پی سی اوایس

خواتین کی بیضہ دانیوں میں ہر ماہ چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں انڈے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انڈوں کے بغیربھی تھیلیاں بن جاتی ہیں جنہیں سسٹ کہتے ہیں۔ اس مرض کو پی سی اوایس کہا جاتا ہے۔ یہ بے اولادی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس تناظرمیں ذہنوں میں جنم لینے والے سوالات کے جوابات جانئے ماہرامراض نسواں ڈاکٹرنابیعہ طارق کے انٹرویو میں

سینڈروم سے کیا مراد ہے؟

جب کسی مرض کے ساتھ سینڈروم کا لفظ آتا ہے تواس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایک مرض نہیں بلکہ مجموعہ امراض ہے۔ اس میں بیک وقت کئی علامات نمودارہوتی ہیں۔ پی سی اوایس خواتین سے متعلق ایک سینڈروم ہے جس کابنیادی تعلق ہارمونز کے ساتھ ہے۔

پی سی اوایس کیا ہے اورکیوں ہوتا ہے؟

بالغ خواتین کی بیضہ دانیاں ہرماہ دو طرح کے مادہ ہارمونزایسٹروجن اورپروجیسٹیرون کے علاوہ ایک مردانہ ہارمون اینڈروجن بھی بناتی ہیں۔ جب مردانہ ہارمون‘ زنانہ ہارمون سے زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجاتے ہیں تو ان کاتوازن خراب ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ بیماری ہوجاتی ہے۔ بیضہ دانیاں رطوبت سے بھری تھیلیاں بھی بناتی ہیں جن میں انڈے ہوتے ہیں۔ یہ تھیلیاں فولیکلزکہلاتی ہیں۔ہرمہینے پختہ تھیلیاں پھٹتی ہیں جن میں سے انڈے باہر نکل کر فیلوپی نالیوں میں آجاتے ہیں اورحمل ٹھہرنے کے لئے پوری طرح تیار ہوتے ہیں۔ اس عمل کو اخراج بیضہ کہتے ہیں۔

پی سی او ایس کی شکار خواتین میں یہ تھیلیاں انڈے خارج نہیں کرتیں۔ یوں سمجھ لیں کہ دماغ ہارمونز کا یہ پیغام بیضہ دانی کو نہیں بھیجتا کہ تیارانڈے نکال دے لہٰذا اخراج بیضہ کبھی ہوتا ہے اورکبھی نہیں۔ ایسے میں تھیلیاں پھٹنے کے بجائے بڑی ہوتی جاتی ہیں اوربیضہ دانی میں جھلی داردیواروں والی تھیلیوں یعنی سسٹس کی شکل اختیارکرلیتی ہیں۔

اس کی وجوہات کیا ہیں؟

اس مرض کی حتمی وجوہات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے تاہم اس کا سبب بننے والے عوامل میں پہلا موروثیت ہے۔ کسی لڑکی کی ماں یا بہن میں یہ مسئلہ ہو تو عین ممکن ہے کہ وہ بھی اس کا شکار ہوجائے۔ اس کا تعلق طرززندگی سے بھی ہے اورکھانے پینے کی غیرصحت مندانہ عادات بھی اس کا موجب بن سکتی ہیں۔ اگرخون میں شوگر کی مقدار کا تناسب خراب ہو تو باہر  سے انسولین کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس کی زیادہ مقداراینڈروجن ہارمون کی پیداواربڑھانے کا باعث بنتی ہے جو انڈوں کے اخراج اوران کی نشوونما پربھی اثرانداز ہوتا ہے۔ دیگر ہارمونز میں خرابی یا عدم توازن اورموٹاپا بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی دباؤ اورڈپریشن بھی ماہانہ ایام کے تعطل یا بے قاعدگی کاسبب بن سکتا ہے۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

ابتدائی علامات اس وقت ظاہرہوتی ہیں جب لڑکیوں کو پہلی بارایام شروع ہوتے ہیں۔ جن خواتین کو پی سی اوایس ہوتا ہے‘ انہیں پیریڈزکم آتے ہیں یا بالکل نہیں آتے۔ اس کی علامات میں چہرے اورجسم پرغیرضروری بال آنا، وزن بڑھنا، کیل مہاسے، ڈپریشن اوربے چینی ہونا، بالوں اورجلد کی خشکی، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اورانسولین لیول بڑھ جانا شامل ہیں۔ ضروری نہیں کہ پی سی او ایس کی تمام علامات بیک وقت سامنے آئیں لیکن ایسا ہوبھی سکتا ہے۔

مرض کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

اس کی تشخیص مریض کی فیملی ہسٹری، خون کے ٹیسٹ اورالٹرا ساؤنڈ کی مدد سے کی جاتی ہے۔ خون کے ٹیسٹ میں انسولین، ہارمونزاور گلوکوزکاجائزہ لیاجاتا ہے۔ 20سے30 فی صد خواتین میں الٹراساؤنڈ سے اس کی تشخیص ہوجاتی ہے۔ اس میں بیضہ دانی میں موجود تھیلیاں گھڑی کے ڈائل یا موتیوں کے ہارکی طرح نظرآتی ہیں۔

اس مرض کا علاج کیا ہے؟

اگریہ سینڈروم ایک دفعہ کسی کو ہوجائے توزیادہ ترصورتوں میں اس کا مکمل علاج ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم احتیاطی تدابیراورعلاج سے اسے قابوکیا جا سکتا ہے۔ جو خواتین وزن کم کرلیتی ہیں‘ ان میں مرض کی علامات کم ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں دواؤں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ادویات کے مقاصد مختلف لوگوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً شادی سے پہلے زیادہ ترلڑکیوں کی خواہش کیل مہاسوں یا ناپسندیدہ بالوں کاخاتمہ ہوتا ہے۔ ایام باقاعدہ کرنے کے لئے دی جانے والی دواؤں سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے تاہم یہ لمبا علاج ہے جو سالوں چلتا ہے۔ اولاد کی طلب ہوتو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو انڈوں کے اخراج میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگرکوئی اورپیچیدگی ہوتوعلاج کیا جاتا ہے۔

پی سی اوایس کا نقصان کیا ہے؟

اس کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل میں پہلا توزیبائشی ہے جس کے متعلق خواتین بہت حساس ہوتی ہیں۔ اگران کے چہروں پر بال یا کیل مہاسے ہوں یا ان کا وزن بڑھ جائے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ موٹاپے سے نہ صرف جسم کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ کچھ اورمسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔ انڈوں کے اخرا ج میں رکاوٹ سے بے اولادی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

علاج نہ کرانے کی صورت میں کن پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے؟

اگر پی سی او ایس کا علاج نہ کیا جائے تو بانجھ پن، دل کے امراض،ذیابیطس اوربیضہ دانی کے کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علاج ہارمونز سے کیا جاتا ہے جو صرف ڈاکٹر کی ہدایت اورمعائنے کے بعد ہی لینے چاہئیں۔ بلوغت میں قدم رکھتے ہوئے اس کی علامات ظاہر ہوں توماہرنسواں سے رابطہ کریں تاکہ مستقبل میں بڑی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

کیا پی سی او ایس سے متاثرہ خواتین ماں بن سکتی ہیں؟

اگرمسئلے کی بروقت تشخیص ہوجائے اوروہ ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق اپنا وزن کم کرلے اورلائف سٹائل میں تبدیلیاں لے آئے توادویات یا پروسیجرزکی مدد سے وہ ماں بن سکتی ہے۔؎

 کیا اس بیماری میں مبتلا خواتین میں اسقاط حمل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

جی ہاں، ان خواتین میں اسقاط حمل کا خطرہ بہت زیا دہ ہوتا ہے۔ حمل کے دوران ان میں بلڈ پریشراورخون میں شوگر کی مقداربڑھ جانے کی وجہ سے قبل از وقت پیدائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عموماً اس بیماری سے متاثرہ ماں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کو شعبہ انتہائی نگہداشت میں رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ بچے پیدائش سے پہلے‘ دوران زچگی یا کچھ عرصے بعد فوت ہوجاتے ہیں۔ عموماً دو یا دو سے زائد بچوں کی بیک وقت پیدائش کی صورت میں اس کے امکانات زیا دہ ہوتے ہیں۔

اس مرض سے نپٹنے کے لئے رہن سہن میں کون سی تبدیلیاں ضروری ہیں؟

سب سے پہلے اپنے طرززندگی اورخصوصاً کھانے پینے کی عادات میں صحت مندانہ تبدیلیاں لائیں۔ موٹاپا بہت سی بیماریاں کی جڑہے لہٰذا اس پر قابو پائیں۔ اس ضمن میں باقاعدہ ورزش بہت اہم کردارادا کرسکتی ہے۔ کیمیائی طور پرزیادہ عرصے کے لئے محفوظ کئے گئے کھانوں اورخصوصاً ایسی خوراک جس میں مزید شکر ڈالی گئی ہو‘ سے احتیاط برتیں۔ اناج‘ پھل اورسبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ یہ اشیاء خون میں شکرکی مقداراور ہارمونزکو تناسب میں رکھتی ہیں ۔ پی سی او ایس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیرضروری بالوں سے نجات کے لئے لیزرتھیراپی اورالیکٹرو لیسزمعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ مثبت سوچ اپنائیں کیونکہ یہ بیماری سے جلد صحت یابی کی طرف قدم بڑھانے میں کلیدی کردارادا کرتی ہے۔

PCOS, polycystic ovary syndrome prevention, symptoms and treatment of PCOS

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

LEAVE YOUR COMMENTS