ٹیپ ورم ایک پیرسائٹ ہے جو انسانی آنتوں میں رہ کر غذا حاصل کرتا ہے۔ ٹیپ ورم انفیکشن (Tapeworm infection) عموماً ہلکی علامات پیدا کرتا ہے، تاہم بعض اوقات درمیانی سے شدید علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ پیٹ میں درد اور اسہال اس کی نمایاں علامات ہیں۔
ٹیپ ورم کی کم عمر اور غیر فعال شکل کو لارول سسٹ (Larval cysts) کہا جاتا ہے۔ یہ جسم کے مختلف حصوں میں زندہ رہ سکتا ہے اور اسے لارول سسٹ انفیکشن کہا جاتا ہے۔ اگر لارول سسٹ دماغ، جگر، پھیپھڑوں، دل یا آنکھوں میں ہوں تو یہ سنگین بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔
علامات
علامات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ انفیکشن جسم کے کس حصے میں موجود ہے۔
آنتوں میں انفیکشن
آنتوں میں ٹیپ ورم بعض اوقات بغیر علامات کے ہوتا ہے۔ علامات کی شدت ٹیپ ورمز کی تعداد اور قسم پر منحصر ہوتی ہے۔ علامات یہ ہیں:
٭ معدے کی خرابی یا متلی
٭ پیٹ میں درد
٭ بھوک میں کمی
٭ نرم پاخانہ
٭ اسہال
٭ وزن میں کمی
٭ گیس
٭ بھوک کے درد
٭ نمکین غذا کی خواہش
لارول سسٹ انفیکشن
لارول سسٹ کی علامات اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ وہ جسم کے کس عضو کو متاثر کر رہے ہیں۔ عمومی علامات یہ ہیں:
٭ دماغ یا ریڑھ کی ہڈی میں سسٹ سر درد، دورے، چکر، اعصابی درد، کمزوری، توازن کی خرابی اور ذہنی یا رویے کی تبدیلی پیدا کر سکتی ہے
٭ دوسرے اعضاء میں سسٹ عضو کی کارکردگی متاثر کرتی ہے۔ بعض اوقات گلٹی، درد اور سوجن ظاہر ہو سکتی ہے
اسباب
زیادہ تر ٹیپ ورمز کو اپنی زندگی کا دورانیہ مکمل کرنے کے لیے دو میزبان درکار ہوتے ہیں، ایک درمیانی اور دوسرا حتمی میزبان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بیف ٹیپ ورم گائے اور انسان دونوں میں اپنی زندگی کا چکر مکمل کرتا ہے۔
ٹیپ ورم کے انڈے ماحول میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ جب گائے آلودہ گھاس کھاتی ہے تو انڈے آنتوں میں پہنچ کر پھٹ جاتے ہیں۔ لاروا خون کے ذریعے پٹھوں تک پہنچ کر سسٹ بنا لیتا ہے۔ جب انسان کم پکا گوشت کھاتا ہے تو لارول سسٹ آنتوں میں جا کر بالغ ٹیپ ورم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ آنتوں کی دیوار سے چپک کر غذا حاصل کرتا ہے اور انڈے پیدا کرتا ہے جو پاخانے کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔
اس صورت میں گائے درمیانی میزبان اور انسان حتمی میزبان ہوتا ہے۔
ٹیپ ورم انفیکشن
انسان اکثر صورتوں میں حتمی میزبان ہوتے ہیں، اور انہیں انفیکشن عام طور پر درج ذیل چیزیں کھانے سے ہوتا ہے:
٭ کچا یا کم پکا ہوا گائے کا گوشت
٭ کچا یا کم پکا سور کا گوشت
٭ کچی یا کم پکی مچھلی
لارول سسٹ انفیکشن
انسان بعض صورتوں میں درمیانی میزبان بن جاتے ہیں۔ یہ عموماً آلودہ پانی، خوراک یا کتے کے فضلے میں موجود انڈوں سے ہوتا ہے۔
انڈہ آنتوں میں پہنچتا ہے اور اس سے نکلنے والا لاروا خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں میں پہنچ کر سسٹ بنا دیتا ہے۔ سسٹ مکمل طور پر نشوونما پاتا ہے مگر ٹیپ ورم میں تبدیل نہیں ہوتا۔ بعض سسٹس میں ایک جبکہ بعض میں کئی لاروا ہوتے ہیں۔ اگر سسٹ پھٹ جائے تو انفیکشن مزید پھیل سکتا ہے۔
علامات اکثر سالوں بعد ظاہر ہوتی ہیں، جب مدافعتی نظام سسٹ کے ٹوٹنے یا سخت ہونے پر ردعمل دیتا ہے یا متاثرہ عضو کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
خصوصی صورتیں
٭ سور کا ٹیپ ورم انسان میں حتمی اور درمیانی دونوں میزبانوں کی صورت میں ہو سکتا ہے، کم پکا گوشت کھانے سے انفیکشن اور صفائی کی کمی سے دوبارہ پھیلاؤ ممکن ہے
٭ ڈوارف ٹیپ ورم آلودہ خوراک یا پانی سے آنتوں میں داخل ہو کر سسٹ اور پھر بالغ ورم بناتا ہے، اور یہ چکر دوبارہ بھی جاری رہ سکتا ہے
خطرے کے عوامل
٭ کچا یا کم پکا گوشت کھانا
٭ صفائی کا خیال نہ رکھنا اور ہاتھ کم دھونا
٭ آلودہ خوراک اور سبزیاں کھانا
٭ صاف پانی کی کمی
٭ آلودہ علاقوں میں رہائش یا سفر
پیچیدگیاں
ٹیپ ورم انفیکشن میں پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں لیکن بعض صورتوں میں ہو سکتی ہیں:
٭ خون کی کمی
٭ آنتوں میں رکاوٹ
٭ ذہنی دباؤ اور اضطراب
٭ شدید الرجی ردعمل
لارول سسٹ کی پیچیدگیاں متاثرہ عضو کے مطابق مختلف ہوتی ہیں:
٭ دماغ میں سوجن، پانی جمع ہونا اور اعصابی نقصان
٭ دوسرے اعضاء میں ٹشو کو نقصان، بیکٹیریل انفیکشن اور رکاوٹ
ڈاکٹر سے کب ملیں
اگر ٹیپ ورم یا لارول سسٹ کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوری طبی مشورہ لیں۔
تشخیص
آنتوں کے ٹیپ ورم کی تشخیص پاخانے کے نمونے سے کی جاتی ہے، جس میں انڈے یا ورم کے حصے تلاش کیے جاتے ہیں۔ لارول سسٹ کی تشخیص میں امیجنگ اور خون کے ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں:
٭ سی ٹی سکین، ایم آر آئی یا الٹراساؤنڈ
٭ خون میں اینٹی باڈیز کی موجودگی کا ٹیسٹ
علاج
ٹیپ ورم انفیکشن کا علاج اینٹی پیراسائٹک ادویات سے کیا جاتا ہے۔ یہ ادویات ورم کو ختم کرتی ہیں لیکن انڈوں کو نہیں، اس لیے صفائی انتہائی ضروری ہے۔
لارول سسٹ کا علاج اس کی جگہ اور شدت پر منحصر ہوتا ہے:
٭ اینٹی پیراسائٹک ادویات
٭ کورٹیکوسٹیرائیڈز، سوجن کم کرنے کے لیے
٭ سرجری کے ذریعے سسٹ کا اخراج
٭ بعض صورتوں میں سوئی کے ذریعے سسٹ کا علاج
دیگر علاج
٭ دوروں کے لیے اینٹی ایپی لیپٹک ادویات
٭ دماغ سے اضافی پانی نکالنے کے لیے شَنٹ کا استعمال، یہ ایک باریک ٹیوب ہے جو جسم میں اضافی پانی کو نکالنے کے لیے لگائی جاتی ہے
بچاؤ کی تدابیر
٭ کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھوئیں
٭ پھل اور سبزیاں اچھی طرح دھو کر استعمال کریں
٭ کچن کے برتن صاف رکھیں
٭ گوشت اور مچھلی مکمل طور پر پکائیں
٭ گوشت مناسب درجہ حرارت پر پکائیں
٭ گوشت کو فریز کر کے محفوظ کریں
٭ متاثرہ کتوں کا فوری علاج کروائیں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔