نیند میں سانس رکنے کی بیماری (Obstructive sleep apnea) سانس کا عارضہ ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی اور دوبارہ شروع ہوتی ہے۔ ان وقفوں کو طبی اصطلاح میں ’’ایپنیاز‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گلے کے عضلات ڈھیلے ہو کر ہوا کا راستہ بند کر دیتے ہیں۔ یہ کیفیت رات بھر بار بار ہوتی ہے۔ خراٹے اس بیماری کی سب سے عام علامت ہیں۔
علامات
رات کے دوران علامات
٭ با آواز بلند خراٹے لینا
٭ نیند میں سانس کا بار بار رک جانا
٭ دم گھٹ کر یا گھبرا کر جاگنا
٭ بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا
دن کے دوران علامات
٭ دن بھر غیر معمولی نیند اور غنودگی
٭ صبح خشک منہ یا گلے میں درد کے ساتھ جاگنا
٭ صبح کے وقت سر درد
٭ توجہ اور یادداشت میں کمی
٭ مزاج میں چڑچڑاپن یا اداسی
٭ بلڈ پریشر کا بڑھ جانا
٭ جنسی دلچسپی میں کمی
وجوہات
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گلے کے پچھلے عضلات بہت زیادہ ڈھیلے ہو جائیں۔ یہ عضلات نرم تالو، زبان اور گلے کی دیوار کو سہارا دیتے ہیں۔
عضلات ڈھیلے ہونے پر سانس لیتے وقت ہوا کی نالی تنگ یا بند ہو جاتی ہے جس سے خون میں آکسیجن کم اور کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھ جاتی ہے۔
دماغ وقتی طور پر جسم کو جگاتا ہے تاکہ سانس بحال ہو سکے۔ یہ جاگنا اکثر اتنا مختصر ہوتا ہے کہ یاد نہیں رہتا جبکہ یہ عمل رات میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل بیماری کے خطرے کو بڑھاتے ہیں
٭ زیادہ وزن یا موٹاپا
٭ بڑھتی عمر
٭ مرد ہونا جبکہ خواتین میں خطرہ مینوپاز کے بعد بڑھتا ہے
٭ خاندانی طور پر بیماری کی موجودگی
٭ تنگ ہوا کی نالی یا بڑھے ہوئے ٹانسلز
٭ مسلسل ناک بند رہنا
٭ تمباکو نوشی
٭ ذیابیطس، دل کی بیماری اور ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل
پیچیدگیاں
یہ عارضہ صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ان میں دن بھر شدید تھکن اور توجہ کی کمی، کام اور ڈرائیونگ کے دوران حادثات کا خطرہ، اور بچوں میں تعلیمی و رویے کے مسائل شامل ہیں۔
یہ بیماری ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی اور بعض اوقات اچانک پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
بعض ادویات اور سرجری کے دوران سانس کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ آنکھوں کی بیماریوں مثلاً گلوکوما کا امکان ہوتا ہے، ساتھی کی نیند متاثر ہوتی ہے اور شدید کووڈ-19 کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں
اگر درج ذیل علامات ہوں تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے
٭ خراٹے اتنے شدید ہوں کہ دوسروں کی نیند متاثر ہو
٭ نیند میں سانس رکنے کے واقعات دیکھے جائیں
٭ دم گھٹ کر اچانک جاگنا ہو
٭ دن میں شدید غنودگی ہو جو کام یا ڈرائیونگ متاثر کرے
خراٹے ہمیشہ خطرناک بیماری کی علامت نہیں ہوتے لیکن وقفے کے ساتھ خراٹے سنجیدہ مسئلہ ہو سکتے ہیں۔ مسلسل تھکن اور نیند کی خرابی میں ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
تشخیص
ڈاکٹر علامات، جسمانی معائنے اور ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کرتا ہے۔ مریض کو نیند کے ماہر کے پاس بھی بھیجا جاتا ہے۔
معائنے میں منہ، ناک اور گلے کا جائزہ لیا جاتا ہے، گردن اور جسم کی پیمائش کی جاتی ہے اور بلڈ پریشر بھی چیک کیا جاتا ہے۔
کبھی مریض کو سلیپ لیب میں رات گزارنی پڑتی ہے اور کبھی گھر پر بھی نیند کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
ٹیسٹ
نیند کا مکمل ٹیسٹ
اس میں نیند کے دوران دل، دماغ اور سانس کی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ آکسیجن کی سطح اور جسمانی حرکات بھی ریکارڈ ہوتی ہیں۔
گھریلو ٹیسٹ
یہ سادہ آلات کے ذریعے نیند کے دوران سانس رکنے کے واقعات کو ریکارڈ کرتا ہے۔
علاج
مؤثر علاج سے نیند بہتر ہو جاتی ہے، دن کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور دل و شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
مشین
یہ سب سے زیادہ مؤثر علاج ہے جس میں مشین ماسک کے ذریعے مسلسل ہوا فراہم کر کے سانس کی نالی کھلی رکھتی ہے اور خراٹے اور سانس رکنے کے واقعات کم ہو جاتے ہیں۔ کچھ افراد کو ماسک کے استعمال میں مشکل پیش آ سکتی ہے، لیکن اس کی مختلف اقسام اور جدید مشینیں زیادہ آرام دہ ہیں۔
منہ کے آلات
یہ جبڑے یا زبان کو آگے رکھ کر سانس کی نالی کھلی رکھتے ہیں جبکہ دانتوں کے ماہر کی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
سرجری
سرجری صرف اس وقت کی جاتی ہے جب دوسرے علاج ناکام ہوں۔ اس میں گلے کا اضافی ٹشو یا رکاوٹیں ہٹائی جاتی ہیں۔ کبھی اعصابی تحریک کا آلہ لگایا جاتا ہے اور کبھی جبڑے یا ناک کی ساخت درست کی جاتی ہے۔
وزن کم کرنے کی دوائیں
کچھ دوائیں وزن کم کر کے علامات میں بہتری لاتی ہیں۔ بعض مریضوں کو دیگر علاج کی بھی ضرورت رہ سکتی ہے۔
طرز زندگی اور گھریلو احتیاط
٭ وزن کم کرنا
٭ باقاعدہ ورزش کرنا
٭ شراب اور نیند آور ادویات سے پرہیز کرنا
٭ کروٹ یا پیٹ کے بل سونا
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔