او سی ڈی 

8

او سی ڈی

ہمارے اردگرد کچھ ایسے لوگ ہیں جنہیں صفائی کا خبط سا ہوتا ہے۔ وہ ہروقت اپنے ہا تھوں، کپڑوں، کمروں، جسم، واش روم اوربرتنوں کی صفائی میں لگے رہتے ہیں۔ بعض تومخصوص تعداد متعین کرلیتے ہیں جیسے 50 مرتبہ ہاتھ دھونا یا برتن کو10 مرتبہ پانی میں بھگونا ہے۔ اس خبط میں وہ ٹینکی کا سارا پانی استعمال کردیتے ہیں مگرپھربھی تسلی نہیں ہوتی۔ اسی طرح کچھ لوگ ایک ہی چیزکوباربارچیک کرتے ہیں۔ مثلاً تالا لگا ہے یا نہیں اورچولہا ٹھیک طرح سے بند ہوا ہے یا نہیں وغیرہ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ خوف اوروہم کا ایک مرض ہے جسے او سی ڈی کہتے ہیں۔ اس میں خیالات کے ساتھ شدید قسم کی گھبراہٹ یا بے چینی بھی ہوتی ہے۔ نتیجتاً متاثرہ فرد مخصوص ردعمل ظاہرکرتا ہے۔ اس صورت میں مریض کومعلوم ہوتا ہے کہ یہ خیالات بے معنی ہیں مگرپھربھی وہ انہیں قابونہیں کرپاتا۔

مرض کی وجوہات

خاندان میں اوسی ڈی کی موجودگی اس مرض کے امکانات کوبڑھاتی ہے۔ اسی طرح بعض والدین انتہائی سخت مزاج اوراپنے اصولوں کے شدید پابند ہوتے ہیں۔ ان کے بچوں میں اس طرح کے مسائل زیادہ دیکھنے میںآتے ہیں۔ اس کی دیگروجوہات یہ ہوسکتی ہیں

٭دماغ اورجسم کے مختلف حصوں میں رابطہ قائم رکھنے کے لئے مخصوص کیمیکلزہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک سیروٹونن بھی ہے۔ اس کی مقدارمیں کمی وہم کے عارضے کا سبب بن سکتی ہے۔

٭ذہنی نشوونما کے دوران ہم صحیح اورغلط دونوں اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔اس مرض کا سبب غلط اصول بھی ہوسکتے ہیں۔

٭فرضی خیالات کوحقیقت سمجھنے لگنا۔ مثلاً خیال آیا  ہے کہ آپ کوایڈزہوگیا ہے تو اسے حقیت تصور کرنے لگنا۔

٭شخصیت کے دیگرپہلو جیسے بہت زیادہ نازک مزاجی ، بہت زیادہ نیک رہنے کا خبط یا چھوٹی چھوٹی باتوں پرپچھتاوا ہونا بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

علاج

 سائیکاٹرسٹ ضرورت کے مطابق اضطراب یا ڈپریشن ختم کرنے والی ادویات تجویزکرتے ہیں۔ ان ادویات کے کچھ مضراثرات ہوتے ہیں لہٰذا اس سلسلے میں خودعلاجی سے بچنا چاہئے اورانہیں ڈاکٹرکی بتائی گئی مدت تک ہی استعمال کرنا چاہئے۔ ادویات کے بغیریا ان کے ساتھ تربیت یا فتہ ماہرنفسیات کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ وہ مریض کی سوچ ، ماحول اورعمل میں تبدیلی لا کرانہیں اپنی نفسیاتی مشکلات کے ساتھ نپٹنا سکھاتے ہیں۔ یہ عمل سائیکوتھیراپی کہلاتا ہے۔

اپنی مدد آپ کیسے کریں

اگروہم شدید نوعیت کا نہیں تومتاثرہ فرد اپنی کوشش سے اس پرقابو پا سکتا ہے۔ اس کے لیے اس طریقہ کارپرعمل کریں

٭ایک صفحے پرتین کالم بنائیں۔ پہلے کالم میں اپنے تمام وسوسوں اوروہموں کو لکھیں۔

٭یہ خیالات آنے کے باعث آپ جوعمل کرتے ہیں ان کی تعداد یا وقت کودوسرے کالم میں درج کریں۔ مثلاً10 مرتبہ ہاتھ دھونا یا ایک گھنٹے تک نہاتے رہنا وغیرہ۔
٭تیسرے کالم میں سوچ کرلکھیں کہ اگران خیالات کے آنے پرآپ یہ عمل نہیں کریں گے تو جو بے چینی محسوس ہوگی،اس کا درجہ کیا ہوگا مثلاً 100 فی صد،70یا 30 فی صد۔

٭مسئلے پرقابو پانے کے لئے خیال کو آنے دیں مگراس کے نتیجے میں جوعمل کرتے ہیں اس کی تعداد یا وقت کو آہستہ آہستہ کم کرتے جائیں۔
یہ عمل آغاز میں مشکل محسوس ہوتا ہے لہٰذا خود کوپرسکون کرنے کے لئے لمبا اورگہرا سانس لینا، اپنے ذہن کو کسی اورکام میں لگانا، یوگا یا ورزش کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

٭یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں،جب تک کسی بھی خیال کے ساتھ کم سے کم بے چینی محسوس نہیں ہوتی۔ایسے ہرگزرتے دن کے ساتھ آپ اپنے اندربہتری محسوس کریں گے۔ یاد رہے کہ بروقت علاج مرض کو بگڑنے اورمعمول میں خلل پیدا کرنے سے روک سکتا ہے۔

obsessive compulsive disorder, causes of OCD, treatment of OCD, Self help tips for OCD

3 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
ابراہیم
1 day ago

انتہائی مفید مضمون

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x