موٹاپا (Obesity) ایک پیچیدہ بیماری ہے جس میں جسم میں چربی غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ محض ظاہری طور پر اچھا یا برا لگنے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ طبی حالت ہے۔ یہ کئی خطرناک بیماریوں کے امکانات بڑھا دیتا ہے، جن میں دل کی بیماری، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، جگر کے مسائل، نیند میں سانس رکنا اور بعض اقسام کے کینسر شامل ہیں۔
علامات
باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) موٹاپے کی پیمائش یا تشخیص کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ اسے وزن اور قد کے مخصوص فارمولے سے نکالا جاتا ہے۔ آن لائن کیلکولیٹر بھی دستیاب ہیں جو بی ایم آئی معلوم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
بی ایم آئی | وزن کی حالت
18.5 سے کم | کم وزن
18.5–24.9 | صحت مند
25.0–29.9 | زائد وزن
30.0 یا زیادہ | موٹاپا
٭ ایشیائی افراد میں 23 یا اس سے زیادہ بی ایم آئی پر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
٭ زیادہ تر افراد میں بی ایم آئی جسمانی چربی کا مناسب اندازہ فراہم کرتا ہے، تاہم یہ براہِ راست چربی کی پیمائش نہیں کرتا۔ بعض افراد، جیسے کھلاڑی، زیادہ بی ایم آئی رکھتے ہیں مگر ان میں اضافی چربی نہیں ہوتی
٭ ڈاکٹر علاج کے فیصلوں کے لیے کمر کا ناپ بھی لیتے ہیں، جسے کمر کا گھیر کہا جاتا ہے۔ مردوں میں 40 انچ اور خواتین میں 35 انچ سے زیادہ کمر صحت کے خطرات بڑھاتی ہے۔ بعض اوقات وزن کم کرنے کی پیش رفت جانچنے کے لیے جسمانی چربی کی شرح بھی ناپی جاتی ہے۔
وجوہات
موٹاپا اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم میں آنے والی کیلوریز خرچ ہونے والی کیلوریز سے زیادہ ہو جائیں۔ اضافی کیلوریز جسم میں چربی کی صورت میں جمع ہو جاتی ہیں۔ فاسٹ فوڈ اور میٹھی مشروبات کی وجہ سے بہت سے افراد کی خوراک میں کیلوریز کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے۔ موٹاپے کے شکار افراد کو جلدی بھوک لگ سکتی ہے یا وہ جذباتی دباؤ کے باعث زیادہ کھاتے ہیں۔
جدید طرزِ زندگی میں جسمانی سرگرمی کم ہو گئی ہے، جس سے کیلوریز جلنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ روزمرہ سہولیات نے بھی حرکت کو کم کر دیا ہے، جیسے لفٹ، آن لائن خریداری اور دیگر آسانیاں۔
خطرے کے عوامل
خاندانی اثرات اور جینیات
والدین سے ملنے والے جین جسم میں چربی کے ذخیرے اور اس کی تقسیم کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ بھوک، توانائی کے استعمال اور میٹابولزم پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ خاندان میں مشترک عادات بھی موٹاپے کے امکانات بڑھاتی ہیں۔
طرزِ زندگی
* غیر صحت بخش غذا، جس میں کیلوریز زیادہ اور غذائیت کم ہو
* مشروبات کے ذریعے زیادہ کیلوریز کا حصول، خاص طور پر میٹھی یا الکوحل والی اشیاء
* جسمانی سرگرمی کی کمی اور سکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا
کچھ بیماریاں اور ادویات
کچھ طبی حالتیں، جیسے تھائی رائیڈ کی خرابی یا دیگر ہارمونل مسائل، موٹاپے کا سبب بن سکتے ہیں۔ گنٹھیا جیسی بیماریاں سرگرمی کم کر دیتی ہیں، جس سے وزن بڑھتا ہے۔ بعض ادویات بھی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
سماجی اور معاشی عوامل
محفوظ ماحول کی کمی ورزش میں رکاوٹ بنتی ہے۔ صحت بخش خوراک تک رسائی بھی محدود ہو سکتی ہے۔ اردگرد کے لوگوں کی عادات بھی وزن پر اثر ڈالتی ہیں۔
عمر
موٹاپا کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، مگر بڑھتی عمر کے ساتھ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہارمونز میں تبدیلی اور جسمانی سرگرمی میں کمی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ پٹھوں کی کمی میٹابولزم کو سست کر دیتی ہے، جس سے وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔
دیگر عوامل
* حمل کے دوران اور بعد میں وزن بڑھنا
* سگریٹ نوشی چھوڑنے کے بعد وزن میں اضافہ
* نیند کی کمی یا زیادتی سے ہارمونز متاثر ہونا
* ذہنی دباؤ کے باعث زیادہ کھانا
* آنتوں کے بیکٹیریا میں تبدیلی
یہ تمام عوامل موجود ہونے کے باوجود موٹاپا لازمی نہیں ہوتا۔ صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
پیچیدگیاں
موٹاپے کے باعث کئی سنگین صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
* دل کی بیماری اور سٹروک
* ٹائپ 2 ذیابیطس
* مختلف اقسام کے کینسر
* نظامِ انہضام کے مسائل
* نیند میں سانس رکنے کی بیماری
* جوڑوں کی خرابی
* جگر میں چربی جمع ہونا
* کووڈ- 19 کی شدید علامات
معیارِ زندگی
موٹاپا زندگی کے مجموعی معیار کو متاثر کرتا ہے۔ متاثرہ افراد اکثر اپنی پسندیدہ سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پاتے اور سماجی مقاما سے گریز کرتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں امتیازی سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ درج ذیل مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں:
* ڈپریشن
* معذوری
* شرمندگی اور احساسِ جرم
* سماجی تنہائی
* پیشہ ورانہ کارکردگی میں کمی
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ اپنے وزن یا اس سے جڑی صحت کی مشکلات کے بارے میں فکر مند ہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ طبی ماہرین آپ کے خطرات کا جائزہ لے کر مناسب علاج اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
تشخیص
موٹاپے کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر جسمانی معائنہ کرتے ہیں اور مختلف ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔ اس عمل میں میڈیکل ہسٹری، جسمانی علامات، بی ایم آئی اور کمر کے گھیر کا جائزہ شامل ہوتا ہے۔ دیگر بیماریوں جیسے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کی بھی جانچ کی جاتی ہے۔ یہ تمام معلومات علاج کے مؤثر انتخاب میں مدد دیتی ہیں۔
علاج
موٹاپے کے علاج کا بنیادی مقصد صحت مند وزن حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہے۔ اس سے مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ابتدائی طور پر 5 سے 10 فیصد وزن کم کرنا ہدف رکھا جاتا ہے۔ اس کے لیے خوراک اور جسمانی سرگرمی میں مستقل تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔
غذائی تبدیلیاں
کیلوریز میں کمی اور متوازن غذا اپنانا بنیادی قدم ہے۔ آہستہ اور مستقل وزن کم کرنا زیادہ محفوظ اور دیرپا ہوتا ہے۔
* کیلوریز کی مقدار کم کریں
* کم مقدار میں کھا کر پیٹ بھرنے کی عادت ڈالیں
* پھل، سبزیاں اور صحت مند پروٹین شامل کریں
* نمک، چینی اور غیر صحت مند چکنائی کم کریں
* میٹھی مشروبات سے پرہیز کریں
فوری نتائج دینے والی ڈائٹس سے گریز کریں، کیونکہ یہ دیرپا فائدہ نہیں دیتیں۔
ورزش اور سرگرمی
* ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کریں
* روزمرہ سرگرمی میں اضافہ کریں، جیسے چلنا یا سیڑھیاں استعمال کرنا
* روزانہ پیدل چلنے کی شرح بڑھائیں
رویے میں تبدیلی
* ماہرِ نفسیات سے مشاورت کھانے کے رویے کو بہتر بناتی ہے
* سپورٹ گروپس سے حوصلہ افزائی اور رہنمائی ملتی ہے
وزن کم کرنے کی ادویات
یہ ادویات غذا اور ورزش کے ساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔ ہر دوا ہر فرد کے لیے مؤثر نہیں ہوتی، اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
اینڈوسکوپک طریقے
ان طریقوں میں معدے کے حجم کو کم کیا جاتا ہے، جس سے کم کھانے پر پیٹ بھر جاتا ہے۔
سرجری
وزن کم کرنے کی سرجری خوراک کی مقدار یا جذب کو محدود کرتی ہے۔ عام اقسام میں گیسٹرک بینڈ، بائی پاس اور سلیو سرجری شامل ہیں۔ کامیابی کے لیے طویل مدتی طرزِ زندگی میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔
دیگر علاج
* ہائیڈروجل کیپسول جو پیٹ میں پھول کر بھوک کم کرتے ہیں
* اعصابی سگنلز کو کنٹرول کرنے والا آلہ
* معدے سے خوراک کا کچھ حصہ نکالنے کا طریقہ
گھریلو تدابیر اور طرزِ زندگی
* بیماری کے بارے میں آگاہی حاصل کریں
* حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کریں
* علاج کے منصوبے پر مستقل عمل کریں
* اہلِ خانہ اور دوستوں کی مدد حاصل کریں
* خوراک اور سرگرمی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھیں
خوش آئند بات یہ ہے کہ معمولی وزن کم کرنے سے بھی صحت میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔ اس سے موٹاپے سے جڑی بیماریوں کا خطرہ کم یا ختم ہو سکتا ہے۔ صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش اور طرزِ زندگی میں تبدیلی اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات اور مخصوص طبی طریقہ کار بھی علاج کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔