Vinkmag ad

خسرہ کیسی بیماری ہے؟

خسرہ وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے۔ یہ زیادہ تر سردیوں کے آخر میں یا پھر موسم بہار کے آغاز پر سر اٹھاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا وائرس اس موسم میں زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پولن کی وجہ سے کھانسی بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب ہے۔

علامات اور ان کی ترتیب

خسرے کی پہلی علامت بخار ہے۔ بخار جراثیم کے جسم میں منتقل ہونے کے 10 دن بعد ہوتا ہے اور چار دن تک برقرار رہتا ہے۔

٭ اس کے بعد ابتدائی طور پر کھانسی ہوتی ہے۔

٭ اس کے ساتھ ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے۔

٭ اس کے کچھ دن بعد چہرے اور گردن پر سرخ دانے نمودار ہونے لگتے ہیں۔

٭ یہ دانے تین دنوں میں ہاتھوں اور ٹانگوں سمیت پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔

٭ دانے پانچ دن تک رہنے کے بعد رفتہ رفتہ کم ہونے لگتے ہیں۔

٭ خسرے کے جراثیم مریض کے جسم کو چھوڑنے کے بعد چار دن تک بیماری پھیلا سکتے ہیں۔

مرض کیسے پھیلتا ہے

جب خسرے کا مریض کھانستا ہے تو اس کے جراثیم اردگرد کی اشیاء پر لگ جاتے ہیں۔ جب کوئی بچہ ان اشیاء کو ہاتھ لگاتا ہے یا مریض کے قریب جاتا ہے تو جراثیم اس تک پہنچ جاتے ہیں۔

خطرہ بڑھانے والے عوامل

ویکسین نہ لگنا

اگر آپ نے خسرہ کی ویکسین نہیں لگوائی تو آپ کو یہ مرض ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

بیرون ملک سفر

اگر آپ ان ممالک کا سفر کرتے ہیں جہاں خسرہ زیادہ عام ہے تو آپ کو خسرہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔

وٹامن اے کی کمی

اگر آپ کی خوراک میں وٹامن اے مناسب مقدار میں شامل نہیں تو آپ خطرے کی زد میں ہیں۔ ایسے میں آپ میں خسرہ کی شدید علامات اور پیچیدگیوں کا امکان زیادہ ہے۔

مرض کی تشخیص

گال کی اندرونی لائنگ پر ایک چھوٹے، نیلاہٹ مائل سفید دھبے سے اس کی شناخت ہو جاتی ہے۔ وہ آپ سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ بچے کو خسرہ کی ویکسین لگی ہے یا نہیں۔ کیا آپ نے بیرون ملک سفر کیا ہے؟ کیا آپ کا کسی ایسے شخص سے رابطہ ہوا جسے ریش یا بخار تھا؟

اس کی علامات بعض دیگر بیماریوں میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں خون کے ایک ٹیسٹ سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ خسرہ وائرس کی تصدیق گلے کے سویب یا  پیشاب کے نمونے سے بھی ہو سکتی ہے۔

بیماری کا علاج

خسرہ ہونے کے بعد اس کا کوئی خاص علاج نہیں۔ زیادہ تر علاج علامات کو دور کرنے تک محدود ہے۔ تاہم، ان افراد کے لیے کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں جن میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت موجود نہیں۔

وائرس منتقلی کے بعد ویکسین

کمزور قوت مدافعت رکھنے والے اور شیر خوار بچوں کو خسرہ وائرس کی منتقلی کے 72 گھنٹوں کے اندر ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ اگر خسرہ اس کے باوجود بڑھے تو اس کی علامات ہلکی ہوتی ہیں اور یہ کم وقت تک رہتا ہے۔

اینٹی باڈیز کا انجیکشن

حاملہ خواتین، شیر خوار بچوں اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والوں کو پروٹین (اینٹی باڈیز) کا انجکشن لگ سکتا ہے۔ اسے امیون سیرم گلوبلین کہتے ہیں۔ اگر انجیکشن وائرس منتقلی کے بعد چھ دنوں کے اندر لگایا جائے تو یہ اینٹی باڈیز خسرہ کو روک سکتی ہیں یا علامات کو شدت کم ہو جاتی ہے۔

ادویات

٭ انہیں بخار کم کرنے والی ادویات دی جا سکتی ہیں۔

٭ بچوں یا نوعمروں کو اسپرین دینے میں احتیاط کریں۔ اگرچہ تین سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو اسپرین دی جا سکتی ہے لیکن چکن پاکس سے صحت یاب بچوں کو کبھی اسپرین نہیں دینی چاہیے۔ ورنہ وہ ایک نایاب مرض ریئز سینڈروم (Reye’s syndrome) کے شکار ہو سکتے ہیں۔

٭ اگر بچے کو خسرہ کے دوران بیکٹیریل انفیکشن (نمونیا یا کان کا انفیکشن) ہو تو ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک تجویز کر سکتا ہے۔

٭ وٹامن اے کی کمی کے شکار بچوں میں خسرہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ وٹامن اے دینے سے انفیکشن کی شدت کم ہو سکتی ہے۔

خسرے کی پیچیدگیاں

خسرہ کی وجہ سے یہ پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں:

ڈائیریا اور الٹیاں

خسرہ کی وجہ سے ڈائیریا اور الٹیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم سے بہت زیادہ پانی ضائع ہو سکتا ہے۔

کان کا انفیکشن

خسرہ کی سب سے عام پیچیدگیوں میں سے ایک کان کا بیکٹیریل انفیکشن ہے۔

سانس اور گلے کے مسائل

خسرہ سانس کی نالی میں جلن اور سوجن کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ برونکائٹس اور ساؤنڈ باکس کے انفیکشن (لیرینجائٹس) کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

نمونیا

خسرہ پھیپھڑوں میں انفیکشن (نمونیا) کا سبب بن سکتا ہے۔ کمزور قوت مدافعت والے افراد کو خطرناک قسم کا نمونیا ہو سکتا ہے۔ یہ بعض اوقات موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

دماغ کی سوزش

خسرہ میں مبتلا ہر 1,000 میں سے تقریباً 1 افراد کو انسیفلائٹس ہو سکتا ہے۔ یہ دماغ کی سوزش ہے جو کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ انسیفلائٹس خسرہ کے فوراً بعد ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کئی مہینوں تک بھی نہ ہو۔ انسیفلائٹس سے دماغ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حمل کے مسائل

حاملہ خواتین کو خسرہ سے بچنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مرض بچے کی قبل از وقت اور کم وزن پیدائش کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے رحم مادر میں بچے کی موت بھی ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر سے رابطہ کب ضروری

اگر آپ یا آپ کے بچے کی جلد پر خسرے کی طرح نظر آنے والے دانے ہیں تو بلا تاخیر متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ بچے کو ڈے کیئر یا سکول بھیجنے سے پہلے اس کی ویکسین ضرور لگوائیں۔

حفاظتی تدابیر

٭ بچوں کو خسرے کی ویکسین لگوائیں۔

٭ اگر علامات ظاہر ہوں تو بلا تاخیر ڈاکٹر کے پاس جائیں اور معائنہ کروائیں۔

٭ بچے کو زیادہ مقدار میں پانی، یخنی اور وٹامن اے سے بھرپور خوراک دیں۔

٭ جن دنوں بچہ اس مرض کا شکار ہو، ان دنوں اسے سکول نہ بھیجیں۔ گھر میں بھی اسے دیگر بچوں سے الگ رکھیں۔

٭ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی دوا مثلاً ڈسپرین وغیرہ مت دیں۔

٭ پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک بچے کے جسم میں اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو اسے خسرے سے بچاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ تحفظ ویکسین کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔ خسرے،کن پیڑے اور روبیلا (جرمن خسرہ) سے تحفظ ایک ہی ویکسین سے حاصل ہو جاتا ہے۔ خسرے کی ویکسین کا پہلا ٹیکہ نو ماہ جبکہ دوسرا 15 ماہ کی عمر میں لگتا ہے۔ یہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت دستیاب ہے۔ بچوں کو یہ ضرور لگوائین۔

٭ بچے کو وٹا من اے کے قطرے ضرور پلوائیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

کانگو وائرس سے ہلاکتیں، قربانی کے جانوروں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ

Read Next

خانیوال میں خسرے کی وبا، کبیر والا میں 6 بچے جاں بحق

Leave a Reply

Most Popular