Vinkmag ad

ریبیز

The rabies vaccine, with a stray dog in the background

ریبیز (Rabies) ایک مہلک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ جانوروں کے لعاب سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، اور عموماً جانور کے کاٹے سے پھیلتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں آوارہ کتے اس بیماری کی بڑی وجہ ہیں، جبکہ امریکہ میں چمگادڑ، کویوٹ، لومڑیاں، ریکون اور سکنک اس کے اہم ذرائع ہیں۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، اس لیے خطرے کی صورت میں فوری حفاظتی ویکسین لگوانا ضروری ہے۔

علامات

ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں جو چند دن برقرار رہ سکتی ہیں، تاہم بعد میں بیماری کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ نمایاں علامات میں شامل ہیں:

٭ بخار

٭ سر درد

٭ متلی

٭ قے

٭ بے چینی

٭ گھبراہٹ

٭ ذہنی الجھن

٭ نگلنے میں دشواری

٭ ضرورت سے زیادہ لعاب بننا

٭ پانی پینے کی کوشش پر خوف، کیونکہ نگلنا مشکل ہو جاتا ہے

٭ چہرے پر ہوا لگنے سے خوف محسوس ہونا

٭ وہم یا خیالی مناظر دیکھنا

٭ نیند نہ آنا

٭ جزوی فالج

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر کسی جانور نے کاٹا ہو یا مشتبہ جانور کے رابطے میں آئے ہوں تو فوراً طبی مدد حاصل کریں۔ ڈاکٹر زخم اور صورتحال کے مطابق علاج یا ویکسین کا فیصلہ کرے گا۔ اگر جانور کے کاٹے کا یقین نہ ہو تب بھی طبی معائنہ کروانا ضروری ہے، کیونکہ بعض صورتوں میں کاٹے کا احساس نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر سوتے وقت کمرے میں چمگادڑ آ جائے تو وہ بغیر جگائے کاٹ سکتی ہے۔ اس لیے جاگنے پر کمرے میں چمگادڑ نظر آئے تو کاٹنے کا امکان سمجھیں۔ اسی طرح بچے یا معذور فرد کے قریب چمگادڑ ہو تو بھی احتیاطاً کاٹنے کا شبہ کیا جانا چاہیے۔

وجوہات

ریبیز وائرس اس بیماری کا بنیادی سبب ہے جو متاثرہ جانور کے لعاب کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ کم صورتوں میں وائرس کھلے زخم یا آنکھ، ناک یا منہ کی جھلی سے بھی داخل ہو سکتا ہے۔ ایسا خاص طور پر تب ہوتا ہے، جب متاثرہ جانور زخم کو چاٹ لے۔

ریبیز پھیلانے والے جانور

ہر دودھ پلانے والا جانور یہ وائرس منتقل کر سکتا ہے، تاہم کچھ جانور انسانوں میں اس کے پھیلاؤ کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔

گھریلو اور فارم کے جانور

٭ کتے

٭ بلیاں

٭ گائیں

٭ بکریاں

٭ گھوڑے

٭ فیرٹ

جنگلی جانور

٭ چمگادڑ

٭ بیور

٭ کویوٹ

٭ لومڑیاں

٭ بندر

٭ ریکون

٭ سکنک

٭ ووڈچک

نایاب صورتوں میں متاثرہ اعضا کی پیوندکاری کے ذریعے بھی وائرس منتقل ہونے کے کیس سامنے آئے ہیں۔

خطرے کے عوامل

وہ عوامل جو ریبیز کا خطرہ بڑھاتے ہیں درج ذیل ہیں:

٭ ایسے ممالک میں رہائش یا سفر جہاں ریبیز عام ہو

٭ جنگلی جانوروں کے قریب جانے والی سرگرمیاں، جیسے غاروں کی تلاش یا بغیر احتیاط کیمپنگ

٭ ویٹرنری ڈاکٹر کے طور پر کام کرنا

٭ ریبیز وائرس والی لیبارٹری میں کام کرنا

٭ سر یا گردن پر زخم ہونا، جس سے وائرس دماغ تک تیزی سے پہنچ سکتا ہے

بچاؤ کی تدابیر

ریبیز سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ بیماری علامات ظاہر ہونے کے بعد مہلک ثابت ہوتی ہے۔

٭ پالتو جانوروں کو باقاعدگی سے ویکسین لگوائیں

٭ پالتو جانوروں کو گھر میں رکھیں اور باہر نگرانی کریں

٭ چھوٹے پالتو جانوروں کو محفوظ جگہ یا پنجرے میں رکھیں

٭ جنگلی جانوروں کے قریب جانے سے گریز کریں

٭ ایسے علاقوں کے سفر سے پہلے ڈاکٹر سے ریبیز ویکسین کے بارے میں مشورہ کریں

٭ اگر آپ ویٹرنری ڈاکٹر ہیں یا لیبارٹری میں کام کرتے ہیں تو ریبیز ویکسین ضرور لگوائیں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

پولیو

Read Next

ریٹینا کی بیماریاں

Leave a Reply

Most Popular