اعضاء کا عطیہ ‘ شرعی حیثیت

اعضاء کا عطیہ ‘ شرعی حیثیت

مرنے کے بعد اعضاء کے عطیہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ کچھ سماجی اورمذہبی تصورات ہیں۔ ان کے مطابق مردہ جسم سے عضونکالنا نعش کی بےحرمتی ہے‘ اس سے مردے کو تکلیف ہوتی ہے اورقیامت کے دن جب اس کا جسم ناقص ہوگا۔ یہ تصورات درست نہیں۔ دنیا بھر کے معتبرترین اسلامی اداروں مثلاً جدہ کی اسلامی فقہ کونسل‘ اردن کی فقہ کونسل‘ الازہریونیورسٹی اورپاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل (جس میں ہرمکتب فکر کے نمائندہ اسکالرموجود ہوتے ہیں) نے فتویٰ جاری کیا ہوا ہے۔ اس کے مطابق اعضاء کی خریدو فروخت حرام جبکہ انہیں عطیہ کرنا جائز ہے۔

مسلم لاء( شریعہ ) کونسل

برطانیہ کی مسلم لاء( شریعہ ) کونسل نے قراردیا ہے کہ موت کی علامتوں کا فیصلہ کرنے کے لئے مقتدرہ ادارہ میڈیکل کا پیشہ ہے۔ موجودہ طبی علم کے مطابق برین سٹیم کا مردہ ہونا موت کی موزوں تعریف ہے۔ کونسل تسلیم کرتی ہے کہ برین سٹیم کی موت ‘ اعضاء کی پیوند کاری کے مقصد کے لئے زندگی کے خاتمے کے مترادف ہے۔ یہ کونسل شریعت کے احکام کی بنیاد پردرد میں کمی یا زندگی بچانے کے لئے اعضاء کا عطیہ دینے کی حمایت کرتی ہے۔

کونسل کے مطابق مسلمان اپنے پاس اپنا ڈونرکارڈ رکھ سکتے ہیں۔ ڈونرکارڈ موجود نہ ہو یا متوفی کی جانب سے اعضاء کے عطیہ کرنے کی خواہش کا واضح اظہارنہ ہو تو بھی متوفی کا قریب ترین عزیزدوسرے لوگوں کی جان بچانے کی غرض سے مردہ جسم سے اعضاء حاصل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ مزید برآں لازم ہے کہ اعضاء کا عطیہ کسی معاوضے یا انعام کے بغیرکیا جائے۔

نعش کی بے حرمتی

جہاں تک نعش کی بے حرمتی کی بات ہے تو تمام مذاہب میں اس کی ممانعت ہے۔ تاہم نعش کا مثلہ کرنے اوراس سے کسی کی ضرورت کے لئے عضو لینے میں فرق ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگرزہر یا انفیکشن پھیلنے کا خطرہ ہوتو مریضوں کی ٹانگیں کاٹنا پڑتی ہیں اوراس وقت اس پر اعتراض نہیں کیا جاتا۔  اضطراری کیفیت میں تو ممنوع چیزیں بھی بقدرضرورت حلال ہو جاتی ہیں۔

نعش سے عطیات لینے کے حوالے سے ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ مرد ے کو اس کے پورے اعضاء کے ساتھ  دفن کرنا چاہیے تاکہ وہ قیامت کے دن اپنی کامل حالت میں اٹھ سکے۔ اگر اس اعتراض کی پرکھ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر260 کی روشنی میں کی جائے تو یہ بالکل بے معنی ہوجاتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں

ترجمہ

اورجب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے دکھا‘ تومردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں اطمینان نہیں؟ جواب دیا کہ وہ توہے لیکن دل کی تسکین ہوجائے گی۔ فرمایا چارپرندے لو‘ ان کے ٹکڑے کر ڈالو پھرہرپہاڑپران کا ایک ایک ٹکڑا رکھ  دو۔ پھر انہیں پکارو‘وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اورجان رکھوکہ اللہ تعالیٰ غالب اورحکمتوں والا ہے۔

organ donation in the light of religion

LEAVE YOUR COMMENTS