پولیو (polio) ایک وائرل بیماری ہے جو ریڑھ کی ہڈی اور برین سٹیم کے اعصاب کو متاثر کرتی ہے۔ شدید صورت میں یہ جسم کے بعض حصوں کو مفلوج کر سکتی ہے۔ یہ سانس لینے میں دشواری اور بعض اوقات موت کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس بیماری کو پولیومائیلائٹس بھی کہا جاتا ہے۔
علامات
پولیو وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
ہلکی نوعیت کا پولیو
تقریباً 5 فیصد مریضوں میں بیماری کی ہلکی شکل ظاہر ہوتی ہے، جو فلو جیسی علامات پیدا کرتی ہے اور عموماً 2 سے 3 دن میں ختم ہو جاتی ہے۔
٭ بخار
٭ سر درد
٭ پٹھوں میں درد
٭ گلے میں درد
٭ پیٹ میں درد
٭ بھوک میں کمی
٭ متلی
٭ قے
غیر فالجی پولیو
یہ بیماری کی نسبتاً شدید مگر غیر فالجی شکل ہے، جو تقریباً 1 فیصد متاثرہ افراد میں دیکھی جاتی ہے۔ یہ چند دنوں سے زیادہ جاری رہ سکتی ہے مگر فالج پیدا نہیں کرتی۔
٭ گردن میں درد یا اکڑاؤ
٭ بازوؤں یا ٹانگوں میں درد یا سختی
٭ شدید سر درد
بعض مریضوں میں علامات بہتر ہونے کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس مرحلے میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ ریڑھ کی ہڈی اور گردن میں سختی
٭ ردِعمل میں کمی
٭ پٹھوں کی کمزوری
فالجی پولیو
یہ بیماری کی سب سے شدید مگر نایاب قسم ہے۔ ابتدا میں علامات غیر فالجی پولیو جیسی ہوتی ہیں، لیکن بعد میں شدت اختیار کر جاتی ہیں۔
٭ شدید درد
٭ چھونے پر غیر معمولی حساسیت
٭ سنسناہٹ یا چبھن
٭ پٹھوں میں کھچاؤ یا جھٹکے
٭ پٹھوں کی کمزوری جو بتدریج فالج میں بدل سکتی ہے
فالج جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم ایک ٹانگ کا فالج زیادہ عام ہے، اس کے بعد ایک بازو متاثر ہوتا ہے۔
بیماری کی شدت کے مطابق دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
٭ سانس لینے والے پٹھوں کا فالج
٭ نگلنے میں دشواری
پوسٹ پولیو سنڈروم
یہ حالت پولیو کے کئی سال بعد نئی علامات کے ظاہر ہونے یا پرانی علامات کے بڑھنے کو ظاہر کرتی ہے۔
٭ پٹھوں یا جوڑوں کی بڑھتی ہوئی کمزوری اور درد
٭ شدید تھکن
٭ پٹھوں کا سکڑاؤ
٭ سانس یا نگلنے میں دشواری
٭ نیند کے دوران سانس کے مسائل (سلیپ اپنیا)
٭ ٹھنڈ برداشت کرنے کی صلاحیت میں کمی
اسباب
پولیو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، جو بنیادی طور پر ریڑھ کی ہڈی اور برین سٹیم کے اعصاب کو متاثر کرتا ہے۔ یہ اعصاب پٹھوں کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ حسی اعصاب عموماً متاثر نہیں ہوتے۔
قدرتی وائرس (وائلڈ ٹائپ پولیو وائرس) زیادہ تر ممالک سے ختم ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس ویکسین سے پیدا ہونے والا وائرس (VDPV) اب دنیا بھر میں زیادہ تر کیسز کا سبب بنتا ہے۔
یہ وائرس ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں اورل ویکسین استعمال ہوتی ہے اور ویکسینیشن کی شرح کم ہوتی ہے۔ کمزور وائرس خود بیماری پیدا نہیں کرتا، لیکن کم ویکسینیشن کی صورت میں یہ تبدیل ہو کر خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اگر کسی کمیونٹی میں زیادہ افراد ویکسین شدہ ہوں تو وائرس کا پھیلاؤ محدود رہتا ہے۔ کم ویکسینیشن کی صورت میں وائرس اپنی ساخت میں تبدیلی پیدا کر کے بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
پولیو کیسے پھیلتا ہے
پولیو وائرس کے حامل افراد، چاہے ان میں علامات نہ ہوں، وائرس کو پاخانے، کھانسی اور چھینک کے ذریعے خارج ہونے والے قطروں سے دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں۔ یہ وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور آسانی سے پھیل جاتا ہے، خصوصاً صفائی کی کمی کی صورت میں۔ آلودہ پانی بھی وائرس کی منتقلی کا اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔
خطرے کے عوامل
پولیو زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے، تاہم غیر ویکسین شدہ افراد ہر عمر میں خطرے میں ہوتے ہیں۔
پیچیدگیاں
شدید بیماری سانس لینے کی صلاحیت متاثر کر کے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ صحت یاب ہونے والوں میں طویل مدتی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
٭ مستقل فالج
٭ پٹھوں کا سکڑاؤ جس سے ہڈیاں یا جوڑ متاثر ہو سکتے ہیں
٭ طویل مدتی درد
٭ پوسٹ پولیو سنڈروم
پولیو ویکسین
پولیو سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق بچوں کو آئی پی وی ویکسین کی چار خوراکیں دی جاتی ہیں۔
بچوں کی ویکسینیشن
٭ 2 ماہ
٭ 4 ماہ
٭ 6 سے 18 ماہ
٭ 4 سے 6 سال
اگر کوئی خوراک رہ جائے تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
بالغوں کی ویکسینیشن
زیادہ تر بالغ افراد بچپن کی ویکسین کی وجہ سے محفوظ ہوتے ہیں۔ تاہم زیادہ خطرے والے علاقوں میں سفر یا قیام کی صورت میں اضافی ویکسین ضروری ہو سکتی ہے۔
مکمل ویکسین شدہ افراد کو ایک بوسٹر خوراک دی جاتی ہے، جبکہ نامکمل یا غیر یقینی ویکسینیشن کی صورت میں تین خوراکیں دی جاتی ہیں۔
بالغوں کے لیے دوسری خوراک پہلی کے 1 سے 2 ماہ بعد اور تیسری خوراک دوسری کے 6 سے 12 ماہ بعد دی جاتی ہے۔
ویکسین کتنی محفوظ
آئی پی وی کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے محفوظ ہے، تاہم شدید کمزوری کی صورت میں اس کا اثر غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ عام ضمنی اثرات میں انجیکشن کی جگہ درد اور سرخی شامل ہیں۔
کچھ افراد میں الرجک ری ایکشن ہو سکتا ہے کیونکہ ویکسین میں بعض اینٹی بایوٹکس کی معمولی مقدار موجود ہوتی ہے۔
شدید الرجی کی علامات چند منٹ سے چند گھنٹوں میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔
٭ جلد پر خارش، دانے یا رنگت میں تبدیلی
٭ بلڈ پریشر میں کمی
٭ سانس کی نالی میں سوجن اور سانس لینے میں دشواری
٭ تیز مگر کمزور نبض
٭ متلی، قے یا اسہال
٭ چکر یا بے ہوشی
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
پولیو کی علامات دیگر اعصابی وائرل بیماریوں سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، اس لیے بروقت تشخیص ضروری ہے۔ اگر ماضی میں پولیو ہو چکا ہو اور نئی یا بگڑتی ہوئی علامات ظاہر ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
تشخیص
٭ ڈاکٹر علامات کی بنیاد پر تشخیص کرتے ہیں، جیسے گردن یا کمر کی سختی اور پٹھوں کی کمزوری
٭ حتمی تصدیق کے لیے پاخانے کے نمونے کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ گلے کا نمونہ صرف ابتدائی دنوں میں قابل اعتماد ہوتا ہے
٭ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال کا ٹیسٹ دیگر بیماریوں کو خارج کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
علاج
پولیو کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں۔ علاج کا مقصد علامات کو کم کرنا، صحت یابی کو بہتر بنانا اور پیچیدگیوں سے بچاؤ ہے۔ مرض کی صورت میں درج ذیل اقدامات معاون ثابت ہوتے ہیں:
٭ مکمل آرام کرنا
٭ درد کم کرنے والی ادویات کا استعمال
٭ گرم اور نم پٹیاں
٭ سانس میں مدد کے لیے وینٹی لیٹر
٭ فزیوتھراپی کی ورزشیں
٭ سپلِنٹس یا معاون آلات تاکہ جسم کی درست حالت برقرار رہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔