Vinkmag ad

او سی ڈی: پریشان کن خیالات اور مجبور کن رویے

A woman in casual lounge clothes is focused on organizing a perfect row of pens on a table, which is a symptom of her obsessive-compulsive disorder.

اَبسیسیو-کمپَلسیو ڈس آرڈر (Obsessive-Compulsive Disorder) یا او سی ڈی (OCD) ایک ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کے ذہن میں ناپسندیدہ اور بار بار آنے والے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان خیالات کو وساوس (Obsession) کہا جاتا ہے۔ یہ وسواس فرد کو مخصوص اعمال بار بار کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جنہیں مجبور کن افعال (Compulsion) کہا جاتا ہے۔ یہ حالت روزمرہ زندگی میں شدید رکاوٹ پیدا کرتی ہے اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتی ہے۔ مریض دباؤ کم کرنے کے لیے انہی اعمال کو بار بار دہراتا ہے۔

او سی ڈی اکثر جراثیم، آلودگی یا مخصوص خدشات پر مرکوز ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مریض بار بار صفائی یا ہاتھ دھونے جیسے اعمال کرتا ہے۔ مریض عموماً شرمندگی، الجھن اور ذہنی تھکن محسوس کرتا ہے، تاہم بروقت اور مؤثر علاج سے بہتری ممکن ہے۔

 علامات

او سی ڈی میں وسواسی خیالات اور جبری اعمال دونوں شامل ہو سکتے ہیں، یا بعض صورتوں میں صرف ایک قسم کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مریض اکثر اس بات سے غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوتا ہے کہ اس کے خیالات حقیقت پر مبنی ہیں یا نہیں۔ یہ علامات وقت طلب ہوتی ہیں اور روزمرہ زندگی کے معیار کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہیں۔

یہ علامات عموماً درج ذیل صورتوں میں ظاہر ہوتی ہیں:

٭ آلودگی یا جراثیم کا خوف

٭ غیر یقینی صورتحال میں شدید شک

٭ ترتیب اور توازن کی شدید ضرورت

٭ خود یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کے خیالات

٭ مذہبی، جنسی یا جارحانہ نوعیت کے ناپسندیدہ خیالات

مثالیں

٭ دوسروں کی چھوئی ہوئی اشیاء سے آلودگی کا خوف

٭ دروازہ یا چولہا بند ہونے پر بار بار شک

٭ چیزوں کی بے ترتیبی پر شدید بے چینی

٭ بھیڑ میں گاڑی چلانے کے مناظر کا تصور

٭ عوامی جگہوں پر نامناسب رویے کے خیالات

٭ ناپسندیدہ جنسی تصورات

٭ ہاتھ ملانے یا جسمانی رابطے سے گریز

جبری علامات

جبری افعال ایسے بار بار کیے جانے والے رویے یا ذہنی عمل ہیں جن پر مریض خود کو قابو میں نہیں رکھ پاتا۔ یہ اعمال اضطراب کم کرنے یا کسی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے کیے جاتے ہیں، تاہم ان سے صرف وقتی سکون حاصل ہوتا ہے۔ یہ عموماً غیر منطقی اور ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ علامات عموماً درج ذیل صورتوں میں ظاہر ہوتی ہیں:

٭ صفائی اور دھلائی

٭ بار بار چیک کرنا

٭ گنتی کرنا

٭ چیزوں کو ترتیب دینا

٭ سخت معمولات پر عمل کرنا

٭ بار بار تسلی حاصل کرنا

مثالیں

٭ ہاتھوں کو بار بار دھونا یہاں تک کہ جلد متاثر ہو جائے

٭ دروازوں کو بار بار چیک کرنا کہ بند ہیں یا نہیں

٭ چولہا بار بار چیک کرنا کہ بند ہے یا نہیں

٭ مخصوص انداز میں مسلسل گنتی کرنا

٭ خاموشی سے الفاظ یا دعائیں دہرانا

٭ منفی خیالات کو زبردستی مثبت خیالات سے بدلنا

٭ اشیاء کو ایک ہی ترتیب میں رکھنا

او سی ڈی عام طور پر نوجوانی یا ابتدائی جوانی میں شروع ہوتا ہے، تاہم یہ بچپن میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ علامات وقت کے ساتھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں اور ذہنی دباؤ کے دوران زیادہ شدید ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک طویل مدتی حالت ہے جو روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

وجوہات

او سی ڈی کی حتمی وجہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے، تاہم ممکنہ عوامل میں دماغی کیمسٹری میں تبدیلی، جینیاتی اثرات اور سیکھے گئے رویے شامل ہیں۔

خطرے کے عوامل

٭ خاندان میں او سی ڈی یا دیگر ذہنی امراض کی تاریخ

٭ شدید ذہنی دباؤ یا تکلیف دہ زندگی کے واقعات

٭ دیگر ذہنی بیماریاں جیسے ڈپریشن یا اضطراب

پیچیدگیاں

٭ زیادہ وقت رسومات میں ضائع ہونا

٭ بار بار صفائی سے جلدی مسائل

٭ کام اور تعلیم میں مشکلات

٭ سماجی تعلقات میں بگاڑ

٭ زندگی کے معیار میں کمی

٭ خودکشی کے خیالات یا رویے

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

او سی ڈی اور پرفیکشنزم میں واضح فرق ہوتا ہے۔ او سی ڈی میں خیالات محض صفائی یا ترتیب کی خواہش نہیں بلکہ مجبوری کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر علامات روزمرہ زندگی، کام یا تعلقات کو متاثر کریں تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔

تشخیص

٭ نفسیاتی معائنہ جس میں خیالات، احساسات اور رویوں پر تفصیلی گفتگو کی جاتی ہے

٭ جسمانی معائنہ تاکہ دیگر ممکنہ وجوہات کو رد کیا جا سکے

او سی ڈی کی علامات دیگر ذہنی امراض سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، اس لیے درست تشخیص کے لیے ماہر کی مدد ضروری ہے۔

علاج

او سی ڈی کا علاج مکمل شفا فراہم نہیں کرتا، تاہم علامات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں تھراپی اور ادویات کا امتزاج بہترین نتائج دیتا ہے۔

نفسیاتی علاج

کگنیٹو بیہیویورل تھراپی (CBT) ایک مؤثر طریقہ ہے۔ ایکسپوژر اینڈ رسپانس پریوینشن (ERP) میں مریض کو خوف کا سامنا کرایا جاتا ہے اور جبری رویوں کو روکنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

ادویات

عام طور پر اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کے استعمال میں درج ذیل امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے:

٭ دوا کی مقدار اور انتخاب وقت کے ساتھ طے کیا جاتا ہے

٭ ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس پر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے

٭ بعض عمر کے افراد میں ابتدا میں خودکشی کے خیالات بڑھ سکتے ہیں

٭ دوسری ادویات یا سپلیمنٹس کے ساتھ تعامل ہو سکتا ہے

٭ دوا اچانک بند کرنے سے علامات واپس آ سکتی ہیں

دیگر علاج

٭ شدید کیسز میں خصوصی تھراپی پروگرام

٭ ڈیپ برین اسٹیمولیشن (DBS) مخصوص مریضوں کے لیے

٭ ٹرانسکرینیل میگنیٹک اسٹیمولیشن (TMS) غیر سرجیکل علاج

احتیاطی تدابیر

او سی ڈی کی مکمل روک تھام ممکن نہیں، تاہم ابتدائی علاج علامات کو بگڑنے سے روک سکتا ہے اور روزمرہ زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ اس سلسلے میںان ہدایات پر عمل مفید ہے:

٭ سیکھے گئے علاجی طریقوں پر باقاعدگی سے عمل کریں

٭ ادویات ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق جاری رکھیں

٭ علامات کی تبدیلی پر نظر رکھیں

٭ کسی بھی نئی دوا یا سپلیمنٹ سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

نیند میں سانس رکنے کی بیماری

Read Next

زیادہ فعال مثانہ: بار بار پیشاب کی حاجت

Leave a Reply

Most Popular