موٹاپا 229 بیماریوں سے منسلک ہے، جس کے باعث متوقع عمر 5 سے 11 سال تک کم ہو سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے یہ بات کراچی میں میٹابولک ہیلتھ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں ہر چار میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر عباس رضا نے کہا کہ موٹاپا محض ظاہری شکل کا مسئلہ نہیں۔ فورم میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد میں گھٹنوں کا اوسٹیو آرتھرائٹس 52 فیصد اور ہائی بلڈ پریشر 51 فیصد افراد میں پایا گیا۔ سلیپ ایپنیا کی شرح 40 فیصد اور فیٹی لیور کی 29 فیصد بتائی گئی۔
ڈاکٹر عباس رضا کے مطابق غیر فعال طرز زندگی، میٹھے مشروبات، اور زیادہ کیلوریز والی غذائیں موٹاپے کی اہم وجوہات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زائد وزن کے 75 فیصد افراد خود کو موٹاپے کا شکار نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے طرزِ زندگی میں تبدیلی اور علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
فورم میں سیمیگلوٹائڈ سمیت جدید ادویات پر بھی بات کی گئی۔ ماہرین نے کہا کہ یہ ادویات صحت بخش غذا اور ورزش کے ساتھ ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی دی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیمیگلوٹائڈ کو ’’معجزاتی انجیکشن‘‘ نہیں سمجھنا چاہیے۔