لیزر کے ذریعے بالوں کا خاتمہ (Laser hair removal) ایک میڈیکل پروسیجر ہے، جس میں روشنی کی ایک مرتکز شعاع استعمال ہوتی ہے۔ یہ روشنی بالوں کے رنگ دار مادے میں جذب ہوتی ہے جسے میلانن کہا جاتا ہے۔ روشنی کی حرارت بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے جس کے نتیجے میں بالوں کی افزائش کافی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ کچھ بال مستقل طور پر ختم ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ وقت کے ساتھ دوبارہ اگ آتے ہیں۔ واضح نتائج کے لیے زیادہ تر افراد کو کئی سیشن درکار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار اضافی سیشن کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
لیزر کے ذریعے غیر ضروری بال کم کیے جاتے ہیں۔ اس میں بالعموم ٹانگوں، بغلوں، اوپری ہونٹ، ٹھوڑی اور بیکنی لائن کے بال شامل ہیں۔ جسم کے زیادہ تر حصوں پر یہ طریقہ استعمال ہو سکتا ہے، تاہم پلکوں، بھنوؤں یا ان کے اردگرد کی جگہوں پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ٹیٹو والی جلد پر بھی یہ طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا۔
یہ علاج اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب بالوں اور جلد کے رنگ میں واضح فرق ہو۔ مثال کے طور پر سیاہ بال اور سفید جلد زیادہ بہتر نتائج دکھاتی ہے۔
گہرے بھورے اور سیاہ بال، بہتر ردعمل دیتے ہیں۔ سنہری، سفید اور سرمئی بالوں میں رنگ کم ہوتا ہے، اس لیے ان پر یہ علاج اتنا مؤثر نہیں ہوتا۔ لیزر سرخ بالوں پر بھی کم اثر ڈالتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سرخ بالوں میں مختلف قسم کا میلانن ہوتا ہے جو لیزر توانائی کو مؤثر طریقے سے جذب نہیں کرتا۔
لیزر علاج زیادہ بالوں کی بنیادی وجہ کو ختم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ہارمون کی خرابی یا پولی سسٹک اووری سنڈروم والے افراد میں نئے بال اگ سکتے ہیں۔ انہیں مسلسل علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
خطرات
لیزر کے ذریعے بالوں کے خاتمے کے خطرات کا تعلق جلد کے رنگ، علاج کے منصوبے اور ہدایات پر عمل سے ہوتا ہے۔
سیاہ اور بھوری جلد میں رنگ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے لیزر کی قسم اور توانائی کی مقدار اہم ہوتی ہے۔ اس سے جلنے یا جلد کے رنگ میں مستقل تبدیلی کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے ماہر کا انتخاب فائدہ مند ہوتا ہے جو مختلف جلدی رنگوں کا تجربہ رکھتا ہو۔ اس سے حفاظت اور نتائج بہتر ہوتے ہیں۔
اس کے عام مضر اثرات میں شامل ہیں:
جلد میں جلن: علاج کے بعد سوجن اور کچھ بے آرامی عام ہیں۔ یہ علامات چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔
جلد کے رنگ میں تبدیلی: علاج شدہ جلد گہری یا ہلکی ہو سکتی ہے۔ یہ تبدیلی عموماً عارضی ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات مستقل بھی ہو سکتی ہے۔ یہ خطرہ سیاہ یا بھوری جلد والوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ دھوپ سے بچاؤ نہ کرنے والوں میں بھی یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
کم عام اثرات میں چھالے، زخم، داغ اور جلد کی ساخت میں تبدیلی شامل ہیں۔ بعض اوقات علاج شدہ حصے کے اردگرد بال زیادہ موٹے ہو سکتے ہیں۔
آنکھوں کے شدید نقصان کے خطرے کے باعث پلکوں، بھنوؤں اور اردگرد کے حصوں پر یہ طریقہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
تیاری کیسے کریں
ایسے طبی ماہر کا انتخاب کریں جو ڈرماٹولوجی یا کاسمیٹک سرجری میں ماہر ہو۔ یہ بھی یقینی بنائیں کہ پروسیجر انجام دینے والا فرد تربیت یافتہ ہو۔ ایسے سپا یا سیلون سے پرہیز کریں جہاں غیر طبی عملہ یہ عمل انجام دیتا ہو۔
علاج سے پہلے مشورہ لینے کے لیے وقت طے کریں۔ اس ملاقات میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ یہ طریقہ آپ کے لیے مناسب ہے۔ اس دوران ماہر یہ کام کر سکتا ہے:
٭ میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لے گا
٭ استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں پوچھے گا
٭ خطرات، فوائد اور متوقع نتائج پر بات کرے گا
٭ علاج شدہ حصوں کی تصاویر لے گا تاکہ بعد میں موازنہ ہو سکے
علاج کی تیاری کے لیے آپ کو یہ ہدایات دی جا سکتی ہیں:
٭ سورج کی روشنی اور ٹیننگ بیڈ سے پرہیز کریں
٭ کم از کم SPF 30 والا سن سکرین استعمال کریں
٭ مصنوعی ٹیننگ پراڈکٹس استعمال نہ کریں
٭ علاج سے کم از کم چار ہفتے پہلے ویکسنگ یا پَلکنگ بند کریں
٭ اپوائنٹمنٹ سے ایک دن پہلے اس حصے کے بال صاف کریں
طریقہ کار
زیادہ تر افراد کو بہترین نتائج کے لیے 4 سے 8 سیشن درکار ہوتے ہیں۔ یہ سیشن عام طور پر چند ہفتوں کے وقفے سے کیے جاتے ہیں۔
علاج کے دوران آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی چشمہ پہنایا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس حصے کے بال دوبارہ صاف کیے جا سکتے ہیں۔ تکلیف کم کرنے کے لیے سن کرنے والی کریم لگائی جا سکتی ہے۔
پروسیجر کے دوران
لیزر سپیشلسٹ ہاتھ سے پکڑنے والی لیزر ڈیوائس جلد پر رکھتا ہے۔ بہت سے لیزرز میں ٹھنڈک کا نظام ہوتا ہے۔ اس میں ٹھنڈی نوک یا کولنگ سپرے شامل ہوتا ہے، جس سے جلد محفوظ رہتی ہے اور تکلیف کم ہوتی ہے۔ علاج سے پہلے ٹھنڈا جیل بھی لگایا جا سکتا ہے۔
جب لیزر آن ہوتا ہے تو روشنی جلد سے گزر کر بالوں کی جڑوں تک پہنچتی ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی حرارت جڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ آئندہ بالوں کی افزائش کو سست کرتی ہے۔ آپ کو ربڑ بینڈ جیسا ہلکا سا جھٹکا محسوس ہو سکتا ہے۔ کولنگ سسٹم کی وجہ سے ٹھنڈک بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
چھوٹے حصے، جیسے اوپری ہونٹ، کا علاج چند منٹ میں ہو سکتا ہے۔ بڑے حصے، جیسے کمر، کا علاج ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ وقت لے سکتا ہے۔
پروسیجر کے بعد
علاج کے بعد چند گھنٹوں تک جلد میں رنگت کی تبدیلی اور سوجن ہو سکتی ہے۔ یہ عام ہے اور خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ تکلیف کم کرنے کے لیے برف استعمال کریں۔ اگر جلد پر شدید ردعمل ہو تو ماہر سٹیرائیڈ کریم لگا سکتا ہے۔
علاج کے بعد اور سیشنز کے درمیان دھوپ سے بچیں۔ کم از کم چھ ہفتے تک احتیاط کریں یا ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں۔ روزانہ SPF 30 یا زیادہ والا سن سکرین استعمال کریں۔
نتائج
٭ بال فوری طور پر نہیں گرتے۔ علاج شدہ بال چند دنوں یا ہفتوں میں جھڑتے ہیں
٭ یہ طریقہ بالوں کی افزائش کو کافی حد تک کم کرتا ہے، لیکن یہ ضمانت نہیں دیتا کہ بال دوبارہ نہیں اگیں گے۔ بہت سے افراد میں اثرات کئی ماہ یا سال تک رہتے ہیں۔ اگر بال دوبارہ آئیں تو وہ باریک اور ہلکے رنگ کے ہوتے ہیں
٭ کچھ افراد کو وقت کے ساتھ اضافی سیشنز کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ بالوں کی افزائش قابو میں رہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔