ڈیمینشیا

6

ڈیمینشیا

دماغ کوجسم کا بادشاہ کہا جاتا ہےکیونکہ یہ اس کے تمام افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ چارحصوں میں تقسیم ہوتا ہےجو دیگراہم افعال کے ساتھ ساتھ یادیں بنانےاورانہیں محفوظ کرنے کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اگر کسی مرض یا حادثے کے باعث انہیں نقصان پہنچے یا یہ خراب ہوجائیں توفرد کی یادداشت متاثرہوتی ہے یعنی وہ حافظے کی خرابی یا ڈٰمینشیا کا شکارہوجاتا ہے۔

 دنیا بھرمیں تیزی سے پھیلنے والے اس مرض کے شکار افراد کی تعداد تقریباً پانچ کروڑہے۔ اگرچہ پاکستان میں اس پرمصدقہ اعداد وشمار دستیاب نہیں، تاہم ذہنی صحت سے متعلق ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہاں اس کے شکارمریضوں کی تعداد10 لاکھ سے زائد ہے۔ مرض کی وجوہات میں موروثیت اورطرززندگی قابل ذکرہیں۔

اہم علامات

ابتدائی علامات مریض کے معمولات زندگی، مزاج اوررویے میں تبدیلیوں کی صورت میں ظاہرہوتی ہیں مثلاً

٭آنے جانے کےمعمول کے راستوں کو بھولنے لگنا۔

٭چیزیں رکھ کربھول جانا۔

٭حساب کتاب اورلین دین میں غلطیاں کرنے لگنا۔

٭کبھی انتہائی خوش مزاج توکبھی توقع سے ہٹ کربد مزاج ہوجانا۔

٭فیصلہ لینے میں دقت ہوسکتی ہے۔

اگرچوٹ لگنے یا کسی مرض کی صورت میں یہ علامات ظاہرہوں تو فوری طورپرمعالج سے مشورہ کرنا چاہئےتاکہ مرض کی تشخیص اور بروقت علاج ہو سکے۔ طب کے میدان میں ترقی کے باوجود اس کے علاج میں کوئی خاطرخواہ کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ چند ایسی ادویات ضرورہیں جو مرض کے ابتدائی یا درمیانی مرحلے میں فائدہ پہنچاتی ہیں یا کم ازکم خرابی کی رفتار سست کردیتی ہیں ۔

دیکھ بھال کا طریقہ

جب لوگوں کوبھولنے کی بیماری ہوجائے تودوسرے ان کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ دیگرافراد کی طرح ان مریضوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی عزت وتوقیر اسی طرح کی جائے جیسے ماضی میں کی جاتی تھی۔ اس ضمن میں رشتہ داراوردوست احباب ان کی مدد کرسکتے ہیں۔

٭ان کے سامنےسخت رویہ نہ اپنائیں۔

٭ان کی بات غور سے سنیں اوران سے باقاعدگی سے بات چیت کریں۔ انہیں احساس دلائیں کہ ان سے بات کرکے آپ فرحت محسوس کرتے ہیں۔

٭کسی اورشخص کے ساتھ مریض کے انداز، رسم ورواج اورپسند اورناپسند کا اظہارمریض کی موجودگی میں کریں تاکہ وہ اس کے مطابق ان سے برتائوکریں۔

٭ایسی سرگرمیاں تلاش کریں جو آپ اوروہ مل کر کرسکتے ہوں۔

٭انہیں ان ناموں سے پکاریں جنہیں وہ پہچانتے ہوں مثلاًدوست احباب اگر پہلے نام یا عرف سے پکاریں توانہیں اچھا لگے گا۔اسی طرح نوعمر‘ اجنبی اورجونیئرلوگ انہیں رسمی طورپرمخاطب کریں۔

٭مریض کی دیکھ بھال میں شفقت کا رویہ اختیار کریں۔ ایسے پہلو تلاش کریں جن کے ذریعے انہیں گزری ہوئی باتیں یاد آ سکیں یا وہ خود کا ان سے تعلق محسوس کر سکیں۔

٭بات کرتے وقت انہیں یہ محسوس نہ کروائیں کہ آپ ان سے کسی طرح بالاترہیں۔ان کے سامنے اس طرح بات نہ کریں گویا وہ وہاں موجود نہیں۔ اگر ان سے متعلق بات ہورہی ہے توانہیں گفتگو میں لازماً شریک کریں۔

٭ان پرتنقید یا نکتہ چینی کرنے سے گریز کریں۔

٭ان کے الفاظ کے پیچھے چھپے مطلب کو تلاش کریں،خواہ بظاہران کا کچھ مطلب نہ ہو۔

٭مریض کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے ان کی اہلیت‘ دلچسپی اورترجیحات کو مدنظررکھیں۔ یہ چیزیں ڈیمینشیا میں اضافے کے ساتھ تبدیل بھی ہوسکتی ہیں۔

Dementia, causes & symptoms of dementia, dementia patient care

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x