Vinkmag ad

بیضہ دانی کا سرطان

Doctor explaining ovarian cancer using a medical model for patient awareness and education on diagnosis and treatment options.

بیضہ دانی کا سرطان (Ovarian cancer) ایک ایسی بیماری ہے جس میں بیضہ دانیوں (اووریز) کے خلیے غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں۔ یہ خلیے تیزی سے پھیل کر صحت مند ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

عورتوں کے تولیدی نظام میں دو بیضہ دانیاں ہوتی ہیں جو رحم (یوٹرس) کے دونوں جانب واقع ہوتی ہیں۔ یہ بیضہ دانیاں انڈے پیدا کرتی ہیں اور ایسٹروجن و پروجیسٹرون جیسے اہم ہارمون بناتی ہیں۔

علامات

اوورریئن کینسر میں اکثر ابتدائی مرحلے میں واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ جب علامات سامنے آتی ہیں تو وہ عام بیماریوں سے ملتی جلتی ہونے کے باعث اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

٭ پیٹ میں مسلسل سوجن

٭ کھانا کھانے کے بعد جلدی پیٹ بھر جانا

٭ بغیر کسی واضح وجہ کے وزن میں کمی

٭ پیلوک حصے میں مسلسل درد یا دباؤ

٭ تھکن اور کمزوری کا احساس

٭ کمر کے نچلے حصے میں درد

٭ پاخانے کی عادات میں تبدیلی، جیسے قبض

٭ بار بار پیشاب کی حاجت

ڈاکٹر سے رجوع

اگر یہ علامات مسلسل رہیں یا وقت کے ساتھ بڑھ جائیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

وجوہات

بیضہ دانی کے سرطان کی حتمی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ بیماری اس وقت شروع ہوتی ہے جب بیضہ دانی کے خلیوں کے ڈی این اے میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔

اقسام

بیضہ دانی کے سرطان کی اقسام اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ کینسر کس خلیے سے شروع ہوا ہے۔

٭ ایپی تھیلیل بیضہ دانی کا سرطان (Epithelial Ovarian Cancer) سب سے عام قسم ہے اور اس کی کئی ذیلی اقسام پائی جاتی ہیں

٭ سٹرومل ٹیومرز (Stromal Tumors) نسبتاً نایاب ہوتے ہیں اور اکثر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جاتے ہیں

٭ جرم سیل ٹیومرز (Germ Cell Tumors) زیادہ تر نوجوان خواتین میں پائے جاتے ہیں اور کم عام ہیں

خطرے کے عوامل

٭ عمر بڑھنا

٭ موروثی جینیاتی تبدیلیاں

٭ فیملی میں بیضہ دانی یا چھاتی کے سرطان کی موجودگی

٭ زیادہ وزن یا موٹاپا

٭ مینوپاز کے بعد ہارمون تھراپی کا استعمال

٭ اینڈومیٹریوسیس یعنی رحم کی اندرونی جھلی کی سوجن

٭ ماہواری کے آغاز اور اختتام کی غیر معمولی عمر

٭ کبھی حاملہ نہ ہونا

بچاؤ کی تدابیر

بیضہ دانی کے سرطان سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں ہے، تاہم کچھ اقدامات ست اس کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے:

٭ مانع حمل گولیوں کے استعمال پر ڈاکٹر سے مشورہ

٭ اگر فیملی میں کینسر کی ہسٹری ہو تو باقاعدہ طبی معائنہ

تشخیص

اس بیماری کی تشخیص مختلف طبی ٹیسٹوں کے ذریعے کی جاتی ہے تاکہ مرض کی نوعیت اور شدت معلوم کی جا سکے:

٭ پیلوک معائنہ

٭ امیجنگ ٹیسٹ

٭ خون کے ٹیسٹ

٭ بعض صورتوں میں سرجری کے ذریعے حتمی تشخیص

٭ جینیاتی ٹیسٹنگ

مراحل

تشخیص کے بعد ڈاکٹر بیماری کا مرحلہ طے کرتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کینسر محدود ہوتا ہے جبکہ آخری مرحلے میں جسم کے دور دراز حصوں تک پھیل جاتا ہے۔

علاج

بیضہ دانی کے سرطان کا علاج عموماً سرجری اور کیموتھراپی کے امتزاج سے کیا جاتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں اضافی علاج بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

سرجری

٭ ایک بیضہ دانی کا اخراج

٭ دونوں بیضہ دانیوں کا اخراج

٭ بیضہ دانیوں اور رحم کا اخراج

٭ ایڈوانس مرحلے کے لیے سرجری

کیموتھراپی

٭ ایسی دواؤں پر مشتمل علاج جو تیزی سے بڑھنے والے کینسر خلیے کو ختم کرتا ہے

٭ یہ علاج رگ کے ذریعے یا منہ کے ذریعے دیا جا سکتا ہے

٭ سرجری کے بعد باقی ماندہ خلیوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے

ٹارگٹڈ تھراپی

٭ یہ علاج کینسر خلیوں کی مخصوص کمزوریوں کو شناخت کر کے انہیں براہِ راست نشانہ بناتا ہے

٭ علاج کا انتخاب لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج کی بنیاد پر کیا جاتا ہے

ہارمون تھراپی

٭ ایسٹروجن کے اثرات کو روک کر کینسر کی نشوونما کو سست کرتی ہے

٭ بعض سست رفتار اقسام میں مؤثر ہو سکتی ہے

امیونو تھراپی

٭ جسم کے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف متحرک کرتی ہے

٭ مخصوص حالات میں استعمال کی جاتی ہے

پیلی ایٹو کیئر

٭ اس کا بنیادی مقصد درد اور دیگر علامات میں کمی لانا ہوتا ہے

٭ یہ دیگر علاج، مثلاً کیموتھراپی یا سرجری کے ساتھ بھی دی جا سکتی ہے

٭ ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ عملے کی ٹیم اس کی فراہمی کرتی ہے

Frequently Asked Questions (FAQs)

بیضہ دانی کا سرطان کس عمر میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے؟

یہ بیماری زیادہ تر بڑی عمر کی خواتین میں سامنے آتی ہے۔ مینوپاز کے بعد اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کیا یہ بیماری شروع میں بغیر علامات کے ساتھ رہ سکتی ہے؟

جی ہاں، ابتدائی مراحل میں اکثر کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی، اسی لیے دیر سے تشخیص کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

کیا طرزِ زندگی اس بیماری کے خطرے کو متاثر کرتا ہے؟

موٹاپا، ہارمون تھراپی اور فیملی میں مرض کی ہسٹری جیسے عوامل خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، اس لیے صحت مند طرزِ زندگی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ob-gyne

Vinkmag ad

Read Previous

بریسٹ کینسر

Read Next

ڈپریشن: شدید افسردگی

Leave a Reply

Most Popular