Vinkmag ad

زیادہ فعال مثانہ: بار بار پیشاب کی حاجت

A person looking anxious while quickly walking toward a restroom door in a public hallway

زیادہ فعال مثانہ (Overactive Bladder) جسے او اے بی (OAB) بھی کہا جاتا ہے، ایسی کیفیت ہے جس میں پیشاب کی اچانک، شدید اور بے قابو حاجت محسوس ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں دن اور رات کے دوران بار بار پیشاب کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ بعض اوقات پیشاب خود بخود نکل جاتا ہے جسے "ارجنسی اِنکانٹیننس” کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد اکثر شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور سماجی یا پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے گریز کرنے لگتے ہیں۔

علامات

زیادہ فعال مثانے کی علامات میں پیشاب کی اچانک اور شدید حاجت شامل ہے، جسے روکنا مشکل ہوتا ہے۔ مریض کو بار بار، دن میں آٹھ یا اس سے زیادہ بار پیشاب آتا ہے۔ بعض افراد کو رات کے وقت بھی بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات پیشاب خود بخود نکل جاتا ہے۔ یہ علامات روزمرہ زندگی، نیند اور سماجی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں۔

وجوہات

مثانہ عام حالت میں گردوں سے آنے والے پیشاب کو جمع کرتا ہے اور مناسب وقت پر خارج کرتا ہے۔ جب مثانہ بھر جاتا ہے تو اعصابی سگنل دماغ کو پیشاب کی حاجت کا احساس دلاتے ہیں۔ زیادہ فعال مثانے میں یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے اور مثانے کے عضلات بغیر ضرورت کے سکڑنے لگتے ہیں، جس سے اچانک حاجت محسوس ہوتی ہے۔

اس کیفیت کا تعلق درج ذیل کیفیات سے ہو سکتا ہے:

٭ مثانے کی بیماریاں جیسے پتھری یا رسولیاں

٭ اعصابی نظام کی بیماریاں جیسے سٹروک یا ملٹی پل سکلروسیس

٭ ذیابیطس

٭ پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ جیسے پروسٹیٹ کا بڑھ جانا یا قبض

٭ ہارمونی تبدیلیاں، خاص طور پر رجون کے بعد

٭ پیشاب کی نالی کا انفیکشن

مزید عوامل:

٭ عمر کے ساتھ دماغی کارکردگی میں کمی

٭ کیفین یا الکحل کا زیادہ استعمال

٭ بعض ادویات کا اثر

٭ پیشاب مکمل طور پر خارج نہ ہونا

٭ بیت الخلا تک فوری رسائی نہ ہونا

خطرے کے عوامل

عمر بڑھنے کے ساتھ اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خواتین میں یہ مسئلہ نسبتاً زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ پروسٹیٹ کا بڑھ جانا اور ذیابیطس بھی خطرہ بڑھاتے ہیں۔ بعض اعصابی بیماریوں جیسے سٹروک یا الزائمر کے مریض بھی زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ پیشاب کی علامات کو بروقت محسوس نہیں کر پاتے۔

پیچیدگیاں

زیادہ فعال مثانہ زندگی کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے اور درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:

٭ بے چینی اور ذہنی دباؤ

٭ ڈپریشن یا جذباتی پریشانی

٭ جنسی مسائل

٭ نیند کی خرابی اور بار بار نیند کا ٹوٹنا

٭ پیشاب کی مخلوط بے ضابطگی (Mixed Urinary Incontinence) ایسی حالت ہے جس میں پیشاب اچانک شدید حاجت کے ساتھ بھی خارج ہو سکتا ہے۔ یہ جسمانی دباؤ جیسے کھانسی، ہنسنے یا ورزش کے دوران بھی غیر ارادی طور پر رس سکتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

زیادہ فعال مثانہ بڑھتی عمر کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اگر علامات زندگی کے معیار کو متاثر کریں یا پریشانی پیدا کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص اور علاج سے علامات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

تشخیص

ڈاکٹر علامات کے ساتھ انفیکشن یا دیگر مسائل کی جانچ کرتے ہیں۔ مریض کی میڈیکل ہسٹری، اعصابی معائنہ اور جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے۔ پیشاب کے ٹیسٹ کے ذریعے انفیکشن یا خون کی موجودگی دیکھی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں مثانے کے افعال کا تفصیلی معائنہ بھی کیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مثانہ پیشاب کو مکمل طور پر خارج کر رہا ہے یا نہیں۔

مثانے کے ٹیسٹ

٭ مثانے میں باقی رہ جانے والے پیشاب کی مقدار معلوم کرنا

٭ پیشاب کے بہاؤ کی رفتار ناپنا

٭ مثانے کے دباؤ کی جانچ کرنا

یہ ٹیسٹ مثانے کی کارکردگی اور اس کی گنجائش کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

علاج

زیادہ فعال مثانے کا علاج مختلف طریقوں کے امتزاج پر مشتمل ہوتا ہے۔

رویے پر مبنی علاج

٭ بائیوفیڈبیک کے ذریعے مثانے کے عضلات کو سمجھنا اور کنٹرول کرنا

٭ مقررہ وقت پر پیشاب کی عادت ڈالنا

٭ وزن کم کرنا

٭ کیتھیٹر کے ذریعے مکمل اخراج

٭ کیگل ایکسرسائز کے ذریعے عضلات مضبوط بنانا

ادویات

ادویات مثانے کے سکڑنے کے عمل کو کم کرتی ہیں اور علامات کو بہتر بناتی ہیں۔ ان میں مختلف اقسام کی دوائیں شامل ہیں جو ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق تجویز کرتا ہے۔ عام ضمنی اثرات میں منہ اور آنکھوں کا خشک ہونا شامل ہے، جبکہ بعض اوقات قبض بھی ہو سکتی ہے۔

مثانے میں انجیکشن

بوٹوکس کے انجکشن مثانے کے عضلات کو آرام دیتے ہیں اور اس کی گنجائش بڑھاتے ہیں۔ اس کا اثر عموماً چھ ماہ یا اس سے زیادہ رہتا ہے۔ بعض صورتوں میں پیشاب روکنے کا مسئلہ ہو سکتا ہے جس کے لیے کیتھیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اعصابی تحریک

برقی تحریک کے ذریعے مثانے کے اعصاب کو متحرک کیا جاتا ہے تاکہ علامات بہتر ہوں۔

سرجری

جب دیگر علاج مؤثر نہ ہوں تو شدید صورتوں میں سرجری کی جاتی ہے۔ اس میں مثانے کی گنجائش بڑھانا یا بعض اوقات مثانے کو ہٹانا شامل ہوتا ہے۔

گھریلو علاج

٭ پانی کی مقدار مناسب رکھیں، نہ بہت زیادہ نہ بہت کم

٭ کیفین، الکحل اور تیز غذاؤں سے پرہیز کریں

٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں

٭ قبض سے بچاؤ کے لیے فائبر والی غذا استعمال کریں

٭ سگریٹ نوشی ترک کریں

٭ جذب کرنے والے پیڈز یا انڈرگارمنٹس استعمال کریں

احتیاطی تدابیر

مندرجہ ذیل اقدامات اس بیماری کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں:

٭ کیگل ایکسرسائز کے ذریعے مثانے کے عضلات کو مضبوط بنانا

٭ باقاعدہ جسمانی سرگرمی

٭ کیفین اور الکحل کا استعمال کم کرنا

٭ صحت مند وزن برقرار رکھنا

٭ ذیابیطس جیسے امراض کو کنٹرول میں رکھنا

٭ سگریٹ نوشی ترک کرنا

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

او سی ڈی: پریشان کن خیالات اور مجبور کن رویے

Leave a Reply

Most Popular