Vinkmag ad

اینڈوسکوپک سلیو گیسٹروپلاسٹی: بغیر کٹ کے ویٹ لاس پروسیجر

A surgeon explaining Endoscopic Sleeve Gastroplasty procedure to a patient

اینڈوسکوپک سلیو گیسٹروپلاسٹی (Endoscopic sleeve gastroplasty) وزن کم کرنے کا ایک پروسیجر ہے جس میں سرجری کے روایتی کٹ شامل نہیں ہوتے۔ اس طریقے میں ایک اینڈوسکوپ کے ذریعے سلائی کرنے والا آلہ گلے سے معدے تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ معدے کو اندرونی طور پر سلائی کر کے اس کا حجم کم کر دیتا ہے۔

یہ طریقہ طرزِ زندگی میں مستقل تبدیلی کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ مریض کو اپنی غذا بہتر بنانی ہوتی ہے، اور صحت مند عادات اپنانی ہوتی ہیں۔ طویل مدتی کامیابی کے لیے باقاعدہ ورزش ضروری ہوتی ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

یہ طریقہ وزن کم کرنے اور موٹاپے سے جڑی سنگین بیماریوں کے خطرات کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جن میں شامل ہیں:

٭ دل کی بیماری اور سٹروک

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ کولیسٹرول کی زیادتی

٭ جوڑوں کا درد (اوسٹیوآرتھرائٹس)

٭ جگر میں چربی جمع ہونا

٭ میٹابولک ڈس فنکشن سے جڑا آسٹیٹو ہیپاٹائٹس

٭ سلیپ ایپنیا

٭ ٹائپ 2 ذیابیطس

کون کروا سکتا ہے

اینڈوسکوپک سلیو گیسٹروپلاسٹی ان افراد کے لیے مناسب ہو سکتی ہے:

٭ جن کا باڈی ماس انڈیکس 30 سے زیادہ ہو

٭ جو طرزِ زندگی میں تبدیلی سے وزن برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہوں

٭ جو روایتی بیریاٹرک سرجری کے امیدوار نہ ہوں یا اسے نہ چاہتے ہوں

یہ طریقہ ہر شخص کے لیے نہیں ہوتا۔ مریض کی مکمل سکریننگ کی جاتی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ علاج اس کے لیے فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کے ساتھ مریض کا صحت مند طرزِ زندگی اپنانے، بیہیوریل تھراپی لینے اور باقاعدہ فالو اپ پر آمادہ ہونا ضروری ہے۔

یہ طریقہ ان افراد کے لیے مناسب نہیں جن کو بڑے ہائیٹل ہرنیا یا معدے سے خون بہنے والی بیماریاں مثلاً پیپٹک السر ہو۔

خطرات اور نتائج

یہ طریقہ نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ پروسیجر کے بعد چند دن تک درد اور متلی ہو سکتی ہے، جو عام طور پر ادویات سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ یہ طریقہ مستقل ہے لیکن ضرورت پڑنے پر اسے دوسری بیریاٹرک سرجری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ساتھ، عام طور پر 12 سے 24 ماہ میں جسمانی وزن کا تقریباً 18 سے 20 فیصد تک کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

تیاری

اگر مریض اس طریقہ کے لیے اہل ہو تو طبی ٹیم اسے مکمل تیاری کی ہدایات فراہم کرتی ہے۔ اس میں لیبارٹری ٹیسٹ، طبی معائنے، کھانے پینے اور ادویات سے متعلق ہدایات شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات ورزش کا باقاعدہ پروگرام شروع کرنے کی بھی ہدایت دی جاتی ہے۔

پروسیجر

یہ عمل اینڈوسکوپی یونٹ میں آؤٹ پیشنٹ بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مریض کو جنرل اینستھیزیا کے تحت نیند جیسی کیفیت میں رکھا جاتا ہے۔

ایک لچکدار اینڈوسکوپ گلے کے ذریعے معدے تک پہنچائی جاتی ہے جس میں کیمرہ اور سلائی کرنے والا آلہ موجود ہوتا ہے۔ اینڈوسکوپ کے ذریعے معدے میں سلائیاں لگائی جاتی ہیں جو اس کی ساخت کو تبدیل کر کے اسے ٹیوب جیسی شکل دے دیتی ہیں۔ اس سے معدہ جلد بھرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے اور خوراک کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ یہ عمل عموماً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔

پروسیجر کے بعد

پروسیجر کے بعد مریض ریکوری روم میں ہوتا ہے جہاں طبی عملہ اس کی نگرانی کرتا ہے۔ زیادہ تر افراد اسی دن گھر جا سکتے ہیں، جبکہ کچھ کو رات بھر رکنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ عموماً ایسا کم ہی ہوتا ہے۔

ابتدا میں چند گھنٹوں تک کھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد مائع غذا شروع کی جاتی ہے جو کم از کم دو ہفتے جاری رہتی ہے۔ بعد میں نیم ٹھوس اور پھر باقاعدہ صحت بخش غذا دی جاتی ہے۔

نتائج

وزن میں کمی کے نتائج کا تعلق مریض کے عزم سے ہوتا ہے۔ جو افراد مکمل پروگرام پر عمل کرتے ہیں وہ پہلے سال میں تقریباً 10 سے 15 فیصد جسمانی وزن کم کر سکتے ہیں۔

یہ طریقہ موٹاپے سے جڑی کئی بیماریوں میں بہتری لا سکتا ہے، جن میں شامل ہیں:

٭ دل کی بیماری اور فالج

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ شدید سلیپ ایپنیا

٭ ٹائپ 2 ذیابیطس

٭ معدے کی تیزابیت

٭ اوسٹیو آرتھرائٹس سے ہونے والا جوڑوں کا درد

اہم نکتہ

کبھی کبھی مکمل کامیابی کے باوجود بھی وزن دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب مریض صحت مند طرزِ زندگی کو برقرار نہیں رکھتا۔ دوبارہ وزن بڑھنے سے بچنے کے لیے مستقل طور پر صحت بخش غذا، باقاعدہ ورزش اور طبی ہدایات پر عمل ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist

Vinkmag ad

Read Previous

الیکٹرو مایوگرافی: اعصاب اور پٹھوں کا ٹیسٹ

Read Next

دل کے والو کی سرجری

Leave a Reply

Most Popular