مختلف امراض میں روزہ

3

مختلف امراض میں روزہ

ماہ رمضان کی برکات سے فیض یاب ہونے کے لئے نہ صرف صحت مند افراد بے چین ہوتے ہیں بلکہ بہت سے مریض بھی چاہتے ہیں کہ اس ماہ کے روزوں سے محروم نہ رہیں ۔ اسی شوق میں وہ روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن بیماری میں شدت کی وجہ سے انہیں بعض اوقات افطاری سے قبل ہی روزہ توڑنا پڑجاتا ہے۔ ایسے مریضوں کو روزہ رکھتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔

ہائی بلڈ پریشر کے مریض

٭مریض نمک، چکنائی اورزیادہ پروٹین والی غذاؤں سے اجتناب کریں۔

٭انڈا اوربڑا گوشت بلڈ پریشرکو اچانک بڑھا دیتے ہیں لہٰذا روزے میں بالخصوص ان اشیاء سے پرہیزکریں۔

٭ادویات کا استعمال افطاری کے بعد کریں۔ دوسری صورت میں’’ڈی ہائڈریشن‘‘ کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

٭130/80 یا 120/80 بلڈپریشروالے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں۔ بلڈ پریشراس سے زیادہ یا کم ہو تو معالج کی ہدایات کے مطابق روزہ رکھیں۔

دل کے مریض

٭وہ افراد جن کا بائی پاس ہوا ہو، انہیں سٹنٹ ڈالے گئے ہوں، سیدھا لیٹنے، چہل قدمی کرنے یا سیڑھیاں چڑھنے سے ان کا سانس پھولتا ہو تو روزہ رکھنے سے پہلے معالج سے ضرور ہدایات لیں۔

٭تھوڑی سی مشقت سے سینے کے بائیں جانب درد یا بوجھ محسوس ہوتا ہو تو روزہ نہ رکھیں۔

گردوں کے مریض

ایک فطری عمل کے تحت گردوں اورمثانے میں پتھریاں بن کرپیشاب کے راستے خارج ہو جاتی ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ گردوں میں یہ پتھریاں مختلف اقسام کی ہوتی ہیں جن میں سے زیادہ تر کیلشیم یا یورک ایسڈ کی ہوتی ہیں۔ ایسی پتھریوں کے حامل مریض ان ہدایات پرعمل کریں

دودھ یا اس سے بنی ہوئی اشیاء ‘پالک‘ ٹماٹراورگوشت سے مکمل پرہیزکریں۔ اگرانہیں استعمال کرنا ہو تواس سلسلے میں ڈاکٹرسے مشورہ ضرور کریں ۔

٭روزہ رکھیں تو افطاری سے سحری تک 8 سے10 گلاس پانی ضرورپئیں۔

Patients and fast, fasting in Ramadan, heart patients, high blood pressure, kidney patient

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x