پھیپھڑوں کے کینسر کی سکریننگ (Lung cancer screening) کا مقصد زیادہ خطرے والے افراد میں کینسر کی بروقت شناخت کرنا ہے۔ اس کے لیے کم مقدار والا کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی (ایل ڈی سی ٹی) سکین استعمال ہوتا ہے۔ ابتدائی تشخیص سے علاج کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
سکریننگ کا مقصد پھیپھڑوں کے کینسر کو ابتدائی مرحلے میں پکڑنا ہے، اس لیے کہ اس مرحلے میں علاج ممکن ہوتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے تک بیماری اکثر آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سکریننگ سے اموات کم ہوتی ہیں۔
سکریننگ اُن افراد کے لیے ہے جن میں خطرے کے عوامل زیادہ ہوں۔ مثلاً:
٭ بڑی عمر کے افراد جو سگریٹ نوشی کرتے ہوں یا کرتے رہے ہوں۔ عام طور پر 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
٭ طویل عرصے تک زیادہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو بھی سکریننگ کرانی چاہیے۔ اگر سگریٹ نوشی کی تاریخ 20 پیک سال (Pack years) یا اس سے زیادہ ہو تو سکریننگ کی جاتی ہے۔ پیک سال سگریٹ نوشی کی مقدار mاپنے کا ایک طبی پیمانہ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کسی شخص نے زندگی میں کتنی سگریٹ نوشی کی ہے اور خطرہ کتنا ہے۔ پیک سال کا حساب روزانہ پیکس کی تعداد کو سالوں سے ضرب دے کر لگایا جاتا ہے۔
٭ وہ افراد جنہوں نے سگریٹ چھوڑ دی ہو۔ اگر کوئی شخص گزشتہ 15 سال کے اندر سگریٹ چھوڑ چکا ہو تو بھی سکریننگ پر غور کیا جاتا ہے، اس لیے کہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
٭ سکریننگ کا فائدہ صحت مند افراد میں زیادہ ہوتا ہے۔ سنگین بیماری کی صورت میں فائدہ کم ہو سکتا ہے۔
٭ دیگر خطرے والے عوامل رکھنے والے افراد میں پھیپھڑوں کی طویل مدتی بیماریاں شامل ہیں۔ فیملی ہسٹری بھی ایک اہم عامل ہے۔
٭ سکریننگ کی عمر پر طبی ماہرین متفق نہیں ہیں۔ عام طور پر اسے فائدہ ہونے تک جاری رکھا جاتا ہے۔ اگر صحت کمزور ہو جائے تو سکریننگ بند کی جاتی ہے۔
خطرات
سکریننگ کے کچھ ممکنہ نقصانات بھی ہیں۔
٭ ایل ڈی سی ٹی میں شعاعیں استعمال ہوتی ہیں، اس لیے اس کا جسم پر اثر ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ مقدار عام سی ٹی سکین کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے۔
٭ اگر مشکوک علامت ملے تو مزید سکین یا بائیوپسی ہو سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ اضافی خطرات رکھتے ہیں۔
٭ کچھ کینسر بہت آہستہ بڑھتے ہیں، اور بعض اوقات کبھی نقصان نہیں دیتے۔ ان کی تشخیص کے بعد علاج تجویز ہو سکتا ہے، جو بعض صورتوں میں غیر ضروری بھی ہو سکتا ہے۔
٭ کبھی موجود کینسر سکین میں نظر نہیں آتا۔ اس سے غلط منفی نتیجہ آ سکتا ہے۔
٭ سگریٹ نوش افراد میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
تیاری کیسے کریں
٭ اگر سانس کا انفیکشن ہو تو ڈاکٹر کو بتائیں۔
٭ جسم سے تمام دھاتیں ہٹا دیں۔ ان میں زیورات اور عینک بھی شامل ہیں۔
٭ دھاتی بٹن والے کپڑے نہ پہنیں۔ انڈر ویئر یا برا سے بھی گریز کریں۔ ضرورت پر گاؤن دیا جاتا ہے۔
طریقہ کار
سکریننگ کے دوران
مریض کو میز پر لٹایا جاتا ہے جبکہ ٹیکنیشن دوسرے کمرے سے نگرانی کرتا ہے۔
٭ مریض کو ساکت رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ میز مشین سے گزرتی ہے، اور تصاویر بنائی جاتی ہیں۔ کبھی سانس روکنے کو بھی کہا جاتا ہے۔
٭ پورا عمل چند منٹ لیتا ہے، جبکہ اصل سکین ایک منٹ سے کم ہوتا ہے۔
سکریننگ کے بعد
مریض فوراً معمول کی سرگرمی شروع کر سکتا ہے۔ تصاویر ماہر ریڈیالوجسٹ دیکھتا ہے۔
نتائج
٭ اگر کوئی مسئلہ سامنے نہ آئے تو اگلے سال دوبارہ سکریننگ کی جاتی ہے۔
٭ پھیپھڑوں میں نوڈولز کی موجودگی سامنے آنا۔ یہ چھوٹے دھبے یا گٹھلیاں ہوتی ہیں جو اکثر غیر سرطانی ہوتی ہیں۔ ان کی زیادہ تر صرف نگرانی کی جاتی ہے۔ اگر نوڈولز بڑھے تو مزید ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
٭ ایمفیسیما اور شریانوں کی سختی سامنے آ سکتی ہے۔ اس بنیاد پر مزید ٹیسٹ یا علاج کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pulmonologist