیدگی ہے جس میں آنکھ کی باریک خون کی نالیاں کمزور ہو کر لیک کرنے لگتی ہیں یا پھٹ جاتی ہیں۔ اس سے ریٹینا سوج جاتا ہے اور بینائی خراب ہو جاتی ہے

ریٹینا پر جھلی بننا

اس میں ریٹینا کی سطح پر باریک جھلی بن جاتی ہے جو اسے کھینچتی ہے اور بینائی کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس سے سیدھی چیزیں ٹیڑھی نظر آنے لگتی ہیں

میکولا میں سوراخ

یہ ریٹینا کے مرکزی حصے میں چھوٹا سا سوراخ ہے جو عموماً کھچاؤ یا آنکھ کی چوٹ کے باعث بنتا ہے اور مرکزی بینائی کو متاثر کرتا ہے

مرکزی بینائی کی خرابی

میکولر ڈی جنریشن میں ریٹینا کا مرکزی حصہ بتدریج خراب ہو جاتا ہے، جس سے درمیان میں بلائنڈ سپاٹ بن سکتا ہے اور پڑھنے یا چہرے پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے

رات اور اطراف کی بینائی کی کمزوری

ریٹینائٹس پگمینٹوسا ایک موروثی بیماری ہے جو آہستہ آہستہ ریٹینا کو متاثر کرتی ہے۔ پہلے رات کی بینائی کم ہوتی ہے، اور بعد میں سائیڈ وژن بھی متاثر ہو جاتا ہے

علامات

ریٹینا کی بہت سی بیماریوں میں مشترکہ علامات پائی جاتی ہیں جن میں شامل ہیں:

٭ آنکھوں کے سامنے تیرتے دھبے یا جالے نظر آنا

٭ دھندلی یا متاثرہ بینائی جس میں سیدھی لکیریں لہردار دکھائی دیں

٭ اطراف کی بینائی میں کمی

٭ بینائی کا کم ہونا یا ختم ہونا

ان تبدیلیوں کو بہتر طور پر محسوس کرنے کے لیے ہر آنکھ سے الگ الگ دیکھنا مفید ہو سکتا ہے۔

خطرے کے عوامل

ریٹینا کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں:

٭ بڑھتی عمر

٭ تمباکو نوشی

٭ موٹاپا

٭ ذیابیطس یا دیگر بیماریاں

٭ آنکھ کی چوٹ

٭ فیملی ہسٹری

 ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

بینائی میں کسی بھی تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں اور فوری طبی توجہ حاصل کریں۔ اگر اچانک فلوٹرز، روشنی کی چمک یا بینائی میں کمی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ یہ علامات ریٹینا کی کسی سنگین بیماری کی علامت ہو سکتی ہیں۔

تشخیص

تشخیص کے لیے ماہر امراض چشم مکمل معائنہ کرتا ہے اور آنکھ کے ہر حصے کا جائزہ لیتا ہے۔ بیماری کی نوعیت، مقام اور شدت جاننے کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

ایمسلر گرڈ ٹیسٹ

اس کے ذریعے مرکزی بینائی جانچی جاتی ہے۔ مریض سے پوچھا جاتا ہے کہ لکیریں مدھم، ٹوٹی یا ٹیڑھی تو نہیں۔ خرابی کی جگہ سے ریٹینا کے نقصان کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اسے گھر پر بھی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے

او سی ٹی ٹیسٹ

یہ ریٹینا کی تفصیلی تصاویر لینے کا جدید اور مؤثر طریقہ ہے۔ اس سے مختلف بیماریوں کی تشخیص اور ان کی پیش رفت کی مانیٹرنگ ممکن ہوتی ہے

فنڈس آٹو فلوروسینس ٹیسٹ

ریٹینا کی بیماری کے مرحلے کا تعین کرتا ہے۔ یہ ایک خاص مادے کو نمایاں کرتا ہے جو نقصان بڑھنے پر زیادہ ظاہر ہوتا ہے

فلوروسین انجیوگرافی

اس ٹیسٹ میں ایک خاص رنگ استعمال کیا جاتا ہے جو خون کی نالیوں کو واضح کرتا ہے۔ اس سے بند، رسنے والی یا غیر معمولی نالیوں کی شناخت ممکن ہوتی ہے

انڈوسائنین گرین انجیوگرافی

یہ بھی رنگ کے ذریعے کی جاتی ہے جو مخصوص روشنی میں نمایاں ہوتا ہے۔ اس سے ریٹینا کے نیچے موجود گہری نالیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے

الٹراساؤنڈ

اس میں آنکھ کے اندرونی ڈھانچے کو دیکھا جاتا ہے۔ یہ بعض رسولیوں کی تشخیص میں بھی مددگار ہوتا ہے

سی ٹی اور ایم آر آئی

یہ بعض مخصوص صورتوں میں آنکھ کی چوٹ یا رسولی کے جائزے کے لیے کیے جاتے ہیں

علاج

علاج کا بنیادی مقصد بیماری کو روکنا یا اس کی رفتار کم کرنا اور بینائی کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ بعض نقصانات ختم نہیں کیے جا سکتے، اس لیے بروقت تشخیص نہایت اہم ہے۔ ماہر ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق بہترین علاج کا انتخاب کرتا ہے۔

ریٹینا کی بیماریوں کا علاج بعض اوقات پیچیدہ اور فوری نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس کیلئے درج ذیل طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں:

٭ لیزر سرجری کے ذریعے ریٹینا کی دراڑ یا سوراخ کو بند کیا جاتا ہے اور ریٹینا کو نیچے کی تہہ سے مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے

٭ لیزر کے ذریعے خون کی غیر معمولی نالیوں کو سکیڑا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ذیابیطسی ریٹینوپیتھی میں مؤثر ہے تاہم اطراف یا رات کی بینائی متاثر ہو سکتی ہے

٭ فریز کرنے کے طریقے میں آنکھ کے باہر سے ٹھنڈا آلہ لگا کر ریٹینا کو اس کی جگہ پر مضبوط کیا جاتا ہے

٭ آنکھ کے اندر ہوا یا گیس ڈال کر ریٹینا کو درست مقام پر لایا جاتا ہے

٭ سلیکون کا ٹکڑا آنکھ کی سطح پر لگا کر ریٹینا پر پڑنے والا دباؤ کم کیا جاتا ہے

٭ اندرونی جیلی نما مادہ نکال کر اس کی جگہ گیس یا مائع ڈالا جاتا ہے

٭ آنکھ کے اندر دوا کا انجیکشن دے کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے

٭ بینائی کے شدید نقصان کی صورت میں ریٹینا کا مصنوعی آلہ نصب کیا جاتا ہے جو کیمرے سے معلومات لے کر دماغ تک پہنچاتا ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

ریبیز

Read Next

ایچ پی وی ٹیسٹ

Leave a Reply

Most Popular