خسرے سے خطرہ

0

خسرے سے خطرہ

خسرہ ایک ایسی بیماری ہے جو وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ یہ زیادہ تر سردیوں کے آخرمیں یا پھر موسم بہار کے آغاز پرسر اٹھاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا وائرس اس موسم میں زیادہ متحرک ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے پولن کی وجہ سے کھانسی بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ جب خسرے کا مریض کھانستا ہے تواس کے جراثیم ارد گرد کی اشیاء پر لگ جاتے ہیں۔ پھرجب کوئی بچہ ان اشیاء کو ہاتھ لگاتا ہے یا اس کے مریض کے قریب جاتا ہے توجراثیم ان تک پہنچ جاتے ہیں۔

مرض کی علامات

اس کی پہلی علامت بخار ہے جو جراثیم کے جسم میں منتقل ہونے کے10دن بعد ہوتا ہے اورچار دن تک برقراررہتا ہے۔ اس کے بعد ابتدائی طورپرکھانسی ہوتی ہے جس کے بعد ناک اورآنکھوں سے پانی بہتا ہے۔ اس کے کچھ دن بعد چہرے اور گردن پر سرخ دانے نمودار ہونے لگتے ہیں جو تین دنوں میں ہاتھوں اور ٹانگوں سمیت پورے جسم پرپھیل جاتے ہیں۔ یہ دانے پانچ دن تک رہنے کے بعد رفتہ رفتہ کم ہونے لگتے ہیں۔ خسرے کے جراثیم مریض کے جسم کو چھوڑنے کے بعد چار دن تک بیماری پھیلا سکتے ہیں۔

خطرے کی زد میں کون

مندرجہ ذیل صورتوں میں خسرے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں

٭اگربچے کو ویکسین نہیں لگائی گئی

٭اگربچے میں وٹامن اے کی کمی ہے

٭اگربچہ جسمانی طور پر کمزور ہے

خسرے کی پیچیدگیاں

اگرخسرے کا بروقت علاج نہ کرایا جائے تو مریضوں کے کان میں انفیکشن ہو جاتا ہے،اسہال یا پاخانے لگ جاتے ہیں اورنمونیا ہوسکتا ہے۔
مزید برآں بعض اوقات دماغ کی سوزش بھی ہو سکتی ہے۔ اگرمرض شدت اختیار کرلے تودماغ کو شدید نقصان ہوتا ہےاوربعض صورتوں میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ جہاں اس کی ویکسین موثر طور پرلگائی گئی‘ وہاں اس کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات میں 84فی صدکمی واقع ہوئی ہے۔

حفاظتی تدابیر

٭بچوں کو ویکسین لگوائیں۔

٭اگر علامات ظاہر ہوں توبلا تاخیرڈاکٹرکے پاس جائیں اوراپنا طبی معائنہ کروائیں۔

٭ اگربچے کو آرام کا مشورہ دیا گیا ہو تو اس کا بستر آرام دہ ہوناچاہئے۔

٭بچے کوزیادہ مقدارمیں پانی‘یخنی اور وٹامن اے سے بھرپور خوراک دیں۔

٭جن دنوں بچہ اس مرض کا شکار ہو‘ ان دنوں بچے کو سکول نہ بھیجیں۔ گھر میں بھی اسے دیگر بچوں سے الگ رکھیں تاکہ وہ اس سے محفوظ رہیں۔

٭ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی دوا مثلاً ڈسپرین وغیرہ مت دیں۔

خسرے سے بچاؤ

٭خسرے کی ویکسین کا پہلا ٹیکہ نو ماہ جبکہ دوسرا 15ماہ کی عمر میں لگتا ہے جوسرکاری ہسپتالوں میں مفت دستیاب ہے۔

٭خسرے‘کن پیڑے اورروبیلا(جرمن خسرہ) سے تحفظ ایک ہی ویکسین سے حاصل ہو سکتا ہے۔

٭پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک بچے کے جسم میں اینٹی باڈیزموجود ہوتی ہیں جو اسے خسرے سے بچاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ تحفظ ویکسین کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔

٭جس بچے کو ایک مرتبہ خسرہ ہو جائے اوروہ اس سے صحت یاب ہو جائے،اسے اس مرض سے عمربھر کے لئے تحفظ حاصل ہوجاتا ہے۔

٭بچے کووٹامن اے کے قطرے ضرور پلوائیں۔

MMR, Measles, Causes, risk factors, symptoms, complications, precautions

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x