Vinkmag ad

ری ایکٹو آرتھرائٹس: انفیکشن کے بعد جوڑوں کی سوزش

Patient with reactive arthritis consulting a healthcare professional in a clinical setting

ری ایکٹو آرتھرائٹس (Reactive arthritis) ایسی بیماری ہے جس میں جسم کے کسی دوسرے حصے میں ہونے والے انفیکشن کے بعد جوڑوں میں درد اور سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر گھٹنوں، ٹخنوں اور پاؤں کے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آنکھوں، جلد اور یوریتھرا (پیشاب کو جسم سے باہر لے جانے والی نالی) میں بھی سوزش ہو سکتی ہے۔ ماضی میں اس بیماری کو بعض اوقات رائٹر سنڈروم (Reiter syndrome) بھی کہا جاتا تھا۔

علامات

ری ایکٹو آرتھرائٹس کی علامات عموماً اس انفیکشن کے 1 سے 4 ہفتے بعد ظاہر ہوتی ہیں. عام علامات میں شامل ہیں:

٭ جوڑوں میں درد اور اکڑاؤ، جو زیادہ تر گھٹنوں، ٹخنوں اور پاؤں میں ہوتا ہے۔ ایڑیوں، کمر کے نچلے حصے یا کولہوں میں بھی درد ہو سکتا ہے

٭ آنکھوں کی سوزش، جس سے آنکھیں سرخ، جلن والی یا دردناک ہو سکتی ہیں

٭ پیشاب سے متعلق مسائل، جیسے بار بار پیشاب آنا یا پیشاب کرتے وقت جلن اور تکلیف محسوس ہونا

٭ ٹینڈن اور لیگامنٹ کے ہڈی سے جڑنے والے مقام پر سوزش۔ یہ مسئلہ زیادہ تر ایڑیوں اور پاؤں کے تلووں میں ہوتا ہے

٭ ہاتھوں یا پاؤں کی انگلیوں میں شدید سوجن

٭ جلد کے مسائل، جیسے منہ کے چھالے، عضوِ تناسل پر بغیر درد کے زخم یا ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں پر دانے یا خارش

٭ کمر کے نچلے حصے میں درد، جو عموماً رات یا صبح کے وقت زیادہ ہوتا ہے

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر اسہال یا جنسی اعضا کے انفیکشن کے ایک ماہ کے اندر جوڑوں میں درد شروع ہو جائے تو فوراً معالج سے رجوع کریں۔

وجوہات

جسم کے مدافعتی نظام کا جسم کے کسی دوسرے حصے میں موجود انفیکشن کے خلاف ردعمل ظاہر کرنا

٭ ری ایکٹو آرتھرائٹس خود ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا۔ تاہم اسے پیدا کرنے والے بیکٹیریا جنسی تعلق یا آلودہ خوراک کے ذریعے پھیل سکتے ہیں

خطرے کے عوامل

کچھ عوامل اس بیماری کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں:

٭ 20 سے 40 سال کی عمر

٭ غذا سے منتقل ہونے والے انفیکشن کے بعد مردوں اور عورتوں میں اس کا خطرہ تقریباً یکساں

٭  جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کے بعد مردوں میں اس کا امکان زیادہ

٭ ایچ ایل اے-بی 27 نامی مخصوص جینیٹک مارکر

٭ فرد کا ایچ آئی وی سے متاثرہونا

بچاؤ کی تدابیر

٭ انفیکشن پیدا کرنے والے بیکٹیریا سے بچاؤ

٭ خوراک کو محفوظ رکھنا

٭ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا

تشخیص

طبی معائنہ

٭ جوڑوں میں سوجن، گرمی اور درد کا جائزہ لیا جاتا ہے

٭ ریڑھ کی ہڈی اور متاثرہ جوڑوں کی حرکت جانچی جاتی ہے

٭ آنکھوں میں سوزش اور جلد پر دانوں یا خارش کا معائنہ کیا جاتا ہے

خون کے ٹیسٹ

ان کے ذریعے درج ذیل چیزیں معلوم کی جا سکتی ہیں:

٭ موجودہ یا سابقہ انفیکشن کے شواہد

٭ جسم میں سوزش کی علامات

٭ ایسے اینٹی باڈیز جو آرتھرائٹس کی دوسری اقسام کی نشاندہی کریں

٭ ایچ ایل اے-بی 27 نامی جینیاتی مارکر

جوڑ کے سیال مادے کا ٹیسٹ

اس کے ذریعے درج ذیل چیزیں دیکھی جاتی ہیں:

٭ خون کے سفید خلیے، جن کی زیادہ تعداد سوزش یا انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے

٭ بیکٹیریا، جن کی موجودگی سیپٹک آرتھرائٹس کی نشاندہی کر سکتی ہے

٭ یورک ایسڈ کے کرسٹل، جو گاؤٹ کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ یہ آرتھرائٹس کی ایک اور قسم ہے، جو اکثر پاؤں کے انگوٹھے کو متاثر کرتی ہے

امیجنگ ٹیسٹ

کمر کے نچلے حصے، پیلوس اور متاثرہ جوڑوں کے ایکسرے سے ری ایکٹو آرتھرائٹس کی مخصوص علامات دیکھی جا سکتی ہیں، یا آرتھرائٹس کی دوسری اقسام کو مسترد کرنے میں مدد ملتی ہے۔

علاج

علاج کا بنیادی مقصد علامات میں کمی لانا اور اگر انفیکشن موجود ہو تو اس کا علاج کرنا ہے۔ چونکہ یہ بیماری جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے علاج میں ایک سے زیادہ طبی ماہرین شامل ہو سکتے ہیں۔

ادویات

٭ اگر بیماری بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوئی ہو تو معالج مناسب اینٹی بائیوٹک تجویز کرتے ہیں

علامات میں کمی کے لیے درج ذیل ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں:

٭ نان سٹرائیڈل سوزش کم کرنے والی ادویات (این ایس اے آئی ڈیز)

٭ سٹرائیڈز، جو انجیکشن، آنکھوں کے قطروں، جلد پر لگانے والی کریم یا گولیوں کی صورت میں دیے جا سکتے ہیں

٭ روماٹائید آرتھرائٹس کی ادویات

فزیوتھراپی

فزیوتھراپسٹ ایسی ورزشیں سکھاتے ہیں جو متاثرہ جوڑوں کے ارد گرد موجود پٹھوں کو مضبوط اور جوڑوں کو زیادہ لچکدار بناتی ہیں۔

٭ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں جوڑوں کو سہارا دیتی ہیں اور ان پر دباؤ کم کرتی ہیں

٭ حرکت برقرار رکھنے والی ورزشیں جوڑوں کی لچک برقرار رکھنے اور اکڑاؤ سے بچانے میں مدد دیتی ہیں

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ری ایکٹو آرتھرائٹس مستقل بیماری بن سکتی ہے؟

زیادہ تر افراد ایک سال کے اندر صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن بعض مریضوں میں علامات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں یا دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہیں۔

کیا ہر بیکٹیریا سے متاثر ہونے والا شخص ری ایکٹو آرتھرائٹس کا شکار ہو جاتا ہے؟

نہیں، انفیکشن ہونے کے باوجود صرف چند افراد میں یہ بیماری پیدا ہوتی ہے، جس میں جینیاتی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ری ایکٹو آرتھرائٹس کا علاج کون کرتا ہے؟

اس بیماری کا بنیادی علاج روماٹالوجسٹ کرتا ہے۔ ضرورت کے مطابق ماہر امراض چشم، ماہر امراض جلد، ماہر امراض گردہ و مثانہ اور فزیوتھراپسٹ بھی علاج میں شامل ہو سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=rheumatologist

Vinkmag ad

Read Previous

صرف طویل عمر کافی نہیں، صحت مند زندگی بھی ضروری، ماہرین

Read Next

برونکو کانسنٹرکشن: ورزش سے ہونے والا دمہ

Leave a Reply

Most Popular