رعشہ کا مرض

رعشہ کا مرض

بڑھاپے میں قدم رکھنے کے بعد فرد میں کئی طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان میں سے کچھ توحقیقتاً بزرگی کی نشانیاں ہیں مگربعض کولاعلمی کے باعث اس کی علامت تصورکرلیا جاتا ہے۔ مثلاً 80 سال کی عمرتک پہنچنے کے بعد کچھ لوگوں کے ہاتھ اورپاؤں کپکپانے لگتے ہیں۔ تاہم بسا اوقات 40 سال سے زائدعمرکےافراد میں بھی ان کا ظاہرہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ محض بڑھاپے کی نشانی نہیں بلکہ کسی مرض کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔

اس مرض کوعام زبان میں رعشہ کا مرض کہا جاتا ہے۔ یہ ایک اعصابی بیماری ہےجس کی تشخیص عموماً دو یاتین سال گزرنے کے بعد ہوتی ہے۔ یہ دماغ میں ڈوپامین نامی ہارمون کی کمی کے باعث ہوتا ہے۔

بیماری کے مراحل

اس بیماری کے پانچ مراحل ہیں۔

٭پہلے مرحلے میں مریض کورعشے کا احساس ہوتا ہے مگراس سے اس کے روزمرہ کے کام متاثرنہیں ہوتے۔

٭دوسرے مرحلےمیں یہ بڑھنے لگتا ہےاورفرد کو حرکت کرنے میں مشکل پیش آنے لگتی ہے۔

تیسرے مرحلے میں جسم کے مختلف اعضاء کا دماغ سے ربط ختم ہوجاتا ہے اوراس کی اکڑن بڑھنے لگتی ہےجس کے نتیجے میں گرنے کا ٭اندیشہ زیادہ ہوجاتا ہے۔

٭چوتھے مرحلے میں کچھ نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہونے لگتے ہیں اوریادداشت کمزورہوجاتی ہے۔

٭آخر ی مرحلے میں لرزش اتنی شدت اختیارکرلیتی ہے کہ اس صورتحال کوازخود یا گھرپرقابو کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں باقی معمولات زندگی بھی متاثرہوتے ہیں لہٰذا مریض کو ہسپتال میں زیرنگرانی رکھنا پڑتا ہے۔

مرض کی علامات

سب سے پہلے مریضوں کی حرکات آہستہ ہوتی ہیں۔اس کے بعد کروٹ لینے میں مشکل پیش آتی ہے،چلتے ہوئے قدم چھوٹے ہوجاتے ہیں، توازن برقرارنہیں رہتا، جسم آگے کی طرف جھک جاتا ہے،لکھائی چھوٹی ہوجاتی ہےاورفرد گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کی ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے۔

تشخیص کے طریقے

ڈاکٹر خواتین وحضرات مختلف طریقوں سے اس مرض کی پہچان کرتے ہیں جویہ ہیں

٭انگلی سے مریض کا ماتھا تھپتھپاتے ہیں۔ ایسا کرنے پرنارمل آدمی بالعموم ایک دفعہ آنکھیں بند کرتا ہے مگررعشہ کا مریض ہربارانہیں بند کرتا ہے۔

٭ڈاکٹر حضرات مریض کو چلا کردیکھتے ہیں۔ عام فرد چلتے ہوئے دونوں بازوں ہلاتا ہے مگراس مرض کے شکارافراد کے بازو چلتے ہوئے حرکت نہیں کرتے۔

اس کے علاوہ اس کی تین اہم نشانیاں ہیں جو مرض کے دو سے تین سال بعد ظاہرہوتی ہیں۔ ان میں لرزش، جسم کا ایک یا دونوں طرف سے اکڑجانا اور چہرے کے تاثرات کا غائب ہونا شامل ہیں۔

مرض کا علاج

یہ ایک ایسا مرض ہے جس سے مکمل چھٹکارا ممکن نہیں تاہم اس کوبہترکرنے کے لئے دو طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہےجویہ ہیں

ادویات

مریض کو ادویات کی شکل میں ڈوپامین دی جاتی ہے۔ ان کی ڈوزکا انحصارمرض کی شدت پرہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ جب یہ بیماری بڑھتی ہے تو ڈوپامین کی بھی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے میں ادویات کازیادہ استعمال منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ اس کوقابو کرنے کے لئے ڈاکٹرحضرات دوا تبدیل کردیتے ہیں۔

تھیراپی

اگررعشے کی وجہ پارکنسنزہوتو یہ وہ واحد لرزش ہے جو کام کرنے سے کم ہوتی ہے۔ لہٰذا پہلے انفرادی طورپرفرد کو چھوٹے پٹھوں کی ورزشیں کرائی جاتی ہیں۔ پھر جب وہ چلنے کے قابل ہوجائے توبڑے پٹھوں کی بہتری کے لئے اس مرض کے شکارافراد کی اجتماعی تھیراپی کی جاتی ہے۔ اس میں 8 سے 10 مریض ہوتے ہیں جنہیں ایک سے دو گھنٹے ( وقفے کے ساتھ) مختلف ورزشیں کرائی جاتی ہیں۔اکھٹےہونے سےانہیں ایک دوسرے سے ترغیب اورحوصلہ ملتا ہے۔

Parkinson disease, dopamine, tremor, stages of Parkinson, medicine and therapy

Vinkmag ad

Read Previous

ڈوپامین کے قدرتی ذرائع

Read Next

پارکنسنز ڈیزیز: مریضوں کے لئے مفید ورزشیں

Leave a Reply

Most Popular