حمل کی آخری سہہ ماہی کہیں ایسا نہ ہوجائے

407

جب حمل تیسری سہہ ماہی میں داخل ہو جاتا ہے تو متوقع ماں کی صورت حال کچھ عجیب سی ہوتی ہے ۔ کبھی اس کا دل خوشی کے احساس سے بھر جاتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ ’’بڑا دن ‘‘قریب آ رہا ہوتا ہے جب اسے دنیا کی سب سے بڑی خوشی ملنے کا امکان ہوتا ہے تو کبھی اسے کئی طرح کے تفکرات گھیر لیتے ہیں۔ وہ ’’کہیں ایسا نہ ہوجائے، کہیں ویسا نہ ہوجائے‘‘ کے خدشات میں گھری رہتی ہے ۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ اپنا دل مضبوط رکھے، مثبت چیزوں کی طرف زیادہ دھیان دے، گائناکالوجسٹ کی بتائی ہوئی احتیاطوں کو ملحوظ خاطر رکھے اور حتیٰ الامکان ذہنی تنائو کو قریب نہ آنے دے ۔

بروقت تیاری‘ اشد ضروری
ایسے واقعات اکثر سننے اور دیکھنے میں آتے ہیں کہ گھروں میں زچگیوں کے عمل سے گزرنے والی خواتین اس دوران جان سے ہی گزر جاتی ہیں۔اس کابڑا سبب کسی پیچیدگی کی صورت میںان کا بروقت ہسپتال نہ پہنچ پانا ہے۔اس لئے حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ کو چاہئے کہ زچگی سے چند ہفتے قبل کچھ ناگزیر انتظامات لازماً کر لیں۔ ان میں زچگی کے موقع کیلئے مناسب رقم کا بندوبست‘ اگر گھر میں گاڑی نہ ہو اوربروقت ٹیکسی نہ ملنے کاخدشہ ہو تو خاتون کو ہسپتال پہنچانے کیلئے گاڑی کاپہلے سے انتظام‘اگر خواتین مردوں کے بغیر سفر نہ کر سکتی ہوں تو اُن دنوں گھر میں کسی مرد کی موجودگی کو یقینی بنانا ‘ زچگی کیلئے مناسب ہسپتال کا پہلے سے تعین اور اگر زچگی گھر پر ہونا ہو تو کسی تربیت یافتہ دائی سے بات چیت شامل ہیں۔ اس بات چیت میں یہ بھی شامل ہونا چاہئے کہ کسی پیچیدگی کی صورت میں خاتون کو کب اور کس ہسپتال میں پہنچایا جائے گا۔
38واں ہفتے بچے کی نشوونما میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ مزید براں خواتین کو اپنی صحت کیلئے زیادہ تر وہی احتیاطیں کرنا ہوتی ہیں جو وہ پہلے کر رہی ہوتی ہیں ۔

غیرحقیقی درد زہ کا امکان
جوں جوں زچگی کا متوقع دن قریب آرہا ہے‘ توںتوں پہلی بار ماںبننے والی اکثر خواتین کو بہت سے خوف لاحق ہوتے جاتے ہیں۔ وہ یہی سوچتی رہتی ہیں کہ زچگی کا درد کیسا ہوگا؟کیاوہ اسے سہہ بھی پائیں گی یا نہیں؟زچگی نارمل ہو گی یا آپریشن کے ذریعے ؟کیا وہ بروقت ہسپتال پہنچ پائیںگی ؟ کیا بچہ پوری طرح سے صحت مند ہوگا؟ مریم کلینک اسلام آباد کی ماہرزچہ و بچہ ڈاکٹر اسماء قمر کہتی ہیں :
’’بلاشبہ زچگی کا درد تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن وہ قابل برداشت بھی ہوتا ہے اور ساری دنیا کی خواتین اس سے گزرتی ہیں۔ دردِ زرہ (labour pain)کو کم کرنے کیلئے اب بہت سے طریقے بھی آگئے ہیں لیکن انہیںاستعمال کرنے کا اختیار ڈاکٹر کودینا چاہیے۔‘‘
39ویں ہفتے کے دوران حاملہ خاتون اور بچے میںپیدا ہونے والی تبدیلیوں پر گفتگو کرتے ہوئے ملتان سے ماہر امراض زچہ وبچہ ڈاکٹر سمعیہ لطیف کہتی ہیں:
’’بچے کا دماغ اس مرحلے تک بھی نشوونما پا رہا ہوتاہے۔اب کسی بھی وقت غیرحقیقی دردزہ کا آغاز ‘پانی سے بھری جھلی کا پھٹ جانا‘ جنین کے محلول (amniotic fluid)اور خون کے اخراج کا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔ اس عرصے میںحاملہ خاتون کو سینے میں جلن ‘بدہضمی‘قے‘ متلی اور کمردرد کی شکایات بھی لاحق ہوسکتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر اسماء قمرکا کہنا ہے کہ اگرزچگی سے پہلے کھچائو (contractions) کبھی کبھی اور بے قاعدہ ہوں اور چلتے وقت‘ آرام کرتے وقت ‘ حتیٰ کہ پوزیشن بدلنے سے بھی رک جائیں ۔ وہ رفتہ رفتہ کم ہوتے جائیں ‘قابل برداشت ہوں اور صرف پیڑو(pelvic)والے حصے میںہوں تو انہیںغیرحقیقی درد زہ کہا جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں اگرکھچائو باقاعدہ وقفوں سے ہو اور 30سے70سکینڈ تک برقراررہے‘ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں وقفہ کم ہوتا جائے اور پوزیشن بدلنے سے ان کی شدت میں فرق نہ آئے بلکہ مسلسل اضافہ ہوتا چلاجائے تو یہ زچگی کا اصلی درد ہے۔یہ کمر کے نچلے حصے سے شروع ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے پیٹ کے اگلے حصے کی طرف جاتا ہے۔

آخری ہفتہ‘ آرام
40ویں ہفتے تک بچے کا وزن عموماً چھ سے نوپونڈ کے درمیان ہوتا ہے۔ڈسٹرکٹ ویمن ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کی ماہر زچہ و بچہ ڈاکٹرنسیم صبا کہتی ہیں کہ اب حاملہ خاتون کو مکمل طو رپرزچگی کے لئے تیار رہنا چاہیے‘ اس لئے کہ یہ مرحلہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق صرف پانچ فی صد خواتین کی زچگی ڈاکٹر کی طرف سے قبل از وقت بتائی گئی تاریخ پر ہوتی ہے۔خواتین کو چاہئے کہ اس ہفتے جتنازیادہ آرام کر سکتی ہوںاورجتنی نیند پوری کرسکتی ہوں ‘ کرلیں تاکہ زچگی کے عمل سے پرسکون انداز میں گزرسکیں۔

ڈاکٹر سمعیہ لطیف کا کہناہے کہ اگر خاتون کو ہلکے ہلکے درد شروع ہوجائیں توانہیں پھلوں کا رس‘سادہ بسکٹ یا مرغی کی سادہ یخنی استعمال کرنی چاہئے ‘ اس لئے کہ زچگی کے آخری مرحلے میں خالی پیٹ رہنا نقاہت کا باعث بن سکتا ہے۔خواتین کو چاہئے کہ اس دوران بھاری اور مرغن خوراک سے خصوصی پرہیز کریں ۔انہیں ڈبوں میں بند خوراک سے بھی پرہیز کرنا چاہئے ۔ اگرہنگامی صورت حال نہ ہو توانہیں چاہئے کہ زچگی کی زیادہ ترتکلیف گھر پر گزاریں اورہلکی پھلکی چہل قدمی کریں‘ اس لئے کہ یہ زچگی کے عمل کو تیز اور اچھا کرتی ہے۔ اگر تاخیر کا اندیشہ ہو تو پھر فوراً ہسپتال کا رخ کریں‘ اس لئے کہ وہاں بھی چہل قدمی کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔

مریم ہسپتال اسلام آباد کی گائناکالوجسٹ ڈاکٹر عابدہ نزاکت کہتی ہیں کہ زچگی کا عمل تین مراحل میں مکمل ہوتاہے ۔پہلا مرحلہ اینٹھن کی وجہ سے بچہ دانی کا منہ کھلنے سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت ختم ہوتا ہے جب بچہ دانی کا منہ مکمل طور پر کھل جاتا ہے۔ اگر عورت پہلی دفعہ زچگی سے گزر رہی ہو تو یہ مرحلہ 10سے20گھنٹوں یا اس سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے۔اس کے بعد کی ولادتوں میں یہ اکثر ایک سے10گھنٹوں تک رہتا ہے‘ تاہم اس کا دورانیہ مختلف عورتوںمیں مختلف ہوتا ہے۔دوسرے مرحلے کاآغاز بچہ دانی کا منہ کھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے اوربچے کی پیدائش پر ختم ہو جاتا ہے ۔یہ مرحلہ پہلے مرحلے کی نسبت آسان ہوتا ہے۔اس میں عموماً دوگھنٹے سے زیادہ وقت نہیںلگتا۔تیسرا مرحلہ بچے کی پیدائش کے بعد کا ہے جس میں آنول (placenta)باہر آجاتی ہے۔
زچگی کے درد کی شدت پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اسماء قمر کہتی ہیں کہ بچے کی پیدائش بلاشبہ ایک تکلیف دہ عمل ہے اور بہت سی خواتین اس تجربے کو تاحیات یادرکھتی ہیں۔کچھ زچگیاں درد شروع ہونے کے بعد بہت جلد ہوجاتی ہیں جبکہ کچھ 18سے 24گھنٹے بھی لے سکتی ہیں۔

بالآخر وہ مرحلہ آجاتا ہے جب خاتون کو لیبر روم لے جایاجاتا ہے جہاں ان کے ہاں ننھی سی پری یا فرشتہ جنم لیتا ہے۔اس کے رونے کی آواز ماں کے رَگ وپے میں عجیب ساسکون بھردیتی ہے اور اسے یوں لگتا ہے جیسے ان نوماہ میں اٹھائی گئی تمام تکالیف کا ازالہ ہوگیاہو۔ اس وقت اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ماں بننا کتنا مشکل کام ہوتاہے۔ اس سے اپنی ماں سے عقیدت اور محبت بڑھ جاتی ہے ۔ اگر خدا نے جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھا ہے تو وہ یقیناً اس کی حق دار ہے ۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x