ایک نئی تحقیق کے مطابق مخصوص لانگویٹی ڈائٹ پر رہنے والے چوہوں نے زیادہ خوراک کھائی، لیکن اس کے باوجود ان کے جسم میں چربی کم جمع ہوئی۔ بڑھتی عمر میں ان کی مجموعی صحت بھی بہتر رہی۔ امریکا کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین کی یہ تحقیق طبی جریدے سیل میٹابولزم میں شائع ہوئی ہے۔
محققین نے 20 ماہ عمر کے چوہوں پر چار مختلف غذائی منصوبوں کے اثرات کا جائزہ لیا۔ سب سے بہتر نتائج کم پروٹین، زیادہ تر نباتاتی غذا اور مچھلی پر مشتمل لانگویٹی ڈائٹ سے سامنے آئے۔ اس غذا میں میتھیونین نامی امینو ایسڈ کی مقدار کم مگر متوازن رکھی گئی تھی۔
اس غذا پر رہنے والے چوہے دوسرے گروپوں کے مقابلے میں زیادہ خوراک کھاتے رہے۔ اس کے باوجود ان کے جسم میں چربی کم جمع ہوئی۔ ان کے پٹھے محفوظ رہے۔ عمر سے متعلق جسمانی کمزوریاں بھی نسبتاً کم دیکھنے میں آئیں۔
تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر والٹر لونگو نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف پروٹین کی مقدار ہی نہیں، بلکہ مخصوص امینو ایسڈز کا توازن بھی صحت اور عمر پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے اور انسانوں میں اس کے اثرات جانچنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔