ڈپریشن (Depression) ایک ذہنی کیفیت اور موڈ کی خرابی ہے، جو مسلسل اداسی، مایوسی اور دلچسپی میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ اسے شدید افسردگی یا کلینیکل ڈپریشن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صرف وقتی اداسی نہیں، بلکہ ایک قابلِ علاج طبی بیماری ہے۔ اس سے محض قوتِ ارادی کے ذریعے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے شکار زیادہ تر افراد مناسب ادویات، نفسیاتی علاج یا دونوں کے امتزاج سے نمایاں بہتری محسوس کرتے ہیں۔
علامات
ڈپریشن بعض افراد کو زندگی میں صرف ایک بار ہوتا ہے، جبکہ زیادہ تر لوگوں میں یہ بار بار ہو سکتا ہے۔ ہر دور کے دوران علامات دن کے بیشتر حصے میں تقریباً روزانہ موجود رہتی ہیں۔
٭ مسلسل اداسی، رونے کو دل چاہنا، خالی پن یا مایوسی محسوس ہونا
٭ معمولی باتوں پر غصہ، چڑچڑاپن یا مایوسی
٭ جنسی تعلق، مشاغل یا کھیل سمیت پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونا
٭ نیند نہ آنا یا بہت زیادہ سونا
٭ ہر وقت تھکن اور توانائی کی کمی
٭ بھوک کم ہونا اور وزن گھٹنا، یا زیادہ بھوک لگنا اور وزن بڑھنا
٭ بے چینی، گھبراہٹ یا بے قراری
٭ سوچنے، بولنے یا جسمانی حرکات کا سست ہونا
٭ خود کو بے وقعت سمجھنا یا ضرورت سے زیادہ احساسِ جرم
٭ توجہ، یادداشت اور فیصلے کرنے میں مشکل
٭ موت یا خودکشی کے بار بار خیالات آنا، خودکشی کی کوشش یا خودکشی کرنا
٭ واضح وجہ کے بغیر کمر درد، سر درد یا دیگر جسمانی تکالیف
زیادہ تر مریضوں میں یہ علامات ملازمت، تعلیم، سماجی سرگرمیوں اور تعلقات پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔ بعض افراد مسلسل ناخوش رہتے ہیں، مگر انہیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
بچے
٭ اداسی
٭ چڑچڑاپن
٭ والدین سے غیر معمولی وابستگی
٭ ضرورت سے زیادہ فکر کرنا
٭ جسم میں درد
٭ سکول جانے سے انکار
٭ وزن کم ہونا
نوجوان
٭ اداسی
٭ چڑچڑاپن
٭ خود کو بے وقعت سمجھنا
٭ غصہ
٭ تعلیمی کارکردگی میں کمی
٭ سکول سے غیر حاضری
٭ خود کو نظر انداز محسوس کرنا
٭ معمول سے زیادہ حساس ہونا
٭ شراب یا نشہ آور اشیا کا استعمال
٭ بہت زیادہ کھانا یا سونا
٭ خود کو نقصان پہنچانا
٭ پسندیدہ سرگرمیوں سے دوری
٭ لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز
بزرگ افراد
ڈپریشن بڑھاپے کا معمول کا حصہ نہیں اور اسے کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بزرگ افراد میں علامات مختلف یا کم واضح ہو سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ یادداشت کی کمزوری یا شخصیت میں تبدیلی
٭ جسمانی درد
٭ تھکن
٭ بھوک میں کمی
٭ نیند کے مسائل
٭ گھر میں رہنے کی خواہش
٭ خودکشی کے خیالات، خاص طور پر بزرگ مردوں میں
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ خود کو افسردہ محسوس کر رہے ہیں تو جلد از جلد ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کریں۔ اگر علاج کروانے میں ہچکچاہٹ ہو تو کسی قابلِ اعتماد دوست، عزیز، صحت کے ماہر یا مذہبی رہنما سے بات کریں۔
ہنگامی مدد کب حاصل کریں
اگر آپ کو لگے کہ آپ خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا خودکشی کر سکتے ہیں تو فوراً ہنگامی امدادی سروس سے رابطہ کریں۔ اس کے علاوہ:
٭ اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رابطہ کریں
٭ خودکشی سے بچاؤ کی ہیلپ لائن سے مدد لیں
٭ کسی قریبی دوست یا عزیز کو آگاہ کریں
٭ اپنے مذہبی یا سماجی رہنما سے بات کریں
وجوہات
ڈپریشن کی اصل وجہ ابھی تک مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ تاہم درج ذیل عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
٭ دماغ کی حیاتیاتی تبدیلیاں
٭ دماغی کیمیائی مادوں میں عدم توازن
٭ ہارمونز میں تبدیلی
٭ موروثی اثرات
خطرے کے عوامل
ڈپریشن اکثر نوجوانی، 20 یا 30 سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے، لیکن یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔ خواتین میں اس کی تشخیص مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ وہ علاج کے لیے نسبتاً زیادہ رجوع کرتی ہیں۔ مندرجہ ذیل عوامل اس کا سبب بن سکتے ہیں:
٭ خود اعتمادی کی کمی یا منفی سوچ
٭ جسمانی یا جنسی تشدد، کسی عزیز کی وفات یا مالی مشکلات
٭ خاندان میں ڈپریشن، بائی پولر ڈس آرڈر، شراب نوشی یا خودکشی کی ہسٹری
٭ دیگر ذہنی بیماریوں کی ہسٹری
٭ شراب یا نشہ آور اشیا کا استعمال
٭ کینسر، فالج، دائمی درد یا دل کی بیماری
٭ بعض ادویات، جیسے بلڈ پریشر یا نیند کی کچھ دوائیں
پیچیدگیاں
اگر ڈپریشن کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مزید شدید ہو سکتا ہے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ہو سکاتا ہے:
٭ موٹاپا، دل کی بیماری یا ذیابیطس
٭ جسمانی درد
٭ شراب نوشی یا منشیات کا استعمال
٭ بے چینی، گھبراہٹ یا سماجی خوف
٭ خاندانی، ازدواجی، تعلیمی یا پیشہ ورانہ مسائل
٭ سماجی تنہائی
٭ خودکشی کے خیالات یا کوشش
٭ خود کو جسمانی نقصان پہنچانا
٭ دیگر بیماریوں سے قبل از وقت موت
بچاؤ کی تدابیر
ڈپریشن سے مکمل بچاؤ کی کوئی یقینی ضمانت نہیں، تاہم یہ اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
٭ ذہنی دباؤ کو کم کریں
٭ خاندان اور دوستوں سے رابطہ رکھیں
٭ ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی علاج کروائیں
٭ ضرورت پڑنے پر طویل مدتی علاج جاری رکھیں
تشخیص
ڈاکٹر درج ذیل طریقوں سے ڈپریشن کی تشخیص کرتے ہیں۔
٭ جسمانی معائنہ
٭ خون کے ٹیسٹ، جیسے سی بی سی، یا تھائی رائیڈ کے کام کی جانچ
٭ ذہنی صحت کا تفصیلی جائزہ
٭ بے چینی کے ساتھ ڈپریشن
٭ ڈپریشن، جس کے ساتھ غیر معمولی جوش کی کیفیت بھی ہو
٭ شدید ڈپریشن، جس میں خوشی دینے والی چیزیں بھی خوشی نہ دیں
٭ ڈپریشن، جس میں خوشگوار واقعات پر وقتی طور پر موڈ بہتر ہو جائے، زیادہ بھوک لگے، زیادہ نیند آئے یا مسترد کیے جانے پر غیر معمولی حساسیت ہو
٭ ڈپریشن، جس کے ساتھ وہم ہوں یا ایسی چیزیں دکھائی یا سنائی دیں جو حقیقت میں موجود نہ ہوں
٭ ڈپریشن، جس میں جسمانی حرکات غیر معمولی حد تک سست یا بے قابو ہو جائیں
٭ حمل یا بچے کی پیدائش کے دوران یا بعد ہونے والا ڈپریشن
٭ موسم کی تبدیلی سے متعلق ڈپریشن
وہ بیماریاں جن میں ڈپریشن جیسی علامات ہوتی ہیں
بیماریاں
درج ذیل ذہنی بیماریاں بھی ڈپریشن جیسی علامات پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے درست تشخیص ضروری ہے۔
٭ بائی پولر ڈس آرڈر
سائیکلو تھائمک ڈس آرڈر، جس میں مزاج میں بار بار ہلکا اتار چڑھاؤ آتا ہے
٭ بچوں میں شدید مزاجی بے ترتیبی
٭ ماہواری سے پہلے شدید مزاجی خرابی
٭ دیگر اقسام کی افسردگی
علاج
ادویات
ڈپریشن کے علاج کے لیے مختلف اقسام کی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ ہر دوا ہر مریض کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہوتی، اس لیے مناسب دوا کا انتخاب ڈاکٹر مریض کی علامات اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔
ایس ایس آر آئیز (SSRIs): سیروٹونن بڑھانے والی ادویات
ایس این آر آئیز (SNRIs): سیروٹونن اور نورایپی نیفرین بڑھانے والی ادویات
غیر روایتی اینٹی ڈپریسنٹس: مختلف طریقے سے اثر کرنے والی ادویات
ٹرائی سائکلک اینٹی ڈپریسنٹس: پرانی مگر مؤثر ڈپریشن کی ادویات
ایم اے او آئیز (MAOIs): خاص حالات میں استعمال ہونے والی ڈپریشن کی ادویات
ممکنہ مضر اثرات اور دوا کے انتخاب کے بارے میں ہمیشہ اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔
ڈپریشن کی ادویات، ضروری ہدایات
٭ اینٹی ڈپریسنٹ دوا اچانک بند کرنا یا کئی خوراکیں چھوڑ دینا واپسی جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے ڈپریشن بھی اچانک شدید ہو سکتا ہے۔ دوا ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق بتدریج کم کریں۔
٭ اگر آپ حاملہ ہیں یا بچے کو دودھ پلا رہی ہیں تو بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات بچے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اگر حمل ٹھہر جائے یا آپ حمل کا ارادہ رکھتی ہوں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
٭ 25 سال سے کم عمر بعض بچوں، نوجوانوں اور کم عمر بالغوں میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات شروع کرنے کے ابتدائی ہفتوں یا خوراک تبدیل ہونے پر خودکشی کے خیالات یا رویوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے علاج کے دوران ڈاکٹر کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
سائیکو تھراپی
نفسیاتی علاج سے درج ذیل امور میں مدد مل سکتی ہے:
٭ منفی سوچ کو مثبت رویوں سے بدلنا
٭ تعلقات اور مسائل کو بہتر انداز میں سنبھالنا
٭ زندگی پر دوبارہ اعتماد حاصل کرنا
٭ حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کرنا
٭ مشکل حالات کا صحت مند انداز میں مقابلہ کرنا
دیگر علاج
بعض مریضوں کے لیے دماغ کو متحرک کرنے والے علاج تجویز کیے جا سکتے ہیں:
الیکٹرو کنولسیو تھراپی (ای سی ٹی): دماغ کو ہلکی برقی رو دے کر کیا جانے والا علاج
ٹرانس کرینیئل میگنیٹک اسٹی مولیشن (ٹی ایم ایس): دماغ کو مقناطیسی لہروں سے متحرک کرنے والا علاج
گھریلو نگہداشت اور طرزِ زندگی
صرف گھریلو تدابیر سے ڈپریشن کا علاج ممکن نہیں، تاہم پیشہ ورانہ علاج کے ساتھ درج ذیل اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں:
٭ علاج کا منصوبہ باقاعدگی سے جاری رکھیں
٭ ڈپریشن کے بارے میں معلومات حاصل کریں
٭ ابتدائی علامات پر نظر رکھیں
٭ شراب اور نشہ آور اشیا سے پرہیز کریں
٭ متوازن غذا کھائیں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور بھرپور نیند لیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ڈپریشن خود بخود ٹھیک ہو سکتا ہے؟
ہلکی علامات بعض اوقات خود بہتر ہو سکتی ہیں، لیکن زیادہ تر مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورے، ادویات یا نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیا ڈپریشن صرف ذہنی کمزوری ہے؟
نہیں۔ ڈپریشن ایک حقیقی طبی بیماری ہے، جس کا تعلق دماغ، ہارمونز اور دیگر حیاتیاتی عوامل سے بھی ہو سکتا ہے۔
ڈپریشن کے علاج میں کتنا وقت لگتا ہے؟
علاج کا دورانیہ ہر مریض میں مختلف ہوتا ہے۔ بعض افراد چند ماہ میں بہتر ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ کو طویل عرصے تک علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کیا ورزش ڈپریشن میں فائدہ دیتی ہے؟
جی ہاں۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، مناسب نیند اور سماجی تعاون علاج کے ساتھ مل کر علامات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist