گردے کی بائیوپسی (Kidney biopsy) ایک میڈیکل پروسیجر ہے جسے رینل بائیوپسی بھی کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کا مقصد گردے کی بیماری کی تشخیص کرنا ہوتا ہے۔ اس سے بیماری کی شدت کا اندازہ لگانے اور علاج کی نگرانی میں بھی مدد ملتی ہے۔ بعض صورتوں میں، خاص طور پر گردے کی پیوند کاری کے بعد، اگر گردہ صحیح کام نہ کر رہا ہو تو یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
پرکیوٹینیئس بائیوپسی (percutaneous biopsy) میں باریک سوئی جلد کے ذریعے داخل کر کے ٹشو کا چھوٹا سا نمونہ حاصل کیا جاتا ہے۔
یہ کیوں کی جاتی ہے
گردے کی بائیوپسی درج ذیل مقاصد کے لیے کی جاتی ہے:
٭ گردے کے ایسے مسئلے کی تشخیص جو دیگر ٹیسٹ سے واضح نہ ہو
٭ مریض کے مطابق مؤثر علاج کا منصوبہ تیار کرنا
٭ گردے کی بیماری کے بڑھنے کی رفتار جانچنا
٭ بیماری سے ہونے والے نقصان کی شدت کا اندازہ لگانا
٭ علاج کے اثرات کا جائزہ لینا
٭ پیوندکاری شدہ گردے کی کارکردگی یا خرابی کی وجہ معلوم کرنا
اگر خون یا پیشاب کے ٹیسٹ میں درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو بھی ڈاکٹر بائیوپسی تجویز کر سکتے ہیں:
٭ پیشاب میں گردے سے آنے والا خون
٭ پیشاب میں زیادہ یا بڑھتا ہوا پروٹین
٭ گردے کی کارکردگی میں کمی اور خون میں فاضل مادوں کا اضافہ
ہر مریض کے لیے یہ ٹیسٹ ضروری نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ علامات، ٹیسٹ رپورٹس اور مجموعی صحت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
خطرات
پرکیوٹینیئس بائیوپسی عموماً محفوظ سمجھی جاتی ہے، تاہم چند ممکنہ خطرات درج ذیل ہیں
٭ خون بہنا سب سے عام پیچیدگی ہے، جس میں پیشاب میں خون آ سکتا ہے اور یہ عام طور پر چند دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بہت کم مریضوں کو خون کی منتقلی کی ضرورت پڑتی ہے
٭ شاذ و نادر صورتوں میں خون روکنے کے لیے سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے
٭ بائیوپسی کی جگہ پر درد ہو سکتا ہے جو عام طور پر چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے
٭ شریان اور رگ کے درمیان غیر معمولی راستہ بن سکتا ہے، جو اکثر خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے
٭ گردے کے گرد خون جمع ہو کر انفیکشن یا بلڈ پریشر میں اضافہ کر سکتا ہے
تیاری کیسے کریں
بائیوپسی سے پہلے ڈاکٹر آپ کو مکمل ہدایات دیتے ہیں اور تفصیلی مشاورت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل امور اہم ہیں:
ادویات
٭ اپنی تمام ادویات، وٹامنز اور سپلیمنٹس کی فہرست ساتھ لائیں
٭ خون پتلا کرنے والی ادویات عموماً ایک ہفتہ پہلے بند کی جاتی ہیں
٭ اسپرین، آئبوپروفین اور دیگر این ایس اے آئی ڈیز سے پرہیز کیا جاتا ہے
٭ اومیگا 3 سپلیمنٹس بھی عارضی طور پر روک دیے جاتے ہیں
٭ ڈاکٹر آپ کو بتائیں گے کہ کون سی دوا کب دوبارہ شروع کرنی ہے
دیگر تیاری
٭ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ انفیکشن یا خطرات کو جانچا جا سکے
٭ بائیوپسی سے 8 گھنٹے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضروری ہوتا ہے
بائیوپسی کا طریقہ کار
یہ پروسیجر ہسپتال یا کلینک میں کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل رگ کے ذریعے دوا دی جا سکتی ہے۔
پروسیجر کے دوران
٭ مریض ہوش میں ہوتا ہے اور اسے مناسب پوزیشن میں لٹایا جاتا ہے
٭ الٹراساؤنڈ یا سی ٹی سکین سے گردے کی درست جگہ معلوم کی جاتی ہے
٭ جلد کو صاف کر کے لوکل انستھیزیا دیا جاتا ہے
٭ چھوٹا سا کٹ لگا کر سوئی گردے تک پہنچائی جاتی ہے
٭ نمونہ حاصل کرنے کے لیے سوئی کئی بار استعمال ہو سکتی ہے
٭ آخر میں پٹی لگا دی جاتی ہے
دیگر طریقے
اگر خون بہنے کا خطرہ زیادہ ہو یا صرف ایک گردہ ہو تو لیپروسکوپک بائیوپسی کی جاتی ہے۔ اس میں کیمرے والی باریک ٹیوب کے ذریعے ٹشو حاصل کیا جاتا ہے۔
پروسیجر کے بعد
مریض کو کچھ وقت ریکوری روم میں رکھا جاتا ہے جہاں اس کی حالت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ:
٭ بلڈ پریشر، نبض اور سانس کی مسلسل جانچ کی جاتی ہے
٭ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں
٭ 4 سے 6 گھنٹے آرام دیا جاتا ہے
٭ ہلکے درد کی صورت میں دوا دی جاتی ہے
٭ زیادہ تر مریض اسی دن گھر جا سکتے ہیں
٭ گھر پر ایک سے دو دن آرام اور بھاری کام سے پرہیز ضروری ہوتا ہے
پیتھالوجسٹ لیبارٹری میں ٹشو کے نمونے کا جائزہ لیتا ہے تاکہ بیماری، سوزش یا دیگر خرابیوں کی تشخیص کی جا سکے
ڈاکٹر سے رابطہ
مندرجہ ذیل علامات کی صورت میں فوری رابطہ کریں:
٭ 24 گھنٹے بعد بھی پیشاب میں زیادہ خون یا کلاٹس آئیں
٭ پیشاب میں جلن، رکاوٹ یا غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو
٭ بائیوپسی کی جگہ پر درد ہو
٭ بخار 100.4°F (38°C) سے زیادہ
٭ شدید کمزوری یا چکر آئیں
نتائج
٭ بائیوپسی کی مکمل رپورٹ آنے میں عموماً ایک ہفتہ لگتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں ابتدائی نتائج 24 گھنٹوں میں بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔
٭ ڈاکٹر فالو اپ ملاقات میں نتائج کی وضاحت کرتے ہیں، اور انہی کی بنیاد پر علاج کا اگلا منصوبہ طے کیا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔