قائداعظم کا مرض

378

قائداعظم کا مرض

11ستمبر1948ء وہ تاریخی دن ہے جب قائداعظم محمد علی جناح ٹی بی کے مرض کی وجہ سے اس عالم ِفانی سے رخصت ہوئے۔سات جولائی کو وہ کوئٹہ میں تھے اور ان کا علاج ڈاکٹر ریاض علی شاہ کی نگرانی میں ہو رہاتھا۔ ڈاکٹر شاہ نے ایک مضمون میں تحریر کیا: ’’جب میں17جولائی کو قائد اعظم کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ مسہری پر دراز تھے۔ جسم نحیف اور کمزور، لیکن چہرہ باوقار اور پْرجلال، آنکھوں میں بَلا کی چمک اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ بہت کم زور ہوگئے تھے۔ رخسار کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں اور گال اندر کی طرف دھنس گئے تھے۔ ‘‘قائد اعظم کے ایک اور معالج کرنل الٰہی بخش نے اپنی کتاب ’’With the Quaid-i-Azam Duringقائداعظم جناح ٹی بی His Last Days‘‘ میں لکھا: ’’پانچ ہفتے کی تسلی بخش صحت کے بعدتین ستمبر کو آپ کا ٹمپریچر بڑھ گیا۔

اس کا یوں اچانک بڑھ جانا تشویش ناک تھا۔ ‘‘ نو ستمبر کو کرنل الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح سے قائد اعظم کی زندگی کے بارے میں مایوسی کااظہار کیاجس پر انہوں نے 10 ستمبر کو قائد اعظم کو کراچی لے جانے پر آمادگی ظاہر کردی۔ چنانچہ 11ستمبر کو آپ کا طیارہ سوا چار بجے ماڑی پور کے ہوائی اڈے پر اترا۔ قائد اعظم کو ایک اسٹریچر پر لٹا کر بذریعہ ایمبولینس گورنر جنرل ہائوس پہنچایا گیا۔ رات تقریباً ساڑھے نو بجے آپ کی طبیعت اچانک بگڑگئی۔ چند منٹ کے اندر کرنل الٰہی بخش، ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور ڈاکٹر مستری گورنر جنرل ہائوس پہنچ گئے۔ اس وقت قائد اعظم پر بے ہوشی طاری تھی اور نبض کی رفتار بھی غیرمسلسل تھی۔ ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انجکشن لگایا، مگر حالت بگڑتی چلی گئی۔ رات 10 بج کر25 منٹ پر آپ ابدی نیند سو گئے (اناللہ وانا الیہ راجعون)۔

قائد کی موت کا سبب بننے والا یہ مرض جو ایک زمانے میں لاعلاج تصور ہوتا تھا‘ صدیوں کی تحقیق کے طفیل آج مکمل طور پرقابل علاج ہے۔ یہ بیماری اتنی پرانی ہے کہ اس کے آثار قدیم مصر کی حنوط شدہ نعشوں کی ہڈیوںمیں بھی پائے گئے ہیں۔ 460  قبل مسیح میں معروف یونانی مفکر اور طبیب ’’ ہیپو کریٹس‘‘ نے اس کا ذکراپنے دور میں سب سے زیادہ انسانوں کو متاثر کرنے والے مرض کے طور پر کیا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ مرض کی تقریباً ہر صورت جان لیوا ہے۔

ٹی بی کی اپنے خواص کے ساتھ حتمی اور قطعی شناخت سب سے پہلے1679ء میں جرمنی میں پیدا ہونے والے ایک سائنسدان فرانسسکس سلوئس (Franciscus Sylvius)نے کی جس نے تحریر کیا کہ یہ مرض پھیپھڑوں اور دیگر اعضاء میں منفی تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے۔ مرض کے متعدی ہونے کے بارے میں بھی ابتدائی ذکر17ھویں صدی کے اطالوی لٹریچر میں ملتا ہے۔1699ء میں جمہوریہ لوکا کے ایک شاہی فرمان کے مطابق:’’ اس مرض میں مبتلا فرد کی وفات کے بعداس کے باقی ماندہ اجزاء سے انسانی صحت کوکوئی خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے تمام افراد کے نام لازماً حکام کے علم میںلائے جائیں اور مرض کے دوسروں تک پھیلائو کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔

مرض کے متعدی ہونے کی سائنسی وضاحت ایک برطانوی فزیشن ’’بنجمن مارٹن‘‘ نے 1720ء میں ’’کنزمپشن(ٹی بی) سے متعلق ایک نیا نظریہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں کی۔فزیشن کا کہنا تھا کہ اس کا سبب حیران کن حد تک ایک چھوٹاساجاندار ہے جو ایک دفعہ جسم میں جڑ پکڑ جائے تو فرد کے اندر مرض کی علامات پیدا کردیتا ہے۔ مارٹن نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ مریض کے بستر پراکثرسونے والا یا اس کے ساتھ مستقلاً کھانے پینے والافرد بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ مزید براں مریض کے ساتھ اکثرو پیشتراوربہت قریب سے گفتگو کرنابھی خطرناک ہے‘ اس لئے کہ اس کے پھیپھڑوں سے نکلنے والی سانس کا کچھ حصہ صحتمند فرد تک منتقل ہوسکتا ہے‘ تاہم بیمار کے ساتھ کم یا کبھی کبھار بات چیت اس مرض کا سبب نہیں بنتی۔

اس مرض کے علاج میںحقیقی پیش رفت ’’سینی ٹوریم‘‘ کا تصورسامنے آنے سے ہوئی۔ ٹی بی کے ایک مریض اور علم نباتات کے طالب علم ’’ہرمن بریمر‘‘ کو اس کے معالج نے صحت افزاء ماحول میں کچھ وقت گزارنے کا مشورہ دیا۔ اس نے ہمالیہ کاانتخاب کیا تاکہ علاج کے ساتھ ساتھ وہ اپنا نباتاتی مطالعہ بھی جاری رکھ سکے۔ واپسی پر اس نے میڈیسن کا مطالعہ شروع کر دیا اور1854ء میں ’’ ٹی بی ایک قابل علاج مرض ہے‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔ اسی سال اس نے ٹی بی کے مریضوں کیلئے ایک ادارہ قائم کیا جہاں انہیں صنوبر کے درختوں کے درمیان اچھی غذاء کے ساتھ اس طرح رکھا گیا کہ بالکونیوں سے تازہ ہوا ان تک براہ راست پہنچ سکے۔ یہ انتظام کارگر ثابت ہواجس سے سینی ٹوریم کیلئے ابتدائی خاکہ فراہم ہو گیا۔ آج بھی یہ انتظام ٹی بی کے خلاف ایک موثر ہتھیار کے طور پراستعمال ہوتا ہے۔

فرانسیسی فوج کے ڈاکٹرجِین انتھونی ولی من نے 1865ء میں اس بات کا عملی مظاہرہ کیا کہ کس طرح یہ مرض انسانوں سے مویشیوں اور مویشیوں سے خرگوشوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بنیاد پر اس نے دعویٰ کیا کہ مخصوص قسم کے خوردبینی جانور ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ 1882ء میں رابرٹ کاچ (Robert Koch) نے خوردبینی اجزاء کے بہتر مشاہدے کیلئے انہیں رنگنے کی تکنیک دریافت کی جس کی وجہ سے وہ ’’مائیکو بیکٹیریم ٹیوبرکلوسس‘‘ کواپنی آنکھ سے دیکھنے کے قابل ہو گیا۔1895ء میں ولیم کونارڈ رانجن کی دریافت کردہ ایکسریز نے مرض کی تشخیص میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ ٹی بی کے علاج کے لئے متعدد ادویات استعمال ہورہی تھیں لیکن مائیکو بیکٹیریم پر وہ بالکل غیر موثر تھیں۔

سلمان ابراہم واکس مین نے1940ء میں اپنی  ٹیم کے ساتھ ایک موثر اینٹی بائیوٹک ایکٹی نو مائی سین (actinomycin)  تیار کی تاہم یہ زہریلی ثابت ہوئی۔ 1943 میںسٹریپ ٹو مائی سین (streptomycin) سامنے آئی جوزیادہ موثر اور کم زہریلی تھی۔ 20 نومبر1940ء کو پہلی دفعہ اسے ٹی بی کے ایک مریض پر آزمایا گیا جس کا اثر متاثر کن تھا۔ بیکٹیریا اس کے بلغم سے غائب ہو گیا اور وہ جلد ہی صحت یاب ہو گیا۔نئی دوا کے اندرونی کان پرکچھ مضر ضمنی اثرات تھے‘ تاہم اب بیکٹیرا کا مقابلہ ممکن ہو چکا تھا۔ آج اس کے علاج میں نمایاں پیش رفت ہو چکی اور یہ مرض باآسانی قابل علاج ہے بشرطیکہ دوا باقاعدگی سے لی جائے اور علاج ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ بصورت دیگر اس کے بیکٹیریا پہلے سے زیادہ طاقتور ہوجاتے ہیں جن پر عام ادویات اثر نہیں کرتیں۔ ایسے میں زیادہ طاقتور ادویات کی ضرورت پڑتی ہے جن کے الگ سے مسائل ہیں۔

Quaid e Azam, disease that afflicted Quaid e Azam, TB, tuberculosis 

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x