Vinkmag ad

ان وِٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف)

VF specialist explaining fertilization process to a woman in a clinic, with a monitor displaying a close-up of egg and sperm during the procedure.

ان وِٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) ایک پیچیدہ میڈیکل پروسیجر ہے جو حمل کے امکان کو بڑھاتا ہے۔ یہ بانجھ پن کے علاج کے طور پر استعمال ہوتا ہے، خصوصاً جب ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ کوشش کے باوجود حمل نہ ٹھہرے۔ اس پروسیجر کا ایک مقصد بعض جینیاتی بیماریوں کو بچے میں منتقل ہونے سے روکنا بھی ہے۔

اس عمل میں بیضہ دانی سے پختہ انڈے حاصل کیے جاتے ہیں اور انہیں لیبارٹری میں سپرم کے ساتھ بارآور کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بننے والے ایمبریوز کو رحم میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں وہ حمل کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک مکمل آئی وی ایف سائیکل عام طور پر دو سے تین ہفتے لیتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں وقت بڑھ بھی سکتا ہے۔

آئی وی ایف کو جدید معاون تولیدی ٹیکنالوجی میں سب سے مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے جس میں انڈے، سپرم اور ایمبریو کو لیبارٹری میں مینج کیا جاتا ہے۔

وجوہات

آئی وی ایف بنیادی طور پر بانجھ پن یا جینیاتی خطرات کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ اس پروسیجر کو اختیار کرنے کی عمومی وجوہات یہ ہیں:

٭ فیلوپین ٹیوب کا بند یا خراب ہونا، جس سے انڈے اور سپرم کا ملاپ مشکل ہو جاتا ہے

٭ بیضہ دانی کی خرابی جس میں انڈوں کی پیداوار کم یا غیر معمولی ہو

٭ اینڈومیٹریوسس، جس میں رحم کی اندرونی جھلی جیسا ٹشو باہر بڑھنے لگتا ہے

٭ یوٹرائن فائبرائڈز، جو رحم میں غیر سرطانی رسولیاں ہوتی ہیں اور ایمبریو کے چپکنے میں رکاوٹ بنتی ہیں

٭ پہلے کی کچھ سرجریز جیسے ٹیوبل لِگیشن، جس کے بعد قدرتی حمل ممکن نہیں رہتا

٭ مردانہ بانجھ پن جیسے سپرمز کی کم تعداد یا ان کی کوالٹی متاثر ہونا

٭ غیر واضح بانجھ پن، جب تمام ٹیسٹ نارمل ہوں مگر حمل نہ ٹھہرے

٭ جینیاتی بیماری کے خطرے کی صورت میں ایمبریو کی خصوصی جانچ کے بعد صحت مند ایمبریو کا انتخاب

٭ کینسر یا دیگر بیماریوں کے علاج سے پہلے بارآوری کی صلاحیت محفوظ رکھنے کی ضرورت

ممکنہ خطرات

آئی وی ایف ایک مؤثر لیکن جسمانی اور ذہنی طور پر مشکل عمل ہے جس میں کچھ خطرات بھی ہوتے ہیں:

٭ جسمانی، ذہنی اور مالی دباؤ جو علاج کے دوران بڑھ سکتا ہے

٭ انڈے نکالنے کے عمل میں پیچیدگیاں جیسے خون بہنا، انفیکشن یا اندرونی اعضاء کو نقصان

٭ بیضہ دانی کی سوجن یعنی اووریئن ہائپر سٹیمولیشن سنڈروم، جس میں پیٹ درد، متلی اور اپھارہ شامل ہو سکتے ہیں

٭ اسقاط حمل کا امکان جو عمر کے ساتھ بڑھ جاتا ہے

٭ ایکٹوپک حمل، جس میں ایمبریو رحم کے باہر لگ جاتا ہے اور حمل جاری نہیں رہ سکتا

٭ متعدد حمل، جس سے ماں اور بچوں دونوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں

٭ قبل از وقت اور کم وزن بچے کی پیدائش کا امکان

٭ بعض پیدائشی مسائل کا معمولی بڑھا ہوا خطرہ، تاہم اس پر مزید تحقیق جاری ہے

تیاری کا عمل

آئی وی ایف سے پہلے مستند فرٹیلیٹی کلینک کا انتخاب ضروری ہے۔ مختلف ٹیسٹ اور معلومات علاج کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

٭ بیضہ دانی کے ریزرو ٹیسٹ، جو انڈوں کی تعداد اور معیار کا اندازہ لگاتے ہیں

٭ سپرم کا تجزیہ، جس میں تعداد، شکل اور حرکت کا جائزہ لیا جاتا ہے

٭ متعدی بیماریوں مثلاً ایچ آئی وی وغیرہ کی سکریننگ

٭ یوٹرس کا معائنہ تاکہ رحم کی حالت اور ساخت معلوم کی جا سکے

علاج

آئی وی ایف سائیکل میں ہارمونز کے ذریعے بیضہ دانی کو زیادہ انڈے بنانے کے لیے متحرک کیا جاتا ہے۔ انڈوں کو پختہ کرنے، ان کا اخراج روکنے اور رحم کی تیاری کے لیے مختلف ادویات استعمال ہوتی ہیں۔

انڈے الٹراساؤنڈ کی مدد سے باریک سوئی کے ذریعے نکالے جاتے ہیں۔ یہ عمل کلینک میں کیا جاتا ہے اور اس میں مختصر وقت لگتا ہے۔

انڈے اور سپرم کو بارآور کیا جاتا ہے، کبھی عام طریقے سے اور کبھی آئی سی ایس آئی کے ذریعے۔

ایمبریو کو رحم میں منتقل کرنے سے پہلے بعض اوقات جینیاتی ٹیسٹنگ یا ہیچنگ میں مدد دینے والے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کامیابی کے امکانات بڑھ سکیں۔

ایمبریو کو ایک باریک کیتھیٹر کے ذریعے رحم میں رکھا جاتا ہے۔ اگر عمل کامیاب ہو جائے تو ایمبریو چند دن میں رحم کی دیوار سے جڑ جاتا ہے۔

بعد از علاج علامات

علاج کے بعد مریض اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں واپس جا سکتا ہے، تاہم کچھ علامات کا سامنا ہو سکتا ہے:

٭ خون یا شفاف رطوبت کا اخراج

٭ چھاتی میں حساسیت

٭ ہلکا اپھارہ اور پیٹ میں درد

٭ قبض یا معمولی تکلیف

شدید درد، زیادہ خون بہنے یا بخار کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری رابطہ ضروری ہے۔

نتائج اور کامیابی کے عوامل

حمل کی تصدیق عام طور پر 12 دن بعد خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے۔ کامیابی کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے جن میں عمر، صحت، بانجھ پن کی وجہ اور طرز زندگی شامل ہیں۔

نوجوانی میں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ شرح کم ہو جاتی ہے۔ تمباکو نوشی، موٹاپا اور غیر صحت مند عادات کامیابی کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہیں۔

آئی وی ایف ایک مؤثر مگر پیچیدہ علاج ہے جس میں درست مشاورت اور طبی رہنمائی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

پیشاب میں پروٹین

Read Next

بچھو کا ڈنک

Leave a Reply

Most Popular