خسرے سے خطرہ

خسرہ ایک ایسی بیماری ہے جو وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ یہ زیادہ تر سردیوں کے آخرمیں یا پھر موسم بہار کے آغاز پر سر اٹھاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا وائرس اس موسم میں زیادہ متحرک ہوجاتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے پولن کی وجہ سے کھانسی بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ جب خسرے کا مریض کھانستا ہے تواس کے جراثیم ارد گرد کی اشیاء پر لگ جاتے ہیں۔ پھرجب کوئی بچہ ان اشیاء کو ہاتھ لگاتا ہے یا اس کے مریض کے قریب جاتا ہے توجراثیم ان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر بچے کو خسرے کی ویکسین نہیں لگائی گئی، اس میں وٹامن اے کی کمی ہے اور وہ جسمانی طور پر کمزور ہے تو خسرے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

مرض کی علامات

اس کی پہلی علامت بخار ہے جو جراثیم کے جسم میں منتقل ہونے کے 10 دن بعد ہوتا ہے اور چار دن تک برقرار رہتا ہے۔ اس کے بعد ابتدائی طور پر کھانسی ہوتی ہے جس کے بعد ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے۔ اس کے کچھ دن بعد چہرے اور گردن پر سرخ دانے نمودار ہونے لگتے ہیں جو تین دنوں میں ہاتھوں اور ٹانگوں سمیت پورے جسم پرپھیل جاتے ہیں۔ یہ دانے پانچ دن تک رہنے کے بعد رفتہ رفتہ کم ہونے لگتے ہیں۔ خسرے کے جراثیم مریض کے جسم کو چھوڑنے کے بعد چار دن تک بیماری پھیلا سکتے ہیں۔

خسرے کی پیچیدگیاں

اگرخسرے کا بروقت علاج نہ کرایا جائے تو مریضوں کے کان میں انفیکشن ہو جاتا ہے،اسہال یا پاخانے لگ جاتے ہیں اورنمونیا ہوسکتا ہے۔
مزید برآں بعض اوقات دماغ کی سوزش بھی ہوسکتی ہے۔

مرض شدت اختیار کرلے تو دماغ کو شدید نقصان ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں موت بھی ہوجاتی ہے۔ جہاں اس کی ویکسین مؤثر طور پرلگائی گئی‘ وہاں اس کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات میں 84 فی صدکمی واقع ہوئی ہے۔

حفاظتی تدابیر

٭بچوں کو خسرے کی ویکسین لگوائیں۔

٭اگر علامات ظاہر ہوں تو بلا تاخیر ڈاکٹر کے پاس جائیں اور معائنہ کروائیں۔

٭ اگربچے کو آرام کا مشورہ دیا گیا ہو تو اس کا بستر آرام دہ ہوناچاہئے۔

٭بچے کو زیادہ مقدار میں پانی‘یخنی اور وٹامن اے سے بھرپور خوراک دیں۔

٭جن دنوں بچہ اس مرض کا شکار ہو‘ ان دنوں بچے کو سکول نہ بھیجیں۔ گھر میں بھی اسے دیگر بچوں سے الگ رکھیں تاکہ وہ اس سے محفوظ رہیں۔

٭ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی دوا مثلاً ڈسپرین وغیرہ مت دیں۔

خسرے سے بچاؤ

٭خسرے کی ویکسین کا پہلا ٹیکہ نو ماہ جبکہ دوسرا 15ماہ کی عمر میں لگتا ہے جوسرکاری ہسپتالوں میں مفت دستیاب ہے۔

٭خسرے‘کن پیڑے اورروبیلا(جرمن خسرہ) سے تحفظ ایک ہی ویکسین سے حاصل ہو سکتا ہے۔

٭پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک بچے کے جسم میں اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں جو اسے خسرے سے بچاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ تحفظ ویکسین کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔

٭جس بچے کو ایک مرتبہ خسرہ ہو جائے اوروہ اس سے صحت یاب ہو جائے،اسے اس مرض سے عمربھر کے لئے تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔

٭بچے کو وٹامن اے کے قطرے ضرور پلوائیں۔

MMR, Measles, how to prevent measles, khasra, children issues, child health

Vinkmag ad

Read Previous

گاجر کی کھیر

Read Next

بلڈ پریشر چیک کرنے کا درست طریقہ

Leave a Reply

Most Popular