Vinkmag ad

گردے کی پیوندکاری

Four hands holding kidney-shaped paper symbols, depicting kidney transplant, organ donation, and hope for patients with kidney failure.

گردوں کا بنیادی کام خون کو فلٹر کرنا اور فاضل مادوں، اضافی نمکیات اور زائد پانی کو پیشاب کی صورت میں جسم سے خارج کرنا ہے۔ جب گردے اپنی فلٹرنگ کی صلاحیت کھو دیتے ہیں تو جسم میں فاضل مادے اور اضافی پانی جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے اور گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ گردے کی پیوندکاری (Kidney transplant) ایسا عمل ہے جس میں صحت مند گردہ ایسے شخص کے جسم میں لگایا جاتا ہے جس کے گردے مؤثر طریقے سے کام کرنا چھوڑ چکے ہوں۔

کیوں کی جاتی ہے

کڈنی فیلیئر کی صورت میں عمر بھر ڈائلیسز کروانے کے مقابلے میں گردے کی پیوندکاری کو اکثر بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے فوائد یہ ہیں:

٭ بہتر معیارِ زندگی

٭ موت کا کم خطرہ

٭ خوراک پر نسبتاً کم پابندیاں

٭ علاج کی کم لاگت

کچھ عوامل کسی شخص کو پیوندکاری کے لیے نااہل بنا سکتے ہیں، مثلاً:

٭ بہت زیادہ عمر

٭ دل کی شدید بیماری

٭ کینسر یا اس کا حالیہ علاج

٭ ڈیمنشیا یا ایسی ذہنی بیماری جو قابو میں نہ ہو

٭ شراب نوشی یا منشیات کا استعمال

٭ کوئی بھی ایسی حالت جو سرجری یا بعد از پیوندکاری ادویات کے محفوظ استعمال میں رکاوٹ بنے

خطرات

گردے کی پیوندکاری گردوں کی شدید بیماری اور ناکامی کا مؤثر علاج ہے، تاہم یہ مکمل شفا نہیں۔ بعض صورتوں میں گردوں کی بنیادی بیماری پیوندکاری کے بعد دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہے۔

پیوندکاری سے وابستہ خطرات میں سرجری کے دوران یا بعد کی پیچیدگیاں، عطیہ شدہ گردے کا مسترد ہونا اور ایسی ادویات کے مضر اثرات شامل ہیں جو جسم کو نئے گردے کے خلاف ردعمل سے بچانے کے لیے دی جاتی ہیں۔

پیچیدگیاں

گردے کی پیوندکاری میں درج ذیل پیچیدگیوں کا خطرہ موجود ہوتا ہے:

٭ خون کے لوتھڑے بننا یا خون بہنا

٭ گردے کو مثانے سے جوڑنے والی نالی (یوریٹر) میں رساؤ یا رکاوٹ

٭ انفیکشن

٭ عطیہ شدہ گردے کی ناکامی یا مسترد ہونا

٭ عطیہ شدہ گردے کے ذریعے منتقل ہونے والا انفیکشن یا سرطان

٭ دل کا دورہ، فالج یا موت

مسترد ہونے سے بچانے والی ادویات کے مضر اثرات

پیوندکاری کے بعد مریض کو ایسی ادویات لینا پڑتی ہیں جو مدافعتی نظام کو نئے گردے کے خلاف ردعمل سے روکتی ہیں۔ ان ادویات کے ممکنہ مضر اثرات میں شامل ہیں:

٭ ہڈیوں کا کمزور ہونا یا نقصان پہنچنا

٭ ذیابیطس

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ کولیسٹرول میں اضافہ

دیگر ممکنہ اثرات یہ ہیں:

٭ سرطان، خصوصاً جلد کے سرطان اور لمفوما کا بڑھا ہوا خطرہ

٭ انفیکشن

٭ جسم میں سوجن

٭ وزن میں اضافہ

٭ مہاسے

پروسیجر کی تیاری

عمومی جانچ

پیوندکاری مرکز کے انتخاب کے بعد مریض کی مکمل جانچ کی جاتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ اس عمل کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔ اس جانچ میں عموماً شامل ہوتے ہیں:

٭ مکمل جسمانی معائنہ

٭ ایکس رے، ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین

٭ خون کے مختلف ٹیسٹ

٭ نفسیاتی جائزہ

٭ دیگر ضروری طبی معائنے

اہم ٹیسٹ

گردہ عطیہ کرنے والا شخص زندہ یا فوت شدہ، رشتہ دار یا غیر رشتہ دار ہو سکتا ہے۔ عطیہ شدہ گردے کی موزونیت جانچنے کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:

٭ بلڈ گروپ ٹیسٹ

٭ ٹشو کی مطابقت کا ٹیسٹ (ایچ ایل اے ٹائپنگ)

٭ کراس میچ ٹیسٹ۔ منفی کراس میچ بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں جسم کے نئے گردے کو مسترد کرنے کا امکان کم ہوتا ہے

صحت مند رہنا

پیوندکاری کے انتظار کے دوران مریض کو اپنی صحت برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ بہتر جسمانی حالت کامیاب سرجری اور تیز صحت یابی کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے:

٭ تمام ادویات مقررہ ہدایات کے مطابق استعمال کریں

٭ خوراک اور ورزش سے متعلق طبی مشوروں پر عمل کریں

٭ تمام طبی ملاقاتوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں

٭ صحت میں کسی بھی اہم تبدیلی سے پیوندکاری ٹیم کو فوراً آگاہ کریں

٭ ہسپتال جانے کے لیے ضروری سامان پہلے سے تیار رکھیں

سرجری کے دوران

٭ گردے کی پیوندکاری عمومی بے ہوشی کی حالت میں کی جاتی ہے

٭ سرجن پیٹ کے نچلے حصے میں چیرا لگا کر نیا گردہ جسم میں نصب کرتا ہے

٭ پرانے گردے عموماً اپنی جگہ رہتے ہیں، جب تک وہ کوئی پیچیدگی پیدا نہ کر رہے ہوں

٭ نئے گردے کی خون کی نالیاں مریض کی خون کی نالیوں سے جوڑی جاتی ہیں

٭ یوریٹر کو مثانے سے منسلک کر دیا جاتا ہے

سرجری کے بعد

پیوندکاری کے بعد مریض کو عموماً چند دن سے ایک ہفتے تک ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے تاکہ ممکنہ پیچیدگیوں کی نگرانی کی جا سکے۔

زیادہ تر صورتوں میں نیا گردہ فوراً پیشاب بنانا شروع کر دیتا ہے، تاہم بعض اوقات اسے فعال ہونے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ اس دوران عارضی ڈائلیسز کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

زخم کے مقام پر درد یا حساسیت معمول کی بات ہے۔ اکثر مریض آٹھ ہفتوں کے اندر معمول کی سرگرمیوں اور ملازمت پر واپس آ جاتے ہیں، تاہم زخم مکمل بھرنے تک بھاری وزن اٹھانے سے گریز ضروری ہے۔

ہسپتال سے واپسی کے بعد بھی چند ہفتوں تک قریبی طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے تاکہ نئے گردے کی کارکردگی اور جسم کے ردعمل کا جائزہ لیا جا سکے۔

٭ پیوندکاری کے بعد مریض کو زندگی بھر مختلف ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں

نتائج

کامیاب پیوندکاری کے بعد نیا گردہ خون کو مؤثر انداز میں فلٹر کرتا ہے اور عموماً ڈائلیسز کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

نئے گردے کو مسترد ہونے سے بچانے کے لیے مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات مسلسل لینا ضروری ہے۔ چونکہ یہ ادویات انفیکشن کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں، اس لیے معالج اضافی حفاظتی ادویات بھی تجویز کر سکتا ہے۔

ادویات کا استعمال ترک کرنا یا ان میں وقفہ دینا نئے گردے کے مسترد ہونے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے تمام ادویات مقررہ ہدایات کے مطابق لینا انتہائی ضروری ہے۔

پیوندکاری کے بعد جلد کے سرطان اور دیگر اقسام کے سرطان کی باقاعدہ سکریننگ بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urology

Vinkmag ad

Read Previous

دل کے والو کی سرجری

Read Next

پھیپھڑوں کے کینسر کی سکریننگ

Leave a Reply

Most Popular